سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا
نے کوئی یار جانی نے لطف کچھ زبانیکھانا ملا نہ پانی کاہے کی زندگانیغیروں کی سرگرانی پھر اپنی ناتوانیطاقت نہ تھی بدن میں پر کیا ستم اٹھایا
About this couplet
This is couplet 5 of 24 in “سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۵ / ۲۴