کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
دریاے عشق
عشق ہے تازہ کار و تازہ خیالہر جگہ اس کی اک نئی ہے چال
دل میں جاکر کہیں تو درد ہواکہیں سینے میں آہ سرد ہوا
کہیں آنکھوں سے خون ہوکے بہاکہیں سر میں جنون ہو کے رہا
کہیں رونا ہوا ندامت کاکہیں ہنسنا ہوا جراحت کا
گہ نمک اس کو داغ کا پایاگہ پتنگا چراغ کا پایا
واں طپیدن ہوا جگر کے بیچیاں تبسم ہے زخم تر کے بیچ
کہیں آنسو کی یہ سرایت ہےکہیں یہ خوں چکاں حکایت ہے
تھا کسی دل میں نالۂ جاں کاہہے کسو لب پہ ناتواں اک آہ
تھا کسو کی پلک کی نم ناکیہے کسو خاطروں کی غم ناکی
کہیں باعث ہے دل کی تنگی کاکہیں موجب شکستہ رنگی کا
کہیں اندوہ جان آگہ تھاسوزش سینہ ایک جاگہ تھا
کہیں عشاق کی نیاز ہواکہیں اندوہ جاں گداز ہوا
ہے کہیں دل جگر کی بے تابیتھا کسو مضطرب کی بے خوابی
کسو چہرے کا رنگ زرد ہواکسو محمل کی رہ کی گرد ہوا
طور پر جا کے شعلہ پیشہ رہابے ستوں میں شرار تیشہ رہا
کہیں نے بست کو لگائی آگکہیں تیغ و گلو میں رکھی لاگ
کبھو افغان مرغ گلشن تھاکبھو قمری کا طوق گردن تھا
کسو مسلخ میں جا قنارہ ہواکوئی دل ہو کے پارہ پارہ ہوا
ایک عالم میں دردمندی کیایک محفل میں جا سپندی کی
ایک دل سے اٹھے ہے ہوکر دودایک لب پر سخن ہے خون آلود
اک زمانے میں دل کی خواہش تھااک سمیں میں جگر کی کاہش تھا
کہیں بیٹھے ہے جی میں ہوکر چاہکہیں رہتا ہے قتل تک ہمراہ
خارخار دل غریباں ہےانتظار بلانصیباں ہے
کہیں شیون ہے اہل ماتم کاکہیں نوحہ ہے جان پر غم کا
آرزو تھا امیدواروں کیدردمندی جگر فگاروں کی
نمک زخم سینہ ریشاں ہےنگہ یاس مہرکیشاں ہے
حسرت آلود آہ تھا یہ کہیںشوق کی یک نگاہ تھا یہ کہیں
کشش اس کی ہے ایک اعجوبہڈوبا عاشق تو یار بھی ڈوبا
کوئی محروم وصل یاں سے گیاکہ نہ یار اس کا پھر جہاں سے گیا
کام میں اپنے عشق پکا ہےہاں یہ نیرنگ ساز یکہ ہے
جس کو ہو اس کی التفات نصیبہے وہ مہمان چندروزہ غریب
ایسی تقریب ڈھونڈھ لاتا ہےکہ وہ ناچار جی سے جاتا ہے
آغاز قصۂ جاں گداز
ایک جا اک جوان رعنا تھالالہ رخسار و سروبالا تھا
عشق رکھتا تھا اس کی چھاتی گرمدل وہ رکھتا تھا موم سے بھی نرم
شوق تھا اس کو صورت خوش سےانس رکھتا تھا وضع دل کش سے
تھا طرح دار آپ بھی لیکنرہ نہ سکتا تھا اچھی صورت بن
کوئی ترکیب اگر نظر آتیصورت حال اور ہو جاتی
دیکھتا گر وہ کوئی خوش پرکاررہتا خمیازہ کش ہی لیل و نہار
زلف ہوتی کسو کی گر برہمدیکھتے اس کے حال کو درہم
دیکھتا گر کہیں وہ چشم سیاہدل سے بے اختیار کرتا آہ
سر میں تھا شور شوق دل میں تھاعشق ہی اس کے آب و گل میں تھا
الغرض وہ جوان خوش اسلوبناشکیبا رہے تھا بے محبوب
ایک دن بے کلی سے گھبرایاسیر کرنے کو باغ میں آیا
کسو گل پاس وہ صنم ٹھہراکہیں سبزے میں ایک دم ٹھہرا
اک خیابان میں سے ہو نکلاایک سائے تلے سے رو نکلا
نہ تسلی ہوا دل بے تابنہ تھما چشم تر سے خون ناب
دل کی واشد سے بے توقع ہوہر شجر کے تلے بہت سا رو
دیکھ گلشن کو ناامیدانہمنھ کیا ان نے جانب خانہ
دل کے رکنے کا اس کو اک غم تھاراہ چلنے میں خیال درہم تھا
ناگہ اس کوچہ سے گذار ہواآفت تازہ سے دوچار ہوا
ایک غرفے سے ایک مہ پارہتھی طرف اس کے گرم نظارہ
پڑ گئی اس پہ اک نظر اس کیپھر نہ آئی اسے خبر اس کی
تھی نظر یاکہ جی کی آفت تھیوہ نظر ہی وداع طاقت تھی
ہوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھصبر رخصت ہوا اک آہ کے ساتھ
بے قراری نے کج ادائی کیتاب و طاقت نے بے وفائی کی
منھ جو اس کا طرف سے اس کے پھرامضطرب ہوکے خاک پر یہ گرا
وہ تو رکھتی نہ تھی خیال اس کابے طرح ہووے گوکہ حال اس کا
جھاڑ دامن کے تیں وہ مہ پارہاٹھ گئی سامنے سے یک بارہ
وہ گئی اس کے سر بلا آئیخاک میں مل گئی وہ رعنائی
دل پہ کرنے لگا طپیدن نازرنگ چہرے سے کر چلا پرواز
ہاتھ جانے لگا گریباں تکچاک کے پھیلے پاؤں داماں تک
طبع نے اک جنوں کیا پیدااشک نے رنگ خوں کیا پیدا
سوزش دل نے جی میں جاگہ کیداغ نے آ جگر کو آتش دی
بستر خاک پر گرا وہ زاردرد کا گھر ہوا دل بیمار
خاطر افگار خار خار ہوئیجاں تمناکش نگار ہوئی
اس کے منھ پر پڑی جو اس کی نگاہناامیدی کے ساتھ ہی سر کی آہ
خو ہوئی نالۂ حزیں کے ساتھرابطہ آہ آتشیں کے ساتھ
ہونٹھ سوکھے تو خون ناب ملاخواب و خور دونوں کو جواب ملا
خلق اس کی ہوئی تماشائیپر نہ وہ دیکھنے کبھو آئی
کچھ کہا گر کسو نے شفقت سےرو دیا ان نے ایک حسرت سے
جاکے اس کے قریب در بیٹھاقصد مرنے کا اپنے کر بیٹھا
دل نہ سمجھا کہ اضطراب کیاشوق نے کام کو خراب کیا
جوکہ سمجھے تھے اس کو دیوانہرحم کرتے تھے آشنایانہ
عاشق اس کو کسو کا جان گئےسب برا اس ادا کو مان گئے
کیونکہ باہم معاش تھی سب کیایک جا بود و باش تھی سب کی
وارث اس کے بھی بدگمان ہوئےدرپئے دشمنی جان ہوئے
مشورت تھی کہ مار ہی ڈالیںدفعتہً اس بلا کے تیں ٹالیں
پھر یہ ٹھہری کہ ہوں گے ہم بدنامسن کے آخر کہیں گے خاص و عام
کیا گنہ تھا کہ یہ جواں ماراکن نے مارا اسے کہاں مارا
ہووے یہ خون خفتہ گر بیدارکھینچنی ہووے خفت بسیار
کیجیے ایک ڈھب سے اس کو تنگتا نہ عائد ہو اپنی جانب ننگ
تہمت خبط رکھیے اس کے سرکیجیے سنگ سار اس کو پھر
دے کے دیوانہ اس جواں کو قرارہوگئے سارے درپئے آزار
ایک نے سخت کہہ کے تنگ کیاایک نے آکے زیر سنگ کیا
ایک آیا تو ہاتھ میں شمشیرایک بولا کہ اب ہے کیا تاخیر
کی اشارت کہ کودکان شہرآئے لبریز غصہ و پرقہر
گرچہ ہنگامہ اس کے سر پر تھالیک روے دل اس کا اودھر تھا
محو تھا اس کے یہ خیال کے بیچتھا گرفتار اپنے حال کے بیچ
ہونٹھ پر حسن کا بیاں اس کاتھا سر و سنگ آستاں اس کا
ایک دم آہ سرد بھر اٹھنانالۂ گرم گاہ کر اٹھنا
جی میں کہتا کہ آہ مشکل ہےاس طرف یک نگاہ مشکل ہے
دوست کو میرے نام سے ہے ننگدشمنوں سے ہے جی پہ عرصہ تنگ
چشم تر سے لہو بہا کرتاصبح کی باد سے کہا کرتا
کاے نسیم سحر یہ اس سے کہہمت تغافل کر اور غافل رہ
ان بلاؤں میں کوئی کیونکے جیےجان پر آ بنی ہے تیرے لیے
جان دوں تیرے واسطے سو توآنکھ اٹھاکر ادھر نہ دیکھے کبھو
رفتہ رفتہ ہوا ہوں سودائیدور پہنچی ہے میری رسوائی
نام کو بھی ترے نہ جانا آہتجھ سے کیونکر سخن کی نکلے راہ
ناامیدانہ گر کروں ہوں نگاہدیکھتا ہوں ہزار روز سیاہ
سخت مشکل ہے سخت ہے بیدادایک میں خوں گرفتہ سو جلاد
کوئی مشفق نہیں کہ ہووے شفیقبیکسی بن نہیں ہے کوئی رفیق
نالہ ہوتا ہے گر کبھی دلجوگریہ آنکھوں سے پونچھتا ہے رو
آہ جو ہمدمی سی کرتی ہےاب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہے
چشم رکھتا ہے وصل کی یہ دلجی ہے اس سے اسیر آب و گل
ورنہ ترکیب یہ کہاں ہوتیصورت اک معنی نہاں ہوتی
اب ٹھہرتا نہیں ہے پاے ثباتایک میں اور کتنے تصدیعات
سنگ باراں سے سخت ہوں دل تنگشیشۂ دل نہیں ہے پارۂ سنگ
محرم یک نگاہ بیش نہیںکم ہے سینے میں جاکہ ریش نہیں
کیونکے کہیے کہ تو نہیں آگاہاک قیامت بپا ہے یاں سر راہ
کچھ چھپا تو نہیں رہا یہ رازاک جہاں اس سے ہے خبر پرداز
پس تغافل ہوا ترحم کرگوش دل جانب تظلم کر
کون کہتا ہے رہ نہ محو نازپر نہ اتنا کہ جی سے جائے نیاز
ان بلاؤں پہ ان نے صبر کیااختیار اپنے جی پہ جبر کیا
اس طرف کا نہ دیکھنا چھوڑااس کے اندوہ سے نہ منھ موڑا
اور یہ ماجرا ہوا مشہورشور رسوائیوں کا پہنچا دور
دیکھ کر اس کو بے خور و بے خوابجانا ہر اک نے عاشق بے تاب
منھ پر اس کے جو رنگ خون نہیںعشق ہے اس کو یہ جنون نہیں
ہے نگاہ اس کی جس طرف مائلاس طرف ہی گیا ہے اس کا دل
جب ہوا ذکر اقل و اکثر میںچاہ ثابت ہوئی اسے گھر میں
عشق بے پردہ جب فسانہ ہوامضطرب کدخداے خانہ ہوا
گھر میں جا بہر دفع رسوائیبیٹھ کر مشورت یہ ٹھہرائی
یاں سے یہ غیرت مہ تاباںجا کے چندے کہیں رہے پنہاں
شب محافے میں اس کو کرکے سوارساتھ دے ایک دایۂ غدار
پار دریا کے جلد رخصت کیاس طرح فکر رفع تہمت کی
گھر تھا اک آشنا کا مدنگاہواں ہو روپوش تا یہ غیرت ماہ
ہووے جب اس بلا سے خاطر جمعنورافزاے خانہ ہو جوں شمع
گھر سے باہر محافہ جو نکلااس جواں ہی کے پاس ہو نکلا
طپش دل سے ہو کے یہ آگاہہو لیا ساتھ اس کے بھر کر آہ
واں کے رہنے سے اس کو کام نہ تھاوہ گلی اس کا کچھ مقام نہ تھا
جس سے جی کو کمال ہو الفتجس سے دل کی درست ہو نسبت
جنبش اس کی پلک کو گرداں ہودل میں یاں کاوش نمایاں ہو
واں اگر موشکست کا ہو بابیاں رگ جاں کو ہووے پیچ و تاب
واں اگر پاؤں میں لگے ہے خاردل سے یاں سر نکالے ہے یک بار
یار کو درد چشم اگر ہووےچشم عاشق لہو میں تر ہووے
چاک دامن میں واں پئے زینتیاں گریباں ہے چاک گل کی صفت
واں دہن تنگ یاں ہے دل تنگیحسن اور عشق میں ہے یک رنگی
دست افشاں وہ پاے کوباں یہتھا محافے کے ساتھ گرم رہ
قطرہ زن اشک سا وہ راہ تمامدرپئے یار تھا وہ بے آرام
ہر قدم تھا زبان پر جاریخواب ہے یاکہ ہے یہ بیداری
ہمسری اس کی تھی میسر کبہے مجھے بخت واژگوں سے عجب
شوق مفرط نے بے تہی کی سختنوشکیبی نے دل سے باندھا رخت
رفتہ رفتہ سخن ہوئے نالےاڑنے لاگے جگر کے پرکالے
اضطراب دلی نے زور کیاان نے بے اختیار شور کیا
دل کے غم کو زبان پر لایاآفت تازہ جان پر لایا
کاے جفا پیشہ و تغافل کیشاک نظر سے زیاں نہیں کچھ بیش
منھ چھپایا ہے تونے اس پر بھینگہ التفات ایدھر بھی
صبر کس کس بلا سے کر گذروںچارہ اس بن نہیں کہ مر گذروں
منزل وصل دور میں کم پاتجھ کو اس مرتبے میں استغنا
ہے تو نزدیک دل سے اے طنازلیک تجھ تک سفر ہے دور دراز
ناز نے یک نفس نہ رخصت دیآئینے نے تجھے نہ فرصت دی
تو تو واں زلف کو بنایا کیجان یاں پیچ و تاب کھایا کی
تجھ کو تھی اپنے خال رخ پہ نگاہدل مرا مبتلاے داغ سیاہ
تجھ کو مدنظر تھی اپنی چالمیں ستم کش ہوا کیا پامال
بستر خواب پر تجھے آراممجھ کو خمیازہ کھینچنے سے کام
واں لب لعل تیرے خنداں تھےیاں فشردہ جگر پہ دنداں تھے
ناز و خوبی نے دل دیا نہ تجھےرحم سے آشنا کیا نہ تجھے
اب تغافل نہ کر تلطف کرحال پر میرے ٹک تاسف کر
گوش زد دایہ کے ہوئے یہ سخنتھی وہ استاد کار حیلہ و فن
پاس اس کو بلا تسلی کیوعدۂ وصل سے تشفی کی
کاے ستم دیدۂ غم دوریہوچکا اب زمان مہجوری
زار نالی نہ کر شکیبا ہوعشق کا راز تا نہ رسوا ہو
دل قوی رکھ نہ جی کو کاہش دےچل کوئی دم کو داد خواہش دے
سخت دل تنگ تھی یہ غیرت ماہقطع تجھ بن نہ ہوسکی تھی راہ
گرچہ یہ حسن اتفاق سے ہےاس کی بھی جذب اشتیاق سے ہے
تیرے آنے سے دل کشادہ ہوانشۂ دوستی زیادہ ہوا
بزم عشرت کریں گے باہم سازہوجو اب اپنے دوست کا دم ساز
دے کر اس کو فریب ساتھ لیادل عاشق کو اپنے ہاتھ لیا
لیک در پردہ ان نے یہ ٹھانیکیجیے اس سے خصمی جانی
یہ تو دل تفتۂ محبت تھاسخت وارفتۂ محبت تھا
وقت نزدیک تھا جو آپہنچاتا سر آب پا بہ پا پہنچا
آب کیسا کہ بحر تھا ذخارتند و مواج و تیرہ و تہ دار
موج کا ہر کنایہ طوفاں پرمارے چشمک حباب عماں پر
ہم کنار بلا ہر اک گردابلجہ سرمایہ بخش تیرہ سحاب
گذر موج جب نہ تب دیکھاساحل اس کا نہ خشک لب دیکھا
کشتی اک آن کر ہوئی موجودہو فلک سے ہلال جیسے نمود
کی کنارے پہ لاکے استادہتھا محافہ رکوب آمادہ
اس سفینے میں جلد جا پہنچایہ بھی واں ساتھ ہی لگا پہنچا
بیچ دریا میں دایہ نے جاکرکفش اس گل کی اس کو دکھلاکر
پھینکی پانی کی سطح پر اک باراور بولی کہ او جگرافگار
حیف تیرے نگار کی پاپوشموج دریا سے ہووے ہم آغوش
غیرت عشق ہے تو لا اس کوچھوڑ مت یوں برہنہ پا اس کو
اس طرف اس کے تیں اترنا ہےاس نواحی کی سیر کرنا ہے
پاؤں اس کے جو ہیں نگار آلودظلم ہے ہوویں گر غبارآلود
جس کف پا کو رنگ گل ہو بارمنصفی ہے کہ خار سے ہو فگار
ان پہ نرمی میں گل سے ہوں جو پرےآبلہ چشم کو سیاہ کرے
یہ روا ہے تو اپنے حال پہ رومفت ناموس عشق کو مت کھو
جی اگر تھا عزیز اے ناکامکیوں عبث عشق کو کیا بدنام
سن کے یہ حرف دایۂ مکاردل سے اس کے گیا شکیب و قرار
بے خبر کار عشق کی تہ سےجست کی ان نے اپنی جاگہ سے
تھا سفینے میں یا کہ دریا میںموج زنجیر ہوگئی پا میں
کھنچ گیا قعر کو یہ گوہر نابتھی کشش عشق کی مگر تہ آب
کہتے ہیں ڈوبتے اچھلتے ہیںلیکن ایسے کوئی نکلتے ہیں
ڈوبے جو یوں کہیں وہ جا نکلےغرق دریاے عشق کیا نکلے
عشق نے آہ کھو دیا اس کوآخر آخر ڈبو دیا اس کو
جب کہ دریا میں ڈوب کر وہ جواںکھو گیا گوہر گرامی جاں
دایۂ حیلہ گر ہوئی دل شادواں سے کشتی چلی بہ رنگ باد
خارخار دلی سے فارغ ہولے گئی پار اس گل نو کو
یہ نہ سمجھی کہ عشق آفت ہےفتنہ سازی میں اک قیامت ہے
خاک ہو کیوں نہ عاشق بے دلکام سے اپنے یہ نہیں غافل
وصل جیتے نہ ہو میسر اگرلادے معشوق کو یہ تربت پر
یاں سے عاشق اگر گئے ناشادخاک خوباں بھی ان نے دی برباد
قصہ کوتاہ بعد یک ہفتہآئی وہ رشک مہ زخود رفتہ
کہنے لاگی کہ اب تو اے دایہہوگیا غرق وہ فرومایہ
اب تو وہ ننگ درمیاں سے گیاآرزومند اس جہاں سے گیا
تھے جو ہنگامے اس کے حد سے زیادساتھ اس کے گئے وہ شور و فساد
شور فتنے تھے اس تلک سارےاب تو بدنامیاں نہیں بارے
دل تڑپتا ہے متصل میرامرغ بسمل ہے یاکہ دل میرا
وحشت طبع اب تو افزوں ہےحال جی کا مرے دگرگوں ہے
بے دماغی کمال ہوتی ہےجان تن کے وبال ہوتی ہے
دل کوئی دم میں خون ہووے گاآج کل میں جنون ہووے گا
بے کلی جی کو تاب دیتی ہےطاقت دل جواب دیتی ہے
جی میں آتا ہے ہوں بیابانیپر کہوں ہوں کہ ہے یہ نادانی
مصلحت ہے کہ مجھ کو لے چل گھرایک دو دم رہیں گے دریا پر
گاہ باشد کہ دل مرا وا ہوورنہ کیا جانیے کہ پھر کیا ہو
دایہ بولی کہ اے سراپا نازحسن کا در پہ تیرے روے نیاز
اب تو میں فتنے کو سلایا ہےاس بلا کے تئیں بٹھایا ہے
کون مانع ہے گھر کے چلنے کاسد رہ کون ہے نکلنے کا
ہو محافے میں دل خوشی سے سوارشاد شاداں کر آب سے تو گذار
دل سے اپنے پدر کے غم کم کرمادر مہرباں کو خرم کر
کر ملاقات ہمدموں سے توگرم بازی ہو محرموں سے تو
یہ نہ سوچی کہ بدبلا ہے عشقگھات میں اپنی لگ رہا ہے عشق
جس کسو سے یہ پیار رکھتا ہےعاقبت اس کو مار رکھتا ہے
جذب سے اپنے جب کرے ہے کامعاشق مردہ سے بھی لے ہے کام
صبح گاہاں وہ غیرت خورشیداس جگہ سے رواں ہوئی نومید
پہنچی نصف النہار دریا پرروئی بے اختیار دریا پر
حد سے افزوں جو بے قرار ہوئیدایہ کشتی میں لے سوار ہوئی
حرف زن یوں ہوئی کہ اے دایہیاں گرا تھا کہاں وہ کم مایہ
موج سے تھا کدھر کو ہم آغوشتھا تلاطم سے کس طرف ہم دوش
تجھ کو آیا نظر کہاں آکرپھر جو ڈوبا تو کس جگہ جاکر
مجھ کو دیجو نشان اس جا کامیں بھی دیکھوں خروش دریا کا
ہوں میں ناآشناے سیر آبناشناساے موجہ و گرداب
لجہ کیا لطمہ کس کو کہتے ہیںگھر میں ہم نام سنتے رہتے ہیں
ہیں میسر کہاں یہ سیر عبوراتفاقی ہیں اس طرح کے امور
مکر میں گرچہ دایہ تھی کامللیک تہ سے سخن کے تھی غافل
یہ نہ سمجھی کہ ہے فریب عشقہے یہ مہ پارہ ناشکیب عشق
بیچ دریا کے جا کہا یہ حرفیاں ہوا تھا وہ ماجراے شگرف
یاں وہ بیٹھا حباب کے مانندپھر نہ تھا کچھ سراب کے مانند
سنتے ہی یہ کہاں کہاں کر کرگر پڑی قصد ترک جاں کر کر
موج ہر اک کمند شوق تھی آہلپٹی اس کو بہ رنگ مار سیاہ
دام گستر دہ عشق تھا تہ آبجس کے حلقے تمام تھے گرداب
حسن موجوں میں یوں نظر آوےنور مہتاب جیسے لہراوے
تھیں وہ اس کی حنائی انگشتاںغیرت افزاے پنجۂ مرجاں
سر پہ جس دم کہ آب ہو کے بہاسطح پانی کا آئینہ سا رہا
کشش عشق آخر اس مہ کولے گئی کھینچتی ہوئی تہ کو
کودے غواص و آشنا سارےتابہ مقدور دست و پا مارے
کھینچ کر کوفت سب ہوئے بیتابنہ لگا ہاتھ وہ در نایاب
جا ہم آغوش مردہ یار ہوئیتہ میں دریا کے ہم کنار ہوئی
پاک کی زندگی کی آلائشہو کے دست و بغل کی آسائش
سر پٹکتی جو گھر گئی دایہآفت اک لے گئی نئی دایہ
اب و عم مادر و برادر سبخاک افشان و آہ و نالہ بہ لب
دار و دستہ تمام اس گل کاترک آئین کر تحمل کا
سوے دریا رواں ہوئے گریاںآتش غم سے دل جگر بریاں
خلق یک جا ہوئی کنارے پرحشر برپا ہوئی کنارے پر
دام داروں سے سب نے کام لیاآخر ان کو اسیر دام کیا
نکلے باہم ولے موئے نکلےدونوں دست و بغل ہوئے نکلے
ربط چسپاں بہم ہویدا تھامر گئے پر بھی شوق پیدا تھا
ایک کا ہاتھ ایک کی بالیںایک کے لب سے ایک کو تسکیں
جو نظر ان کو آن کرتے تھےایک قالب گمان کرتے تھے
کیا لکھوں مل رہے وہ وصلی وارہم دگر سے جدا ہوئے دشوار
کیوں نہ دشوار ہووے ان کا فصلجان دے دے ہوا ہو جن کا وصل
حیرت کار عشق سے مردمشکل تصویر آپ میں تھے گم
مقولۂ شاعر
میرؔ اب شاعری کو کر موقوفعشق ہے ایک فتنۂ معروف
قدرت اپنی جہاں دکھاتا ہےاس سے جو تو کہے سو آتا ہے
کتنی وسعت ترے بیاں میں ہےکتنی طاقت تری زباں میں ہے
لب پہ اب مہر خامشی بہتریاں سخن کی فرامشی بہتر
۵۲۲ / ۵۸۲