کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

دریاے عشق

۱

عشق ہے تازہ کار و تازہ خیالہر جگہ اس کی اک نئی ہے چال

۲

دل میں جاکر کہیں تو درد ہواکہیں سینے میں آہ سرد ہوا

۳

کہیں آنکھوں سے خون ہوکے بہاکہیں سر میں جنون ہو کے رہا

۴

کہیں رونا ہوا ندامت کاکہیں ہنسنا ہوا جراحت کا

۵

گہ نمک اس کو داغ کا پایاگہ پتنگا چراغ کا پایا

۶

واں طپیدن ہوا جگر کے بیچیاں تبسم ہے زخم تر کے بیچ

۷

کہیں آنسو کی یہ سرایت ہےکہیں یہ خوں چکاں حکایت ہے

۸

تھا کسی دل میں نالۂ جاں کاہہے کسو لب پہ ناتواں اک آہ

۹

تھا کسو کی پلک کی نم ناکیہے کسو خاطروں کی غم ناکی

۱۰

کہیں باعث ہے دل کی تنگی کاکہیں موجب شکستہ رنگی کا

۱۱

کہیں اندوہ جان آگہ تھاسوزش سینہ ایک جاگہ تھا

۱۲

کہیں عشاق کی نیاز ہواکہیں اندوہ جاں گداز ہوا

۱۳

ہے کہیں دل جگر کی بے تابیتھا کسو مضطرب کی بے خوابی

۱۴

کسو چہرے کا رنگ زرد ہواکسو محمل کی رہ کی گرد ہوا

۱۵

طور پر جا کے شعلہ پیشہ رہابے ستوں میں شرار تیشہ رہا

۱۶

کہیں نے بست کو لگائی آگکہیں تیغ و گلو میں رکھی لاگ

۱۷

کبھو افغان مرغ گلشن تھاکبھو قمری کا طوق گردن تھا

۱۸

کسو مسلخ میں جا قنارہ ہواکوئی دل ہو کے پارہ پارہ ہوا

۱۹

ایک عالم میں دردمندی کیایک محفل میں جا سپندی کی

۲۰

ایک دل سے اٹھے ہے ہوکر دودایک لب پر سخن ہے خون آلود

۲۱

اک زمانے میں دل کی خواہش تھااک سمیں میں جگر کی کاہش تھا

۲۲

کہیں بیٹھے ہے جی میں ہوکر چاہکہیں رہتا ہے قتل تک ہمراہ

۲۳

خارخار دل غریباں ہےانتظار بلانصیباں ہے

۲۴

کہیں شیون ہے اہل ماتم کاکہیں نوحہ ہے جان پر غم کا

۲۵

آرزو تھا امیدواروں کیدردمندی جگر فگاروں کی

۲۶

نمک زخم سینہ ریشاں ہےنگہ یاس مہرکیشاں ہے

۲۷

حسرت آلود آہ تھا یہ کہیںشوق کی یک نگاہ تھا یہ کہیں

۲۸

کشش اس کی ہے ایک اعجوبہڈوبا عاشق تو یار بھی ڈوبا

۲۹

کوئی محروم وصل یاں سے گیاکہ نہ یار اس کا پھر جہاں سے گیا

۳۰

کام میں اپنے عشق پکا ہےہاں یہ نیرنگ ساز یکہ ہے

۳۱

جس کو ہو اس کی التفات نصیبہے وہ مہمان چندروزہ غریب

۳۲

ایسی تقریب ڈھونڈھ لاتا ہےکہ وہ ناچار جی سے جاتا ہے

آغاز قصۂ جاں گداز

۳۳

ایک جا اک جوان رعنا تھالالہ رخسار و سروبالا تھا

۳۴

عشق رکھتا تھا اس کی چھاتی گرمدل وہ رکھتا تھا موم سے بھی نرم

۳۵

شوق تھا اس کو صورت خوش سےانس رکھتا تھا وضع دل کش سے

۳۶

تھا طرح دار آپ بھی لیکنرہ نہ سکتا تھا اچھی صورت بن

۳۷

کوئی ترکیب اگر نظر آتیصورت حال اور ہو جاتی

۳۸

دیکھتا گر وہ کوئی خوش پرکاررہتا خمیازہ کش ہی لیل و نہار

۳۹

زلف ہوتی کسو کی گر برہمدیکھتے اس کے حال کو درہم

۴۰

دیکھتا گر کہیں وہ چشم سیاہدل سے بے اختیار کرتا آہ

۴۱

سر میں تھا شور شوق دل میں تھاعشق ہی اس کے آب و گل میں تھا

۴۲

الغرض وہ جوان خوش اسلوبناشکیبا رہے تھا بے محبوب

۴۳

ایک دن بے کلی سے گھبرایاسیر کرنے کو باغ میں آیا

۴۴

کسو گل پاس وہ صنم ٹھہراکہیں سبزے میں ایک دم ٹھہرا

۴۵

اک خیابان میں سے ہو نکلاایک سائے تلے سے رو نکلا

۴۶

نہ تسلی ہوا دل بے تابنہ تھما چشم تر سے خون ناب

۴۷

دل کی واشد سے بے توقع ہوہر شجر کے تلے بہت سا رو

۴۸

دیکھ گلشن کو ناامیدانہمنھ کیا ان نے جانب خانہ

۴۹

دل کے رکنے کا اس کو اک غم تھاراہ چلنے میں خیال درہم تھا

۵۰

ناگہ اس کوچہ سے گذار ہواآفت تازہ سے دوچار ہوا

۵۱

ایک غرفے سے ایک مہ پارہتھی طرف اس کے گرم نظارہ

۵۲

پڑ گئی اس پہ اک نظر اس کیپھر نہ آئی اسے خبر اس کی

۵۳

تھی نظر یاکہ جی کی آفت تھیوہ نظر ہی وداع طاقت تھی

۵۴

ہوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھصبر رخصت ہوا اک آہ کے ساتھ

۵۵

بے قراری نے کج ادائی کیتاب و طاقت نے بے وفائی کی

۵۶

منھ جو اس کا طرف سے اس کے پھرامضطرب ہوکے خاک پر یہ گرا

۵۷

وہ تو رکھتی نہ تھی خیال اس کابے طرح ہووے گوکہ حال اس کا

۵۸

جھاڑ دامن کے تیں وہ مہ پارہاٹھ گئی سامنے سے یک بارہ

۵۹

وہ گئی اس کے سر بلا آئیخاک میں مل گئی وہ رعنائی

۶۰

دل پہ کرنے لگا طپیدن نازرنگ چہرے سے کر چلا پرواز

۶۱

ہاتھ جانے لگا گریباں تکچاک کے پھیلے پاؤں داماں تک

۶۲

طبع نے اک جنوں کیا پیدااشک نے رنگ خوں کیا پیدا

۶۳

سوزش دل نے جی میں جاگہ کیداغ نے آ جگر کو آتش دی

۶۴

بستر خاک پر گرا وہ زاردرد کا گھر ہوا دل بیمار

۶۵

خاطر افگار خار خار ہوئیجاں تمناکش نگار ہوئی

۶۶

اس کے منھ پر پڑی جو اس کی نگاہناامیدی کے ساتھ ہی سر کی آہ

۶۷

خو ہوئی نالۂ حزیں کے ساتھرابطہ آہ آتشیں کے ساتھ

۶۸

ہونٹھ سوکھے تو خون ناب ملاخواب و خور دونوں کو جواب ملا

۶۹

خلق اس کی ہوئی تماشائیپر نہ وہ دیکھنے کبھو آئی

۷۰

کچھ کہا گر کسو نے شفقت سےرو دیا ان نے ایک حسرت سے

۷۱

جاکے اس کے قریب در بیٹھاقصد مرنے کا اپنے کر بیٹھا

۷۲

دل نہ سمجھا کہ اضطراب کیاشوق نے کام کو خراب کیا

۷۳

جوکہ سمجھے تھے اس کو دیوانہرحم کرتے تھے آشنایانہ

۷۴

عاشق اس کو کسو کا جان گئےسب برا اس ادا کو مان گئے

۷۵

کیونکہ باہم معاش تھی سب کیایک جا بود و باش تھی سب کی

۷۶

وارث اس کے بھی بدگمان ہوئےدرپئے دشمنی جان ہوئے

۷۷

مشورت تھی کہ مار ہی ڈالیںدفعتہً اس بلا کے تیں ٹالیں

۷۸

پھر یہ ٹھہری کہ ہوں گے ہم بدنامسن کے آخر کہیں گے خاص و عام

۷۹

کیا گنہ تھا کہ یہ جواں ماراکن نے مارا اسے کہاں مارا

۸۰

ہووے یہ خون خفتہ گر بیدارکھینچنی ہووے خفت بسیار

۸۱

کیجیے ایک ڈھب سے اس کو تنگتا نہ عائد ہو اپنی جانب ننگ

۸۲

تہمت خبط رکھیے اس کے سرکیجیے سنگ سار اس کو پھر

۸۳

دے کے دیوانہ اس جواں کو قرارہوگئے سارے درپئے آزار

۸۴

ایک نے سخت کہہ کے تنگ کیاایک نے آکے زیر سنگ کیا

۸۵

ایک آیا تو ہاتھ میں شمشیرایک بولا کہ اب ہے کیا تاخیر

۸۶

کی اشارت کہ کودکان شہرآئے لبریز غصہ و پرقہر

۸۷

گرچہ ہنگامہ اس کے سر پر تھالیک روے دل اس کا اودھر تھا

۸۸

محو تھا اس کے یہ خیال کے بیچتھا گرفتار اپنے حال کے بیچ

۸۹

ہونٹھ پر حسن کا بیاں اس کاتھا سر و سنگ آستاں اس کا

۹۰

ایک دم آہ سرد بھر اٹھنانالۂ گرم گاہ کر اٹھنا

۹۱

جی میں کہتا کہ آہ مشکل ہےاس طرف یک نگاہ مشکل ہے

۹۲

دوست کو میرے نام سے ہے ننگدشمنوں سے ہے جی پہ عرصہ تنگ

۹۳

چشم تر سے لہو بہا کرتاصبح کی باد سے کہا کرتا

۹۴

کاے نسیم سحر یہ اس سے کہہمت تغافل کر اور غافل رہ

۹۵

ان بلاؤں میں کوئی کیونکے جیےجان پر آ بنی ہے تیرے لیے

۹۶

جان دوں تیرے واسطے سو توآنکھ اٹھاکر ادھر نہ دیکھے کبھو

۹۷

رفتہ رفتہ ہوا ہوں سودائیدور پہنچی ہے میری رسوائی

۹۸

نام کو بھی ترے نہ جانا آہتجھ سے کیونکر سخن کی نکلے راہ

۹۹

ناامیدانہ گر کروں ہوں نگاہدیکھتا ہوں ہزار روز سیاہ

۱۰۰

سخت مشکل ہے سخت ہے بیدادایک میں خوں گرفتہ سو جلاد

۱۰۱

کوئی مشفق نہیں کہ ہووے شفیقبیکسی بن نہیں ہے کوئی رفیق

۱۰۲

نالہ ہوتا ہے گر کبھی دلجوگریہ آنکھوں سے پونچھتا ہے رو

۱۰۳

آہ جو ہمدمی سی کرتی ہےاب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہے

۱۰۴

چشم رکھتا ہے وصل کی یہ دلجی ہے اس سے اسیر آب و گل

۱۰۵

ورنہ ترکیب یہ کہاں ہوتیصورت اک معنی نہاں ہوتی

۱۰۶

اب ٹھہرتا نہیں ہے پاے ثباتایک میں اور کتنے تصدیعات

۱۰۷

سنگ باراں سے سخت ہوں دل تنگشیشۂ دل نہیں ہے پارۂ سنگ

۱۰۸

محرم یک نگاہ بیش نہیںکم ہے سینے میں جاکہ ریش نہیں

۱۰۹

کیونکے کہیے کہ تو نہیں آگاہاک قیامت بپا ہے یاں سر راہ

۱۱۰

کچھ چھپا تو نہیں رہا یہ رازاک جہاں اس سے ہے خبر پرداز

۱۱۱

پس تغافل ہوا ترحم کرگوش دل جانب تظلم کر

۱۱۲

کون کہتا ہے رہ نہ محو نازپر نہ اتنا کہ جی سے جائے نیاز

۱۱۳

ان بلاؤں پہ ان نے صبر کیااختیار اپنے جی پہ جبر کیا

۱۱۴

اس طرف کا نہ دیکھنا چھوڑااس کے اندوہ سے نہ منھ موڑا

۱۱۵

اور یہ ماجرا ہوا مشہورشور رسوائیوں کا پہنچا دور

۱۱۶

دیکھ کر اس کو بے خور و بے خوابجانا ہر اک نے عاشق بے تاب

۱۱۷

منھ پر اس کے جو رنگ خون نہیںعشق ہے اس کو یہ جنون نہیں

۱۱۸

ہے نگاہ اس کی جس طرف مائلاس طرف ہی گیا ہے اس کا دل

۱۱۹

جب ہوا ذکر اقل و اکثر میںچاہ ثابت ہوئی اسے گھر میں

۱۲۰

عشق بے پردہ جب فسانہ ہوامضطرب کدخداے خانہ ہوا

۱۲۱

گھر میں جا بہر دفع رسوائیبیٹھ کر مشورت یہ ٹھہرائی

۱۲۲

یاں سے یہ غیرت مہ تاباںجا کے چندے کہیں رہے پنہاں

۱۲۳

شب محافے میں اس کو کرکے سوارساتھ دے ایک دایۂ غدار

۱۲۴

پار دریا کے جلد رخصت کیاس طرح فکر رفع تہمت کی

۱۲۵

گھر تھا اک آشنا کا مدنگاہواں ہو روپوش تا یہ غیرت ماہ

۱۲۶

ہووے جب اس بلا سے خاطر جمعنورافزاے خانہ ہو جوں شمع

۱۲۷

گھر سے باہر محافہ جو نکلااس جواں ہی کے پاس ہو نکلا

۱۲۸

طپش دل سے ہو کے یہ آگاہہو لیا ساتھ اس کے بھر کر آہ

۱۲۹

واں کے رہنے سے اس کو کام نہ تھاوہ گلی اس کا کچھ مقام نہ تھا

۱۳۰

جس سے جی کو کمال ہو الفتجس سے دل کی درست ہو نسبت

۱۳۱

جنبش اس کی پلک کو گرداں ہودل میں یاں کاوش نمایاں ہو

۱۳۲

واں اگر موشکست کا ہو بابیاں رگ جاں کو ہووے پیچ و تاب

۱۳۳

واں اگر پاؤں میں لگے ہے خاردل سے یاں سر نکالے ہے یک بار

۱۳۴

یار کو درد چشم اگر ہووےچشم عاشق لہو میں تر ہووے

۱۳۵

چاک دامن میں واں پئے زینتیاں گریباں ہے چاک گل کی صفت

۱۳۶

واں دہن تنگ یاں ہے دل تنگیحسن اور عشق میں ہے یک رنگی

۱۳۷

دست افشاں وہ پاے کوباں یہتھا محافے کے ساتھ گرم رہ

۱۳۸

قطرہ زن اشک سا وہ راہ تمامدرپئے یار تھا وہ بے آرام

۱۳۹

ہر قدم تھا زبان پر جاریخواب ہے یاکہ ہے یہ بیداری

۱۴۰

ہمسری اس کی تھی میسر کبہے مجھے بخت واژگوں سے عجب

۱۴۱

شوق مفرط نے بے تہی کی سختنوشکیبی نے دل سے باندھا رخت

۱۴۲

رفتہ رفتہ سخن ہوئے نالےاڑنے لاگے جگر کے پرکالے

۱۴۳

اضطراب دلی نے زور کیاان نے بے اختیار شور کیا

۱۴۴

دل کے غم کو زبان پر لایاآفت تازہ جان پر لایا

۱۴۵

کاے جفا پیشہ و تغافل کیشاک نظر سے زیاں نہیں کچھ بیش

۱۴۶

منھ چھپایا ہے تونے اس پر بھینگہ التفات ایدھر بھی

۱۴۷

صبر کس کس بلا سے کر گذروںچارہ اس بن نہیں کہ مر گذروں

۱۴۸

منزل وصل دور میں کم پاتجھ کو اس مرتبے میں استغنا

۱۴۹

ہے تو نزدیک دل سے اے طنازلیک تجھ تک سفر ہے دور دراز

۱۵۰

ناز نے یک نفس نہ رخصت دیآئینے نے تجھے نہ فرصت دی

۱۵۱

تو تو واں زلف کو بنایا کیجان یاں پیچ و تاب کھایا کی

۱۵۲

تجھ کو تھی اپنے خال رخ پہ نگاہدل مرا مبتلاے داغ سیاہ

۱۵۳

تجھ کو مدنظر تھی اپنی چالمیں ستم کش ہوا کیا پامال

۱۵۴

بستر خواب پر تجھے آراممجھ کو خمیازہ کھینچنے سے کام

۱۵۵

واں لب لعل تیرے خنداں تھےیاں فشردہ جگر پہ دنداں تھے

۱۵۶

ناز و خوبی نے دل دیا نہ تجھےرحم سے آشنا کیا نہ تجھے

۱۵۷

اب تغافل نہ کر تلطف کرحال پر میرے ٹک تاسف کر

۱۵۸

گوش زد دایہ کے ہوئے یہ سخنتھی وہ استاد کار حیلہ و فن

۱۵۹

پاس اس کو بلا تسلی کیوعدۂ وصل سے تشفی کی

۱۶۰

کاے ستم دیدۂ غم دوریہوچکا اب زمان مہجوری

۱۶۱

زار نالی نہ کر شکیبا ہوعشق کا راز تا نہ رسوا ہو

۱۶۲

دل قوی رکھ نہ جی کو کاہش دےچل کوئی دم کو داد خواہش دے

۱۶۳

سخت دل تنگ تھی یہ غیرت ماہقطع تجھ بن نہ ہوسکی تھی راہ

۱۶۴

گرچہ یہ حسن اتفاق سے ہےاس کی بھی جذب اشتیاق سے ہے

۱۶۵

تیرے آنے سے دل کشادہ ہوانشۂ دوستی زیادہ ہوا

۱۶۶

بزم عشرت کریں گے باہم سازہوجو اب اپنے دوست کا دم ساز

۱۶۷

دے کر اس کو فریب ساتھ لیادل عاشق کو اپنے ہاتھ لیا

۱۶۸

لیک در پردہ ان نے یہ ٹھانیکیجیے اس سے خصمی جانی

۱۶۹

یہ تو دل تفتۂ محبت تھاسخت وارفتۂ محبت تھا

۱۷۰

وقت نزدیک تھا جو آپہنچاتا سر آب پا بہ پا پہنچا

۱۷۱

آب کیسا کہ بحر تھا ذخارتند و مواج و تیرہ و تہ دار

۱۷۲

موج کا ہر کنایہ طوفاں پرمارے چشمک حباب عماں پر

۱۷۳

ہم کنار بلا ہر اک گردابلجہ سرمایہ بخش تیرہ سحاب

۱۷۴

گذر موج جب نہ تب دیکھاساحل اس کا نہ خشک لب دیکھا

۱۷۵

کشتی اک آن کر ہوئی موجودہو فلک سے ہلال جیسے نمود

۱۷۶

کی کنارے پہ لاکے استادہتھا محافہ رکوب آمادہ

۱۷۷

اس سفینے میں جلد جا پہنچایہ بھی واں ساتھ ہی لگا پہنچا

۱۷۸

بیچ دریا میں دایہ نے جاکرکفش اس گل کی اس کو دکھلاکر

۱۷۹

پھینکی پانی کی سطح پر اک باراور بولی کہ او جگرافگار

۱۸۰

حیف تیرے نگار کی پاپوشموج دریا سے ہووے ہم آغوش

۱۸۱

غیرت عشق ہے تو لا اس کوچھوڑ مت یوں برہنہ پا اس کو

۱۸۲

اس طرف اس کے تیں اترنا ہےاس نواحی کی سیر کرنا ہے

۱۸۳

پاؤں اس کے جو ہیں نگار آلودظلم ہے ہوویں گر غبارآلود

۱۸۴

جس کف پا کو رنگ گل ہو بارمنصفی ہے کہ خار سے ہو فگار

۱۸۵

ان پہ نرمی میں گل سے ہوں جو پرےآبلہ چشم کو سیاہ کرے

۱۸۶

یہ روا ہے تو اپنے حال پہ رومفت ناموس عشق کو مت کھو

۱۸۷

جی اگر تھا عزیز اے ناکامکیوں عبث عشق کو کیا بدنام

۱۸۸

سن کے یہ حرف دایۂ مکاردل سے اس کے گیا شکیب و قرار

۱۸۹

بے خبر کار عشق کی تہ سےجست کی ان نے اپنی جاگہ سے

۱۹۰

تھا سفینے میں یا کہ دریا میںموج زنجیر ہوگئی پا میں

۱۹۱

کھنچ گیا قعر کو یہ گوہر نابتھی کشش عشق کی مگر تہ آب

۱۹۲

کہتے ہیں ڈوبتے اچھلتے ہیںلیکن ایسے کوئی نکلتے ہیں

۱۹۳

ڈوبے جو یوں کہیں وہ جا نکلےغرق دریاے عشق کیا نکلے

۱۹۴

عشق نے آہ کھو دیا اس کوآخر آخر ڈبو دیا اس کو

۱۹۵

جب کہ دریا میں ڈوب کر وہ جواںکھو گیا گوہر گرامی جاں

۱۹۶

دایۂ حیلہ گر ہوئی دل شادواں سے کشتی چلی بہ رنگ باد

۱۹۷

خارخار دلی سے فارغ ہولے گئی پار اس گل نو کو

۱۹۸

یہ نہ سمجھی کہ عشق آفت ہےفتنہ سازی میں اک قیامت ہے

۱۹۹

خاک ہو کیوں نہ عاشق بے دلکام سے اپنے یہ نہیں غافل

۲۰۰

وصل جیتے نہ ہو میسر اگرلادے معشوق کو یہ تربت پر

۲۰۱

یاں سے عاشق اگر گئے ناشادخاک خوباں بھی ان نے دی برباد

۲۰۲

قصہ کوتاہ بعد یک ہفتہآئی وہ رشک مہ زخود رفتہ

۲۰۳

کہنے لاگی کہ اب تو اے دایہہوگیا غرق وہ فرومایہ

۲۰۴

اب تو وہ ننگ درمیاں سے گیاآرزومند اس جہاں سے گیا

۲۰۵

تھے جو ہنگامے اس کے حد سے زیادساتھ اس کے گئے وہ شور و فساد

۲۰۶

شور فتنے تھے اس تلک سارےاب تو بدنامیاں نہیں بارے

۲۰۷

دل تڑپتا ہے متصل میرامرغ بسمل ہے یاکہ دل میرا

۲۰۸

وحشت طبع اب تو افزوں ہےحال جی کا مرے دگرگوں ہے

۲۰۹

بے دماغی کمال ہوتی ہےجان تن کے وبال ہوتی ہے

۲۱۰

دل کوئی دم میں خون ہووے گاآج کل میں جنون ہووے گا

۲۱۱

بے کلی جی کو تاب دیتی ہےطاقت دل جواب دیتی ہے

۲۱۲

جی میں آتا ہے ہوں بیابانیپر کہوں ہوں کہ ہے یہ نادانی

۲۱۳

مصلحت ہے کہ مجھ کو لے چل گھرایک دو دم رہیں گے دریا پر

۲۱۴

گاہ باشد کہ دل مرا وا ہوورنہ کیا جانیے کہ پھر کیا ہو

۲۱۵

دایہ بولی کہ اے سراپا نازحسن کا در پہ تیرے روے نیاز

۲۱۶

اب تو میں فتنے کو سلایا ہےاس بلا کے تئیں بٹھایا ہے

۲۱۷

کون مانع ہے گھر کے چلنے کاسد رہ کون ہے نکلنے کا

۲۱۸

ہو محافے میں دل خوشی سے سوارشاد شاداں کر آب سے تو گذار

۲۱۹

دل سے اپنے پدر کے غم کم کرمادر مہرباں کو خرم کر

۲۲۰

کر ملاقات ہمدموں سے توگرم بازی ہو محرموں سے تو

۲۲۱

یہ نہ سوچی کہ بدبلا ہے عشقگھات میں اپنی لگ رہا ہے عشق

۲۲۲

جس کسو سے یہ پیار رکھتا ہےعاقبت اس کو مار رکھتا ہے

۲۲۳

جذب سے اپنے جب کرے ہے کامعاشق مردہ سے بھی لے ہے کام

۲۲۴

صبح گاہاں وہ غیرت خورشیداس جگہ سے رواں ہوئی نومید

۲۲۵

پہنچی نصف النہار دریا پرروئی بے اختیار دریا پر

۲۲۶

حد سے افزوں جو بے قرار ہوئیدایہ کشتی میں لے سوار ہوئی

۲۲۷

حرف زن یوں ہوئی کہ اے دایہیاں گرا تھا کہاں وہ کم مایہ

۲۲۸

موج سے تھا کدھر کو ہم آغوشتھا تلاطم سے کس طرف ہم دوش

۲۲۹

تجھ کو آیا نظر کہاں آکرپھر جو ڈوبا تو کس جگہ جاکر

۲۳۰

مجھ کو دیجو نشان اس جا کامیں بھی دیکھوں خروش دریا کا

۲۳۱

ہوں میں ناآشناے سیر آبناشناساے موجہ و گرداب

۲۳۲

لجہ کیا لطمہ کس کو کہتے ہیںگھر میں ہم نام سنتے رہتے ہیں

۲۳۳

ہیں میسر کہاں یہ سیر عبوراتفاقی ہیں اس طرح کے امور

۲۳۴

مکر میں گرچہ دایہ تھی کامللیک تہ سے سخن کے تھی غافل

۲۳۵

یہ نہ سمجھی کہ ہے فریب عشقہے یہ مہ پارہ ناشکیب عشق

۲۳۶

بیچ دریا کے جا کہا یہ حرفیاں ہوا تھا وہ ماجراے شگرف

۲۳۷

یاں وہ بیٹھا حباب کے مانندپھر نہ تھا کچھ سراب کے مانند

۲۳۸

سنتے ہی یہ کہاں کہاں کر کرگر پڑی قصد ترک جاں کر کر

۲۳۹

موج ہر اک کمند شوق تھی آہلپٹی اس کو بہ رنگ مار سیاہ

۲۴۰

دام گستر دہ عشق تھا تہ آبجس کے حلقے تمام تھے گرداب

۲۴۱

حسن موجوں میں یوں نظر آوےنور مہتاب جیسے لہراوے

۲۴۲

تھیں وہ اس کی حنائی انگشتاںغیرت افزاے پنجۂ مرجاں

۲۴۳

سر پہ جس دم کہ آب ہو کے بہاسطح پانی کا آئینہ سا رہا

۲۴۴

کشش عشق آخر اس مہ کولے گئی کھینچتی ہوئی تہ کو

۲۴۵

کودے غواص و آشنا سارےتابہ مقدور دست و پا مارے

۲۴۶

کھینچ کر کوفت سب ہوئے بیتابنہ لگا ہاتھ وہ در نایاب

۲۴۷

جا ہم آغوش مردہ یار ہوئیتہ میں دریا کے ہم کنار ہوئی

۲۴۸

پاک کی زندگی کی آلائشہو کے دست و بغل کی آسائش

۲۴۹

سر پٹکتی جو گھر گئی دایہآفت اک لے گئی نئی دایہ

۲۵۰

اب و عم مادر و برادر سبخاک افشان و آہ و نالہ بہ لب

۲۵۱

دار و دستہ تمام اس گل کاترک آئین کر تحمل کا

۲۵۲

سوے دریا رواں ہوئے گریاںآتش غم سے دل جگر بریاں

۲۵۳

خلق یک جا ہوئی کنارے پرحشر برپا ہوئی کنارے پر

۲۵۴

دام داروں سے سب نے کام لیاآخر ان کو اسیر دام کیا

۲۵۵

نکلے باہم ولے موئے نکلےدونوں دست و بغل ہوئے نکلے

۲۵۶

ربط چسپاں بہم ہویدا تھامر گئے پر بھی شوق پیدا تھا

۲۵۷

ایک کا ہاتھ ایک کی بالیںایک کے لب سے ایک کو تسکیں

۲۵۸

جو نظر ان کو آن کرتے تھےایک قالب گمان کرتے تھے

۲۵۹

کیا لکھوں مل رہے وہ وصلی وارہم دگر سے جدا ہوئے دشوار

۲۶۰

کیوں نہ دشوار ہووے ان کا فصلجان دے دے ہوا ہو جن کا وصل

۲۶۱

حیرت کار عشق سے مردمشکل تصویر آپ میں تھے گم

مقولۂ شاعر

۲۶۲

میرؔ اب شاعری کو کر موقوفعشق ہے ایک فتنۂ معروف

۲۶۳

قدرت اپنی جہاں دکھاتا ہےاس سے جو تو کہے سو آتا ہے

۲۶۴

کتنی وسعت ترے بیاں میں ہےکتنی طاقت تری زباں میں ہے

۲۶۵

لب پہ اب مہر خامشی بہتریاں سخن کی فرامشی بہتر

۵۲۲ / ۵۸۲