سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا

پلکیں رہیں نہ کیوں تر آنکھیں نہ لاوے کیوں بھروہ دشت اور وہ در پھر اس پہ سیکڑوں ڈرپیدا نہ ہووے رہبر کھویا نہ جاوے کیوں کربیکس کھنچا جو آیا سر باپ کا نہ پایا

About this couplet

This is couplet 21 of 24 in “⁨سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۲۱ / ۲۴