کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در تعریف اسپ و زیر زماں آصف دوراں نواب آصف الدولہ بہادر
۱
وزیر زماں نے لیا ایک اسپکہ ہے رشک گلگون باد بہار
۲
نظر پوست سے اس کے آتا ہے خوںکیا جلد پر اس کے گل کو نثار
۳
اڑا کر اسے بارہا سیر کینہ نکلا کبھو ابلق روزگار
۴
کروں اس کی کیا تیزگامی کی شرحہرن اس پہ شمشیر سے ہو شکار
۵
ٹک اک کسمساوے جو راکب تو پھرنہیں اس کو رانوں میں ہرگز قرار
۶
جہاں باگ اچک جائے محبوب کیعنان دل اس کے ہے پھر اختیار
۷
کرے عزم ابد کا ازل سے اگروہ جاں باز جو اس پہ ہووے سوار
۸
کہے اس کو ٹک چھیڑ لے کر کہ ہاںتو یہ بادپیما کرے یوں گذار
۹
کہ پہلے قدم گرد جو اٹھ چلےنہ پھرنے تک اس کے وہ بیٹھے غبار
۱۰
غرض اسپ ہے یا اچنبھا ہے میرؔرہیں زیر راں اس کے ایسے ہزار
۵۱۸ / ۵۸۲