کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در مدح بادشاہ جم جاہ، خاور سپاہ، شاہ عالم بادشاہ
جو پہنچی قیامت تو آہ و فغاں ہےمرے ہاتھ میں دامن آسماں ہے
کوئی آج سے ہے فلک مدعی کیاہمیشہ مرے حال پر مہرباں ہے
کدورت بیاں کیا کروں میں کہے تویہ دل گرد کلفت کا یک کارواں ہے
جو روتا بھی ہوں میں غبار دلی سےتو آنسو کا سیلاب ریگ رواں ہے
جو دل میں ہے آتا ہے کہنے میں بھی وہزباں میری دل کی مگر ترجماں ہے
عجب مخمصے میں ہوں جور فلک سےحوادث کے تیروں کا سینہ نشاں ہے
سحر جام خوں ہے جو منھ دھو چکوں ہوںیہ مفلوک ایسے کے گھر میہماں ہے
رمق ایک جی ہے سو ایک آدھ دم کااسے قصد اب تک مرا امتحاں ہے
اس احوال کا رنگ رو بس ہے شاہدجو دل میں ہے میرے سو منھ پر عیاں ہے
یہ شکوہ تھا درپیش مجھ کو کہ ناگہپکاری خرد ہوش تیرا کہاں ہے
تو مر جائے گا یوں تو رکتے ہی رکتےکہ اندوہ و غم آفت ناگہاں ہے
غزل لطف کر میرؔ صاحب کی کوئیکہ ان کی زباں بیچ سحر بیاں ہے
کہا میں نے مطلع غزل کا یہ سن کرکہ ہر طرف سے جس کے لوہو رواں ہے
غزل (مطلع ثانی)
ترے ہاتھ جب تک کہ تیر و کماں ہےشکار زبوں کی بھی خاطرنشاں ہے
کہے تو کہ شکل مثالی ہوں اپنیمرا جسم اس لطف سے ناتواں ہے
تری اور اے سادہ رو بعد میرےمرا نامہ ننوشتہ ہر استخواں ہے
اسیری میں سارا قفس بوے گل سےمعطر ہوا گو دماغ اب کہاں ہے
نہ پوچھ اس طلسمات عالم کی صنعتکہ اس آشکارا میں کیا کیا نہاں ہے
خوشا مرگ بلبل کہ سائے میں گل کےکہیں مشت پر ہے کہیں آشیاں ہے
درود اس کے تیں دیکھ کر بھیجتے ہیںوہ نوگل بھی صل علیٰ کیا جواں ہے
لگے ہے نہ اب عطرداں اس کے منھ کونہ اس بوے خوش سا یہ گل کا دہاں ہے
غرور خرابات چل شیخ دیکھیںجو ترسابچہ ہے سو پیر مغاں ہے
ہے بس شاہد حال رنگ شکستہجو دل میں ہے میرے سو منھ پر عیاں ہے
نہ کہہ خانوادے تھے یاں کیسے کیسےخرابہ ہی ہے جب تلک یہ جہاں ہے
دم امتحاں میرؔ ہم کیا کریں گےہماری گرہ میں تو اک نیم جاں ہے
چل اے طبع مشتاق وصف بتاں پرکہ غم ان کا دل میں مرے یک جہاں ہے
یہی شغل ہیں خوب پیش فقیراںکہ ذکر خدا ہے کہ وصف بتاں ہے
نہ جا اس کے خاموش رہنے پہ بلبلزباں غنچۂ گل کے زیر زباں ہے
نہ دے جان شیریں کو تلخی سے ناحقتری محنت اے کوہکن رائیگاں ہے
میں پس ماندۂ قافلہ دل جلا ہوںکہے تو کہ یہ آتش کارواں ہے
جو ہو راہ گم گشتہ یاں ہوکے جاوےکہ مجھ پاس یک داغ دل سوز یھاں ہے
سموم آوے ہے سایۂ برگ گل میںمگر خاک مرغ چمن پرفشاں ہے
مری آہ کیا برچھیاں مارتی ہےدل شب سے ہر دم صدا الاماں ہے
جگر پر جو ہیں داغ ہجراں پریشاںیہ گویا خزاں دیدہ اک گلستاں ہے
رخ زرد پر اشک سرخ آگئے ہیںادھر بھی اک ابر بہاری سماں ہے
خط و زلف و کاکل میں دل جاکے الجھانہ سمجھا یہ ناداں کہ ہندوستاں ہے
چمن زار عالم کی خوبی پہ مت جادل اس بے ثباتی پہ خندہ زناں ہے
کہ یک رنگ یاں کا نہیں ہے قراریبہار آئی ایدھر کہ فصل خزاں ہے
حقارت سے مت دیکھ یہ پھوٹی گوریںکہ ہر اک فلاں بن فلاں بن فلاں ہے
خیال اور مت کر کہ مجھ میں نہیں کچھمری جاں ترا وہم ہے یا گماں ہے
اٹھی رسم صوم و صلوٰۃ اس کے دیکھےخرابی یہ مسجد پہ جو ہے ازاں ہے
گریباں کفن کا تو رہنے دے ثابتمری خاک سے کیوں تو دامن کشاں ہے
رگ گل رگ جاں کمر سے نہیں ہےتو کہتا ہے کیا یاں سخن درمیاں ہے
خط کنج لب گوشۂ چشم و کاکلرہے شاد وہ غم زدہ دل جہاں ہے
نہیں فرصت واشدن اس چمن میںگل اس غم سے اپنا گریباں دراں ہے
بہت ہرزہ خواں ہے گا اے میرؔ تو بھیوظیفہ ترا کیا یہ ذکر بتاں ہے
جو مرکوز خاطر ہے اس پر بھی آجافراغت کا عرصہ یہی اک زماں ہے
سن اے ہم نشیں شخص غائب کی خاطریہ مطلع کہ مطلب سے جو تواماں ہے
مطلع ثالث
قلم چل ابھی چلتی تیری زباں ہےکہ پھر بات کہنے کی فرصت کہاں ہے
ولیکن تجاوز نہ ہووے ادب سےکہ ممدوح اب شاہ ہندوستاں ہے
دماغ اب نہیں ہے جو تمہید کریےکہ کل رات ہے اور یہ داستاں ہے
بھٹئی تیری کیجے یہ دل چاہتا ہےترے شکر نعمت میں قاصر زباں ہے
ترا عہد یک سرخوشی ہے جو ہے بھیگنہگار سا یک غم مہوشاں ہے
ترے یاں ہے سب راستی و درستیمگر ما صدق سچ کا یہ خانداں ہے
زیارت کیے صدق آتا ہے جس کیترا جبہۂ راستاں آستاں ہے
لکھے کیا شہا کوئی ہمت کو تیریجہاں صبح اس خوان پر میہماں ہے
زیادہ ہو یہ وسعت رزق تیریکہ مشرق سے تا غرب دستار خواں ہے
کرے ہم سری کیا وہ خورشید اوپرفلک پاس کیا ہے یہی ایک ناں ہے
ترے ہاتھ کی ریزش جود آگےخجالت سے یہ ابر قطرہ زناں ہے
تجھے مرجع کل کیا ہے جہاں کاترا دست ہے فرق خرد و کلاں ہے
ولی نعمتا عدل سے تیرے اب یاںکتاں تھا سو مہ ہے جو مہ تھا کتاں ہے
ترے ہوش کے آگے ہے طفل ناداںاگرچہ یہ پیر خرد کارداں ہے
سن اے خامہ آ مطلع چارمیں لکھکہ ممدوح کے زور کا اب بیاں ہے
مطلع رابع
ترے زور بازو کی طاقت عیاں ہےکہ بز جس کی قوت سے شیر ژیاں ہے
ترے زور کا سکہ ہے اس چمن میںگل اشرفی غنچۂ مہرگاں ہے
ترا ہاتھ پڑ جائے گر رستم اوپرجہاں میں وہ مشہور کیا پہلواں ہے
اٹھاتا نہیں اس کو سن کوئی گردنوہ اس عرصے میں ایک سنگ گراں ہے
تو یوں پھینک دے جیسے سنگ فلاخنجہاں جاکے گڑ جائے سنگ نشاں ہے
کہ جو کوئی اس راہ نکلے سو دیکھےیہ افسانہ ہر شہر کا ارمغاں ہے
ثنا کے ترے عرصے میں کریے جولاںکمیت قلم ہاتھ کے زیر راں ہے
اچک لے جہاں باگ کیا کیا مزے ہیںیہ نام خدا اسپ کیا خوش عناں ہے
سبک سیر کی تیرے کیا کہیے جلدیپھر اس فربہی پر کہ تخت رواں ہے
ازل سے ابد تک ہے جولاں گہ اس کیقدم ایک یاں اک قدم اس کا واں ہے
جو اس میں سوار اس کا چاہے کہ ڈپٹےارادے میں اس کے ابھی حرف ہاں ہے
نہ پہنچے وہ ہونٹوں تلک اس کے ہرگزکہ یہ بادپیما کہاں کا کہاں ہے
جو میدان میں جنگ کے ہو یہ اشہبتو گھوڑا نہ کہیو کہ پیل دماں ہے
لگے گر کہیں ٹاپ طبق زمیں پرفلک صدمے سے آں سوے لامکاں ہے
دعا پر کروں ختم اب یہ قصیدہکہاں تک کہوں تو چنیں ہے چناں ہے
رہے وقت ایسا ہی روز جزا تککہ جو دوست تیرا ہے تو شادماں ہے
تری عمر ہو میرے طول امل سیکرم کا سا سررشتہ اک تیری ہاں ہے
۵۱۶ / ۵۸۲