کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا
سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایاکنبے کو ووں کھپایا گھر بار یوں لٹایاسر باپ کا کٹایا تھا سر پہ جس کا سایہلاشے کو اس کے تس پر یوں دھوپ میں جلایا
رخصت نہ تھی کہ مردہ اس کا اٹھا کے جاوےمہلت نہ تھی کہ گھر کے لوگوں کے تیں چھپاوےفرصت نہ تھی کہ رسمیں میت کی کرنے پاوےہر گام ضعف تن نے سو مرتبہ گرایا
گھر کی طرف جو دیکھا سو لٹتے گھر کو دیکھابھائی میں دم نہ دیکھا بے سر پدر کو دیکھادیکھا جدھر نہ اپنا کوئی ادھر کو دیکھاہوتا کوئی تو کہتا تو پرسے کو نہ آیا
آغشتہ خاک و خوں میں جو تھے ہوئے پڑے تھےجوں اشک یار و یاور سارے چوئے پڑے تھےمشفق پدر برادر دونوں موئے پڑے تھےشفقت نہ کی کنھوں نے احوال تو دکھایا
نے کوئی یار جانی نے لطف کچھ زبانیکھانا ملا نہ پانی کاہے کی زندگانیغیروں کی سرگرانی پھر اپنی ناتوانیطاقت نہ تھی بدن میں پر کیا ستم اٹھایا
قوت نہ پاؤں سر میں حیراں غم پدر میںباقی نہ کچھ جگر میں نومیدی سی نظر میںدشمن تمام گھر میں ناموس رہگذر میںغیرت نے دل جلایا خجلت نے جاں کھپایا
کہتا تھا یوں وہ مہموم غم میں سبھوں کے مغمومعمو موا ہو مسموم مقتول جد مرحومبابا کفن سے محروم میں ہوں اسیر مظلومدو ہاتھ جو کھلے تھے سو ان کو بھی بندھایا
کیا تپ نے تن میں چھوڑا خوں جملگی نچوڑاخالی پدر کا گھوڑا دکھلاویں غیر کوڑادل جیسے پکا پھوڑا ہر دم ہو تھوڑا تھوڑاپرخار بادیہ میں ننگے قدم چلایا
حالت تھی اضطراری اک دل میں بے قراریآنکھوں سے اشک جاری ہونٹوں پہ آہ و زاریوہ جسم کی نزاری دکھ اس طرح کا بھاریجب آنکھ اٹھا کے دیکھا تب ایک داغ کھایا
بیمار وہ گراں تھا ازبسکہ ناتواں تھاآرام اسے کہاں تھا ساتھ ایک کارواں تھاغم کا کبھو بیاں تھا روتا کبھوں رواں تھاکیا رسم رحم یکسر واں اٹھ گئی تھی آیا
اصغر موا بچارا اکبر سو ووں سدھاراقاسم کو جی سے مارا بابا کا سر اتاراقوم و قبیلہ سارا یوں کر گیا کنارہپانی دیا نہ قطرہ دریاے خوں بہایا
جامہ گلے میں آبی لب خشک دل کبابیگھر بار کی خرابی اندوہ بے حسابیپھر سب کی پرعتابی چلنے کی یہ شتابینے باپ کو اٹھایا نے بھائی کو گڑایا
وہ انکسار اس کا کوئی نہ یار اس کادل سب نزار اس کا جی بے قرار اس کاجنگل گذار اس کا چھوٹا دیار اس کاکر رحم پاس اس کے کنبہ تنک بلایا
ہر طرف شور و شر تھا درپیش اسے سفر تھاآگے سر پدر تھا لٹتا ادھر کو گھر تھاصبر آہ کس قدر تھا اللہ کیا جگر تھایہ کچھ ستم اٹھایا پر منھ پہ کچھ نہ آیا
لاشوں پہ ہو نکلنا ناچار پاؤں چلناسینے میں جی کا جلنا شرمندگی سے گلنارہ رہ کے ہاتھ ملنا حیرت سے لب نہ ہلنادل تو ہوا تھا خوں سب یہ غم کہاں سمایا
جاہ و حشم کو رووے ناز و نعم کو رووےبابا کے دم کو رووے اہل حرم کو رووےفرط الم کو رووے یا چشم نم کو رووےغم نے جدا کھپایا تپ نے جدا سکھایا
بیماری بے دوائی بختوں کی نارسائیبابا رہا نہ بھائی ان سب کو موت آئییاروں کی بے وفائی لوگوں کی بے روائیاسباب کی کمی نے بہتیرا ہے کڑھایا
جو تھا سو واں کمینہ اس کا کہاں قرینہہر اک کو اس سے کینہ دشوار اس کا جیناہر گام لوہو پینا آ آگیا پسینہپھر جسم کے مرض نے جی کو بہت گھٹایا
بابا کی جستجو میں ملنے کی آرزو میںاک حزن گفتگو میں اک درد مو بہ مو میںطوق گراں گلو میں پھر سر پہ ایسی دھومیںاس خاک میں ملے کو کیا خاک میں ملایا
قوت کوئی جتاوے باتیں کوئی بتاوےکوڑا کوئی دکھاوے کڑیاں کوئی سناوےوہ آنکھ کیا ملاوے رونا چلا ہی آوےبے چارے ناتواں پر کیا زور آزمایا
پلکیں رہیں نہ کیوں تر آنکھیں نہ لاوے کیوں بھروہ دشت اور وہ در پھر اس پہ سیکڑوں ڈرپیدا نہ ہووے رہبر کھویا نہ جاوے کیوں کربیکس کھنچا جو آیا سر باپ کا نہ پایا
جنگل میں آ اترنا بابا کا مفت مرناتنہائی کا گذرنا درد اپنا سب بسرنادکھ اس طرح کا بھرنا ناچار صبر کرنابندہ تھا وہ بھی لیکن کیا ظرف تھا خدایا
القصہ لوگ سارے جی سے گئے بچارےبیٹے بھتیجے پیارے شہ کے تمام مارےتاچند کڑھیے بارے دکھ کھینچ کھینچ ہارےان شہریوں نے مر کر جنگل وہ سب بسایا
باقی اسیر تھے سب فریاد و نالہ برلبمت پوچھنا کوئی اب تھا دن سیاہ جوں شبہے میرؔ بات بے ڈھب خاموشی ہی ہے انسبان قیدیوں کو کن نے ہو ملتفت چھڑایا
۵۳۱ / ۵۸۲