کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسین

۱

دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسینناموس اپنے ساتھ لیے سب اٹھا حسینلوگوں نے یہ کہا بھی کہ یاں سے نہ جا حسینلیکن گیا حسین سو جی سے گیا حسین

۲

رکھتے ہی پاؤں رہ میں بلا سے ہوا دوچارفتنے کا ہر چہار طرف سے اٹھا غبارہر گام گرچہ آتے تھے درپیش غم ہزارلیکن نہ دیکھتا تھا تنک سر اٹھا حسین

۳

طے کرکے مرحلوں کو گیا کوفے کے قریبپیماں سے اپنے پھر گئے وے سارے بے نصیببدعہدی ان کی دیکھ کے آگے چلا غریبتھا ساتھ اک ثبات کے پر وہ نہ تھا حسین

۴

ناچار ہو کے کوچ کیا اس مقام سےکاوش کی طرح پڑتی چلی اہل شام سےسر کھینچتی تھی تازہ بلا گام گام سےتاآنکہ رفتہ رفتہ گیا کربلا حسین

۵

واں پہنچتے ہی اور زمانے کا رنگ تھااک جمع روسیاہ مہیاے جنگ تھاہر طعن تھا سنان و ہر اک حرف سنگ تھاکنبے سمیت اپنے وہیں گھر گیا حسین

۶

تھی چشم خیر جن سے نظر آئے ان کے بیرگل پھول سارے سوکھ گئے پانی کے بغیردو روز اپنے باغ میں کی ان نے خوب سیرکیا کیا نہ رنگ دیکھ کے یاں سے گیا حسین

۷

احوال بیکسی کے ہو نظارگی موئےانصار کھینچ پیاس کی لاچارگی موئےپیادے سوار جتنے تھے یک بارگی موئےمرگ ان سبھوں کی دیکھتا تھا چپ کھڑا حسین

۸

بیٹا جوان ایک نظر سے چلا گیااک گودی میں جو تھا سو وہ چھاتی جلا گیاقاسم کہ دی تھی بیٹی جسے وہ جدا گیااوقات تنگ ہوگئی تنہا رہا حسین

۹

کیا کیا ستم نہ قلب المناک پر سہےدریا لہو کے آنکھوں کے آگے سے ہو بہےتا نقش یہ زمانے میں مدت تئیں رہےمیداں میں صاف ہو کے کھڑا مر مٹا حسین

۱۰

سیلاب اس کے خون سے اس خاک پر بہاانصاف کر کنھوں نے نہ افسوس ہی کہاوارث نہ کوئی عابد بیمار بن رہاسو وہ ضعیف و مضطرب و لب پہ وا حسین

۱۱

نیزے پہ سر پدر کا مقابل نظر کے تھاآشوب لوٹ مار کا اطراف گھر کے تھامنھ غم کا دل کی اور کہ جانب جگر کے تھاکہتا تھا میرے حق میں یہ کیا کر گیا حسین

۱۲

پڑتی نہیں ہے چہرۂ پرنور پر نگاہعالم تمام آنکھ میں میری ہوا سیاہچھاتی کے اپنے داغ دکھاؤں کسے کہ آہروپوش جا کے مجھ سے کہاں تو ہوا حسین

۱۳

میں ناتوان و ساتھ مرے ایک کارواںتس پر کہیں ہیں راہ چلا چل دواں دواںمیں درد دل کو جا کے الٰہی کہوں کہاںہوتا تو کان رکھ کے یہ سنتا بتھا حسین

۱۴

جیدھر نگاہ جاتی ہے دشمن ہی ہیں کھڑےاعوان دوست جتنے تھے سب ہیں موئے پڑےپھر ہم اسیر ہیں سو بہم جیسے ہیں لڑےہر ایک چلنے پائے مصیبت سے کیا حسین

۱۵

جاتا ہے قافلہ جو کہیں کو تو جمع ہونے ایک ہے کہیں تو کہیں مر رہے ہیں دوہمراہیوں کا حال کہوں کیا ہے گومگوجاتا ہے تجھ رئیس کا سر یوں جدا حسین

۱۶

نے بھائی نے بھتیجے نہ بیٹے نہ اپنے لوگمارے گئے تمام غم ان کے ہیں جی کے روگپرسے کو کون پوچھے گا جو لیجیے بھی سوگکنبہ تو تیرے آگے ہی سب ہوچکا حسین

۱۷

اے اس شکستہ حال کے خستہ جگر پدرکیا کہہ کے تجھ کو روئیے خوں ہوگئے جگربیکس تو ہوکے مرتے ہیں سب پر نہ اس قدرمردے پہ تیرے منع ہے کرنا بکا حسین

۱۸

نازل جنھوں کی شان میں تھی آیۂ حجابسر ان کے ہیں برہنہ منھوں پر نہیں نقابپردہ کریں سو کاہے کا جنگل میں ہیں خرابچھوڑی نہیں ہے ایک کے سر پر ردا حسین

۱۹

کیا جانتے تھے ہم کہ یہ ایسا ستائیں گےگھر بار کو علی کے کھڑے ہو لٹائیں گےسبط نبی کے سر کے تئیں یوں کٹائیں گےاسلامیوں سے ہم کو گماں یہ نہ تھا حسین

۲۰

بیگانہ وار تو اے شہ کم سپہ گیاچلتے ہوئے کسو سے نہ اک حرف کہہ گیاناچار تیرے منھ کو ہر اک دیکھ رہ گیاصد رنگ تجھ سے رکھتے ہیں ہم سب گلہ حسین

۲۱

خیمے جلے اسیر ہوئے گھر لٹا گیاچھوٹا جو ایک مرنے کے تیں سو بندھا گیابے آبی میں جہاز یہ ڈوبا بہا گیاتیرے گئے نہ کوئی رہا آشنا حسین

۲۲

بیٹھے جو ہیں سو بال کھلے پیٹتے ہیں سرناموس کو جگہ جو ملی ہے سو رہگذرپتھر کے لاؤں جاکے کہاں سے دل و جگرجو ایسے ظلم دیکھوں کھڑا برملا حسین

۲۳

جنگل میں سربرہنہ بہت خوار ہم ہوئےزنجیر طوق جیسے گنہگار ہم ہوئےپھر اور ظلم کے جو سزاوار ہم ہوئےمرنا ترا تھا ہم پہ یہ تھوڑی جفا حسین

۲۴

ہوتی ہیں وہ جفائیں جو کرتے نہیں ہیں گبرہر آن ہم اسیروں پہ ہے قہر اور جبرچارہ نہیں رہا ہے ہمیں غیر شکر و صبربد حال تونے چاہا ہے یوں تو بھلا حسین

۲۵

انصاف کر کہ غم کے ہوں تاچند پائمالشرمندگی ہے زندگی یہ جان ہے وبالمرنا خدا سے چاہتے ہیں ہم خراب حالپر کیا کریں قبول نہ ہو جو دعا حسین

۲۶

باہر تھا یہ سلوک تو تیرا قیاس سےپھر ان سے جو کہ جیتے ہوں تیری ہی آس سےاک بار تو تو ایسا گیا اٹھ کے پاس سےہوتا ہے جیسے کوئی کسو سے خفا حسین

۲۷

درپیش اپنے آئی ہے اب طرفہ راہ ایکہر ہر قدم جگر سے نکلتی ہے آہ ایکہرگز ادھر کو کرتے نہیں وے نگاہ ایکجن مردماں سے رکھتے تھے چشم وفا حسین

۲۸

اس درد دیں کو دیکھ جگر ہوگئے گدازسبط نبی پہ دست ستم کر چکے درازافسوس ہے نہ باندھ کے صف وے پڑھیں نمازلوہو میں اپنے سجدہ کرے تو ادا حسین

۲۹

خوں ہوگئی دلوں میں ہوس تیری چاہ کیکہتے تھے گرد کحل کریں تجھ سپاہ کیتن پر ترے سو دیکھی منوں خاک راہ کیکانوں سنا نہ ہم نے تجھے بادشا حسین

۳۰

مجھ بن رہا نہیں ہے کوئی وارثوں میں مردسو میں کروں ہوں دم بدم اک دل سے آہ سردبیمار و زار ایک تو میں تھا ہی پھر یہ دردعارض ہوا ہے میرے تئیں لا دوا حسین

۳۱

اس طور چاہتا ہے کوئی جینے کو کہیںوارث نہیں شفیق نہیں لطف کچھ نہیںہر اک کو آرزو ہے کہ مر جایئے یہیںلیکن نہیں پہنچتی ہماری قضا حسین

۳۲

جیسی تھی زندگی میں ہمیں تجھ سے بندگیغالب کہ تابہ حشر عقیدہ رہے یہیصورت ہو کوئی جاتی نہیں اپنی پیرویاب سر ترا ہمارا ہوا پیشوا حسین

۳۳

لے سب اسیر شام کی جانب کو ہیں رواںناچار ان کے ساتھ ہوں میں زار و ناتواںکر جاؤں تیری فکر سو فرصت مجھے کہاںحافظ نگاہبان ہے تیرا خدا حسین

۳۴

اشجار تیرے باغ کے یک بارگی کٹےگل اور بوٹے جور کے آروں سے سب چھٹےآہیں کریں کہاں تئیں سینے تو سب پھٹےکچھ اور ہوگئی ہے یکایک ہوا حسین

۳۵

مردہ کہیں پڑا ہے کہیں سر کہیں ہے پاہر گام پر ہے ایک جواں جان سے گیاالقصہ پاؤں رکھنے کو ملتی نہیں ہے جاجنگل تمام مرنے سے تیرے بسا حسین

۳۶

بنتا نہیں غرض یہ کہ تجھ کو اٹھا کے جائیںافسوس تجھ سے شخص سے منھ کو چھپا کے جائیںتدبیر کیا کریں کہ کھڑے ہو گڑا کے جائیںسنتا نہیں ہے کوئی ہمارا کہا حسین

۳۷

جانے میں جی سے تیرے بہت آئے ہم بتنگعائد ہوئے ہزاروں طرح کے ادھر کو ننگکچھ زندگی کا ڈھنگ بھی ہے مت کرے درنگپاس اپنے ٹک ہمیں بھی شتابی بلا حسین

۳۸

بندی ہوئے چلے ہیں کسو اور بے نصیبسجاد دست بستہ بھی ہمراہ ہے غریبوقت وداع پہنچا ہے آکر بہت قریبدے تجھ کو خواب مرگ سے کوئی جگا حسین

۳۹

دو حرف تیرے منھ کے بھی تا سن کے جایئےدل کو نہیں قرار تسلی تو پایئےکیا جانیے کہ اب یہاں پھر کیونکے آیئےبیدرد روزگار تو ہم سے پھرا حسین

۴۰

آگے گیا یہ کہہ کے اسیروں کا قافلہباتوں کا لاعلاج یہیں چھوڑ سلسلہبس میرؔ تو بھی چپ ہو ہوا دل تو آبلہمر رہ زباں دراز کہیں کہہ کے یاحسین

۵۲۱ / ۵۸۲