کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در شکایت نفاق یاران زماں

۱

جہاں میں کون ہے جس کو کسی سے الفت ہےخراب کوچہ و بازار یاں محبت ہے

۲

نفاق خانہ برانداز بسکہ ہے رائجدل اتفاق کا زیر غبار کلفت ہے

۳

باتفاق اگر دو عزیز مل بیٹھیںزبان مردم بد سے انھوں پر آفت ہے

۴

کروں میں ہجو اگر روز ایسے عالم کیبجا ہے ان سے کہ میرے تئیں شکایت ہے

۵

دروغ گوئی سے دو آشنا لڑا دیناکہاں کی رسم ہے یہ گر یہی مروت ہے

۶

تو چھوڑ شہر کی یہ تنگنا نکل جاویںکہ گوشہ ہاے بیاباں میں بسکہ وسعت ہے

۷

نہ دیکھوں منھ میں انھوں کا اگر ہوں آئینہاسی لیے تو مرے دل نشین عزلت ہے

۸

کہوں میں مطلع ثانی کہ طور یاراں سےدل شکستہ مرا تنگ اب نہایت ہے

مطلع ثانی

۹

منھوں پہ صاف ہیں لیکن نہ حفظ غیبت ہےمثال آئینہ دیکھے ہی کی یہ ملت ہے

۱۰

اگر سخن کی مرے رشک ان کی ہے جاں سوزوگر دلوں میں انھوں کے غرور دولت ہے

۱۱

حریف میرے یہ ان باتوں سے نہیں ہوتےکہ راہ راست پہ ہوں میں انھیں ضلالت ہے

۱۲

سخن کی خوبی کے میدان کا ہوں میں رستممقابلے کو مرے ان میں کس کی طاقت ہے

۱۳

رہا غرور زر و مال ان کا اب باقیسو ان کا ہونے کو روکش مری شرافت ہے

۱۴

بہ خالقے کہ زمیں اور آسماں کی بنانظر میں سب کی اسی کا ظہور قدرت ہے

۱۵

بہ احمدے کہ بلا میم اس کو کہتے ہیںاسی کی شرق سے لے تا بہ غرب امت ہے

۱۶

بہ مرتضےٰ کہ پیمبرؐ سے اس کو ہے خویشیبہ فاطمہ کہ کنیز اس کی ایک عصمت ہے

۱۷

بہ آں امام کہ قسمت میں اس کی زہر ہوابہ آں حسین کہ وہ بیکس شہادت ہے

۱۸

بہ ذوالفقار کہ وقت نبرد غازی کےزباں میں نام سے اس کے ہوئی یہ حالت ہے

۱۹

کہ گر وہ بات کہے صف میں کافروں کی جاتو سر کو تن پہ خوارج کے کب یہ فرصت ہے

۲۰

کہ ایک دم میں نہ پیوند ہو جدا اس کاملے نہ خاک میں جب تک کہاں فراغت ہے

۲۱

کہوں میں مطلع ثالث کہے ہے ہاتف غیبکہ تیرے صدق کی شاہد تری ہی ہمت ہے

مطلع ثالث

۲۲

بہ زلف یار کہ مجھ پر اسی سے شامت ہےبہ زہرمار جو جینے میں کچھ حلاوت ہے

۲۳

بہ ذوق وصل کہ اک دم نہیں ہے مجھ کو قراربہ اضطراب کہ وہ خانہ زاد فرقت ہے

۲۴

بہ سوز شمع کہ جلتی ہے وہ بھی میری طرحبہ انجمن کہ وہ کثرت میں رشک خلوت ہے

۲۵

بہ انتظار کہ آنکھیں سفید اس میں ہوئیںبہ نور شمع کہ وہ پائمال حیرت ہے

۲۶

بہ طوف کعبہ کہ بے سعی واں نہیں ہے گذاربہ عشق دیر کہ واں برہمن سعادت ہے

۲۷

بہ غربتے کہ ہے دوری راہ اس میں رفیقبہ منزلے کہ پہنچنا وہاں قیامت ہے

۲۸

بہ طاقتے کہ اسے ضعف سے ہے ربط قدیمبہ خاطرے کہ وہ منت کش مصیبت ہے

۲۹

بہ مشہدے کہ چراغ اس کا چشم آہو ہوبہ چشمکے کہ وہ خوں ریز اہل حسرت ہے

۳۰

بہ ہمتے کہ نہ دیکھا ہو ان نے خست کوبہ خستے کہ سراپا عدوے ہمت ہے

۳۱

بہ زورقے کہ جو وہ نوح کی پناہ ہوئیبہ ملتے کہ وہ طوفاں سے غرق خجلت ہے

۳۲

بہ محنتے کہ وہ آزردہ ہوئے راحت سےبہ راحتے کہ حقیقت میں رنج و محنت ہے

۳۳

بہ عزتے کہ جو سنتی ہو نام ذلت کابہ ذلتے کہ وہ کہتی ہو کیسی عزت ہے

۳۴

قسم ہے میرے تئیں ان تمام قسموں کیجو میں نے کچھ بھی کہا ہو یہ مجھ پہ تہمت ہے

۳۵

جو کچھ کہا ہے کنھوں نے غلط کہا ہے گاکسو سے رنجش بیجا نہ میری طینت ہے

۳۶

اگر یہ عذر ہو مقبول تو تو خیر ارنہحریف ہونے کا میرے نتیجہ خفت ہے

۳۷

کہاں تلک میں کروں اس نفاق کا شکوہخموشی اب تو ہے اولیٰ کہ اس میں راحت ہے

۵۱۷ / ۵۸۲