کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
شکار نامۂ اول
چلا آصف الدولہ بہر شکارنہاد بیاباں سے اٹھا غبار
روانہ ہوئی فوج دریا کے رنگلگا کانپنے ڈر سے شیر و پلنگ
طیور آشیانوں سے جانے لگےوحوش اپنی جانیں چھپانے لگے
سن آواز شیران نر ڈر گئےپلنگ و نمر خوف سے مر گئے
جہاں ببر آیا نظر صید تھابیاباں اسی پہن سے قید تھا
گئے مست ہاتھی مکانوں کو چھوڑدیے پنجۂ شیر نلیوں سے توڑ
نہ دیکھا نہ ہم نے سنا یہ شکارکہ بکری سا ہاتھی کو لیتے ہیں مار
پلنگان صحرا کے دل خوں کیےنہنگان دریا ہوئے مرجیے
کہاں سہل مارے گئے نرہ شیرلگے بکریوں کو پکڑتے بھی دیر
ہوئے لشکری جب کہ سرگرم گشتمقید ہوئے مست فیلان دشت
گئے جانور دشت خالی رہےبیابان جھاڑے گئے توکہے
عجب تر ہے یہ صید کرنے کا ڈھنگکہ چو رنگ ہاتھی ہوئے بے د رنگ
نہ چیتل نہ پاڑھا نہ ارنا نہ شیرہوئے گولیاں کھا کے یک لخت ڈھیر
درندوں کا پیدا نہ نام و نشاںنہ شیر ژیان و نہ پیل دماں
کبھو فیل دشتی نہ جکڑے گئےنہ یوں بھیڑ بکری سے پکڑے گئے
سنا جس طرف فیل دشتی کا میلرواں فوج ادھر کو ہوئی سیل سیل
اگر ٹک بھی اٹکا تو مارا گیاپڑے سینکڑوں پھاند چارا گیا
وگر سرکشی سے کی استادگیتو پیش آئی اک طرفہ افتادگی
پہاڑ ایک ہاتھی مقابل ہوابزور آمد و شد کا حائل ہوا
جٹے دونوں وے دیو میدان میںاٹھا شور محشر بیابان میں
جہاں دونوں فیلوں کی تھی سرزنیشتر مرغ سے واں نہ ہو پر زنی
جو اس مار کھانے پہ اکڑا رہاکئی روز رسوں سے جکڑا رہا
رہے کس طرح پھٹ گیا تھا جگرموا دوپہر میں لہو موت کر
مگر سرکشی سے نہ اپنی ہٹانہ میدان میں ٹک دبا ٹک گھٹا
اشارہ ہوا اس کے چورنگ کاسبھوں کو ارادہ ہوا جنگ کا
برسنے لگا مینھ تیروں کا زورہوا فیل باراں کا جنگل میں شور
لگی پڑنے بجلی سی تیغ سپاہپریشان ہو جیسے ابر سیاہ
نہایت وہ ہاتھی ہوا لخت لختگرا یوں کہ جیوں پارۂ کوہ سخت
رکھا لاکے لشکر میں اثناے راہسر اس کا کٹا جیسے برج سیاہ
رہے کہتے اس دن عجب سب ہے یہسر فیل ہے یا سر شب ہے یہ
اگر دیو ہیں سرگرانی کے ساتھنہ اس تیرگی و کلانی کے ساتھ
دماں خشم گیں جیسے آتش یہ تھامگر فیل سر دیو سرکش یہ تھا
گوزن اور ہرنوں کی کیا دیجے شرحگئے شیر مارے سو کتوں کی طرح
گیا دشت در دشت شور شکارہوئے گرگ آہو کے اوپر سوار
ہرن جھانگیوں میں رہے گھومتےکھپے فیل بیلوں ہی میں جھومتے
برابر رہے گور و شیر ژیاںبرابر تھا دونوں کو وسواس جاں
گئے پیشتر چھوڑ نخچیرگہشغالوں کی روباہ بازی تھی یہ
اس اوقات سے جوکہ بے ہوش تھےبہیروبنہ کے وے خرگوش تھے
اگر ریچھ نکلا تو تھا سو بہ سوبہت مضطرب تھا وہ آشفتہ مو
قلندر سپاہی پئے جاں ہوئےلیے اس کو سر در گریباں ہوئے
علف آب گوں تیغ کا پھر ہواکہیں پاؤں اس کے کہیں سر ہوا
موئے اس طرح حضرت بوحمیدکہ جوں ہوتے ہیں گے بڑے سے پلید
گرے پشت سوے فلک خاک پراک انبوہ تھا جسم ناپاک پر
گئے لادنے فیل پر لشکرییہی ذات تھی لائق برتری
کروں صید ماہی کا کیا میں بیاںکہ فیلوں پہ تھے تودہ تودہ رواں
پڑے سینکڑوں دام تالاب میںنہ چھوٹی تنک خاک اس آب میں
نہ تیتر نہ طاؤس صحرا کے بیچنہ ماہی نہ مرغابی دریا کے بیچ
رہے گوشت ہی پکتے ہر صبح و شامجواں کھاگئے مرغ و ماہی تمام
ہوا حائل راہ بحر عمیقکہ ہو وہم ساحل پہ جس کے غریق
قریب آکے اتری یہ خائف تھی فوجکہ بے ڈول اٹھتی تھی ہر ایک موج
مہیب اور آلودۂ خاک و آببعینہ پھٹی آنکھ تھا ہر حباب
غضب لجہ خیزی بلاجوش پرتلاطم قیامت لیے دوش پر
چلے بس تو کچھ کوئی چارہ کرےمگر دیکھ ہی کر کنارہ کرے
تردد میں ہر اک کہ ہوں کیونکے پارکنارے پہ سرگشتہ گرداب وار
رواں آب ایسی روانی کے ساتھکہ جوں رفتگی ہو جوانی کے ساتھ
لگے پاؤں چلنے جہاں شور تھاکہ کم آب میں بھی بڑا زور تھا
تامل سے اقبال نواب دیکھتوقف کیا پہلے تو آب دیکھ
پھر اس پار جاکر اشارہ کیاکہ لشکر نے ووہیں گزارہ کیا
شباشب اترنے لگے لشکرینہ جوش آب کا وہ نہ ویسی تری
وہ سوتا جگاتا تھا جس کا خطراٹھا شور سے فوج کے چونک کر
نشہ اس کے سر سے اتر سا گیاچڑھائی سے لشکر کی ڈر سا گیا
کچھ اک ناویں لے کچھ شجر کاٹ کرشتابی سے دریا کے تیں پاٹ کر
اترنے لگا لشکر بیکراںکراں تا کراں تھی یہ محشر عیاں
سلامت ہوا پار سب ازدحامرہے دنگ خضر علیہ السلام
شکار اس کنارے بھی تھا بیشترہوئے صید یاں کے جگر ریش تر
گئے ارنے مارے سو مانند فیلہوا خون جنگل میں ان کا سبیل
رہے گور راتوں کے تیں جاگتےگئے ببر کوسوں تلک بھاگتے
پکڑ لائے چیتے گوزن اور گورعصا سے چلے راہ یاں مار و مور
بہت ہم نے دیکھے وزیر و شہاںشکار ایسے دستور سے تھا کہاں
نمک خوار مجھ سے تو ہیں گے ہزارپہ میرا بھی ہونا ہے یھاں یادگار
غرض میرؔ تا دور چرخ بلندرہے آصف الدولہ اقبال مند
کرے اس کا اقبال ہر لحظہ کامشکار اس کے دشمن رہیں صبح و شام
غزل میرؔ کوئی کہا چاہیےٹک اس بھی زمیں پر رہا چاہیے
غزل
ہم وحشیوں پہ کچھ ہو کاہے کو یار ہے تواے ترک صیدپیشہ کس کا شکار ہے تو
پہنچی قریب شاید نخچیرگاہ اس کیجوں صید خوں گرفتہ دل بے قرار ہے تو
دل تجھ تلک رسائی مشکل ہے چشم تر سےعسرالعبور کیسے دریا کے پار ہے تو
شہری ہیں اس کی آنکھیں کیا تجھ کو ان سے نسبتاے آہوے بیاباں اچھا گنوار ہے تو
کیا صبح جلوہ گر ہو خوبی کے آگے تیریاے گل دم تبسم باغ و بہار ہے تو
یھاں دو قدم بھی چلنا بن سر دیے نہ ہووےاے راہ عشق کتنی مشکل گذار ہے تو
لیتا ہے تجھ سے عبرت جو کوئی دیکھتا ہےکیا میرؔ اس گلی میں بے اعتبار ہے تو
باز قدم رنجہ فرمودن آصف الدولہ بہادر روز دیگر براے شکار
چلا پھر بھی نواب گردوں شکاراسد باؤ کے گھوڑے پر ہو سوار
روانہ ہوئی فوج دریا مثالنہنگوں کی اب کھینچی جاوے گی کھال
گیا شور تا آسمان بریںہوئی گرد افواج گردوں قریں
زمیں ہوگئی جاے خوف و خطرفلک کو لگے دیکھنے شیرنر
چڑھا بسکہ دریاے فوج گراںاتر ہاتھیوں کی گئیں مستیاں
دبی چپ لگا چلنے بھیڑوں کی چالپریشاں ہے گرگ بغل زن کا حال
پلنگوں نے کہسار سے راہ لینہنگوں نے دریا کی جا تھاہ لی
بحیرے جو تھے دام سے چھا گئےکشف نیچے ڈھالوں کے گھبرا گئے
درندے پرندے چرندے کھپےگزندوں کے منھ گرد نیچے ڈھپے
تلف جانور ہیں جہاں کے تہاںگوزن اور گور اور آہو کہاں
رہے گور یک شاخ و یک سو غزالتزلزل میں ہیں کیا شجر کیا نہال
شغال اور روباہ و خرگوش سےنہیں بحث کچھ یہ ہیں بے ہوش سے
کوئی شور سن سن کے گھبرائے ہےکوئی کان ڈالے چلا جائے ہے
کوئی ڈھونڈتا ہے بیاباں میں جھاڑکوئی چاہے ہے پھاند جاؤں پہاڑ
کہ شاید یہ اودھر نہ ہو کل مکلکوئی دن جیے اس بلا سے نکل
پھرے مضطرب ہو کے شیر غریںکہ بیشوں میں تھی یا کماں یا کمیں
نکلتا ہے کفتار پر بے حواسہزبر جگرخوار سب ہیں اداس
کیا کام ڈرتے گئے پھٹ جگربن آئی ہی مر مر رہیں ہیں نمر
اگر خرس تھا مفتر و بدمعاشلگا موش خانے کی کرنے تلاش
وگر ببر ہے پیش و پس ہے نگاہنہیں سوجھتی بے حواسی سے راہ
مبادا شکاری سگان رکابگریں آکے مجھ تک بھی پہنچیں شتاب
ہوا آب زہرہ وہ شیری گئیجگر ڈر سے ہے خوں دلیری گئی
ہوئی صیدبندی کی جنگل میں دھومگرے فیل جیسے گھٹا آوے جھوم
بیاباں میں چھایا ہے کیا ابر مرگبرستی ہے گولی بسان تگرگ
لڑائی نہیں ہوں جو مصروف جنگاڑیں رنجکیں اڑتے دشمن کے رنگ
جو آتا ہے پلٹن کو کچھ ولولہچلے ہے کوئی توپ ہے زلزلہ
اگر جاے تھی اس کی کوہ گراںگیا شیر پھنکے بھی جاگہ سے یھاں
نہ دل مرد ہے ببر و گرم شتابدل شیر برفی بھی ڈر سے ہے آب
نہ رنجک کے اڑنے کا اچھا ہے طورہوا آن ہی میں زمانہ کچھ اور
ہوئی گرم آتش زنی سے ہوارکھا آب میں جا کے لگ لگ نے پا
محیط آب گیروں کے تھے مردکارموئے مالک الحزن چندیں ہزار
بہت دام پانی کی جانب جھکےکھڑے رہ گئے رود کیا کیا رکے
ٹھٹک سونس گھڑیال رہ رہ گئےمگرمچھ نہ جانے کدھر بہہ گئے
نہ قشقل نہ سلی نہ سرخاب ہےتمام ان کے لوہو سے سرخ آب ہے
عجب روغن قاز ملتے تھے یارکہ قازوں کو لیتے ہوا میں سے مار
منگاتے تھے بطخ کی چربی ظریفسو وہ چربی اب پھینک دیں ہیں حریف
ہوئے کتنے اقسام ماہی شکارنہ آوے قسم کھائے بن اعتبار
مگر مرگ ماہی تھی جالوں کے بیچکہ یوں مچھلیاں سب نکالیں الیچ
نہ ارنب ہے جنگل میں نے سوسمارکوئی بدوی کیا کھاوے پروردگار
کلنگوں کی الٹی گئی صف کی صفہوئے بیچ میں قرقرے بھی تلف
نہ سبزے گئے سبزہ کھا کھا کے چیتبزے ویسے ہی آئے کھیتوں میں کھیت
بٹیر اور تیتر کا ہے کیا شمارکہ باز آگئے جرے کرتے شکار
ہوا زرد سبزک بہت دل میں ڈرنمدمو ہوا گرد سے شانہ سر
خطرناک تھا دشت کیا کہیے موردبا یوں پھرے جیسے دبتا ہے چور
نہ پاڑھا نہ نیلا نہ چیتل کوئیبنوں میں جو دوں تھی گئی جل کوی
کوئی میرؔ صاحب غزل یاں کہوپر ایسی کہ ویسی کسی سے نہ ہو
غزل
کیا کشت و خوں پہ ان دنوں میلان یار ہےہر جاے پوچھتا ہے کہ یاں کچھ شکار ہے
جاتا ہے اس کشندے کی جانب چلا ہواصید ازل رسیدہ ہے دل بے قرار ہے
آنکھیں جو میری باز ہیں جوں صید بسملیاس ترک صیدبند کا یہ انتظار ہے
عزت جو اس گلی میں ہے اپنی نہ پوچھیےجب جایئے تو خشم ہے گالی ہے مار ہے
جانیں چلی گئیں ہیں بہت قلب گاہ سےتو رہ کے جا کہ راہ ابھی پرغبار ہے
ہے زلف و روے یار سے ہر لحظہ بحث یھاںیہ وجہ ہے کہ شعر مرا پیچدار ہے
کم اختلاطی کا ہے گلہ یار سے عبثکس کشتۂ وفا سے بہت اس کو پیار ہے
گل گل شگفتگی ہے ترے چہرے سے عیاںکچھ آج میری جان قیامت بہار ہے
کیا میرؔ تم کو گریۂ شب سے ہے گفتگوطوفان میری پلکوں کا سردرکنار ہے
نشیب و فراز بیاباں کو سنجو ذی ہوش ہیں وے تو ہوتے ہیں سن
چڑھو آسماں پر جو آوے چڑھاؤپھر اترو تو تحت الثریٰ ہی کو جاؤ
جو اس میں کہیں ہووے لغزش تو خیرکہ درپیش ہے اور عالم کی سیر
زمیں ضیق ازبس ہوئی یک بہ یکنہ پھیلا سکا پاؤں گزپا تنک
ملے پر سے پر تھے ہوا میں کلنگکہ چلنے لگے یاں سے تیر و تفنگ
قیامت تھی آفت تھی ہر ایک چوٹلگے جس کے پھرتا وہیں لوٹ پوٹ
ہوئے خون اس جمع کے بے درنگہوا کا ہوا اور اک دم میں رنگ
نہ پر تھا نہ پرزا نہ بازو نہ پاکنھوں نے بھی پوچھا نہ یوں تھا یہ کیا
نہ زردی کو دیکھا نہ پایا کبودنکالا ہے لوگوں نے پانی سے دود
سپہ کی بلا ترک تازی رہینہ سارس کی وہ سرفرازی رہی
کماں دار مردم سے چارہ گیاکسو کھیت پر مفت مارا گیا
نہ جو فیل دشتی کی مستی گئیوہیں مٹ گیا اس کی ہستی گئی
سنانوں کی نوکوں پہ پھر بٹ گیاوہ کوہ گراں سنگ سب پھٹ گیا
بہت جانور چھوڑ آکھر گئےلگی دوں بہت جل گئے مر گئے
اگر بن ہے گویا بنا ہے اسےکرے قصد واں کا تو کیوں کر گھسے
مگر زور سے کچھ نکلتا ہے کامبہت رنج کھینچے سے چلتا ہے کام
خریدار دستار سرخار بنزمیں پر رکھو پاؤں کانٹوں کو چن
کئی گام یوں راہ چلنا پڑےپھر اس دامگہ سے نکلنا پڑے
تو آگے بیابان پرخار ہےکہیں جھاڑ بوٹا کہیں غار ہے
اگر اس میں پانی نظر پڑ گیاکنارے پہ اس کے یہ چڑھ کر گیا
ہوا حال اپنا پریشاں بہتپھرے مضطرب اور حیراں بہت
ترائی جو واں سے گذرنا ہواکہاروں کے سر چڑھ اترنا ہوا
بیابان وحشت اثر پرخطریہی ڈر ہے ڈر کیا ادھر کیا ادھر
جہاں تک نظر جائے سوکھی ہے کانساگر سبزہ بھی تھا تو تھوہڑ کا بانس
کہیں دل رکے بند ہوجائے دملکھوں کیا نیستاں ہی تھے یک قلم
چلے باؤ دن کو تو ہو سائیں سائیںپڑے رات تو پھر کرے بھائیں بھائیں
نہ سبزہ نہ کھیتی نہ آب رواںکوئی شیر غراں کہ پیل دماں
سو وہ شیر مارا گیا مثل سگوہ ہاتھی پکڑ لائے بے تاز و تگ
کوئی دشت ایسا کہ تھا سبزہ زارہوا دلکش و جرگہ جرگہ شکار
اگر آہوگیری کا ہوتا نہ عیبتو وہ ہم بھی رکھ لیتے بے شک و ریب
مسطح زمیں میل در میل تھینہ دریاچہ تھا کوئی نے جھیل تھی
اگر آگیا رودخانہ کہیںنہ دلخواہ تھا واں سے جانا کہیں
بڑا لطف تھا سیر میں گشت میںنہ تھی دخت رز حیف اس دشت میں
ہوا اک جبل سامنے سے سیاہاسی کی طرف کو پڑی سب کی راہ
عجب لطف کا تھا وہ کوہ گراںکہ صد چشمہ کا اس میں پانی رواں
شجر سبز و پتھر بہت صاف تھےسبھی جیسے الماس شفاف تھے
ہوا ایک ابر اس جبل سے بلندہوا پر بچھے اس کے یزدی پرند
پہر دن سے بارش لگی ہونے زوررہا ساری وہ رات طوفاں کا شور
ہوئے خیمے پانی کے اوپر حبابسب اسباب لوگوں کا تھا زیر آب
نہ پوچھ اور اسباب مردم کا حالنہ چادر رہی خشک نے کوئی پال
قنات اور تنبو بسر سب گئےکھڑے تھے جو کندے اتر سب گئے
بھرا پانی لشکر میں پھیلا ہوااگر فرش بستر تھا تھیلا ہوا
ہوا سرد ازبس ہوئی ایک بارکلیجوں کے ہوتی تھی برچھی سی پار
پھرے باد سے لوگ منھ ڈھانپتےجگر چھاتیوں میں رہے کانپتے
رہا ایسی سردی میں کیدھر شکارہوئے لوگ خیموں کے اندر شکار
بہت پیر جب جی کو تجنے لگےجوانوں کے بھی دانت بجنے لگے
تہ میغ خورشید پنہاں ہوانہ دیکھا مگر روے جاناں ہوا
بہت اسپ و اشتر موئے پاؤں پیٹنکالا انھیں خیمہ گہ سے گھسیٹ
غزل میرؔ یاں کوئی موزوں کروتامل کرو دل جگر خوں کرو
غزل
وہ دل شکار آن جو نکلا شکار کوانداز یک نگاہ سے مارا ہزار کو
چلنا پڑے ہے رکھ کے قدم تیغ تیز پرکس ڈھب سے کاٹیں اس رہ مشکل گذار کو
اڑنے لگے ہے باد میں تو جاں گزا ہے پھرخجلت ہی اس کی زلف سے ہے تیر مار کو
سو بار منھ چڑھاتے ہو کچھ بولتے نہیںیہ بات کیا چڑھو ہو کہے اپنی بار کو
آتا نہیں نظر کہ حصول امید ہوکیا تھام تھام رکھیے دل بے قرار کو
جیتے رہے تو اس سے ہم آغوش ہوں گے ہملبریز گل سے دیکھیں گے جیب و کنار کو
کیا سمجھے خوبی میری خراش جبیں کی تواس کام کو دکھا کسی استاد کار کو
ایسے ستم کیے کہ گیا جی سے میں ندانٹک منصفی سے دیکھو پھر انصاف یار کو
بولا کہ مجھ کو کرتی ہے بدنام گور میرؔہے خوب اگر مٹاوے کوئی اس مزار کو
کسو بن میں ارنوں کا پاکر نشاںلگی جانے ہر صبح فوج گراں
مقابل ہوا آکے جوں فیل مستاگر فیل تھا تو ہوا اس کا پست
غضب ہے خدا کا کوئی اس کے چوٹاگر اسپ اشتر ہے تو لوٹ پوٹ
نہ خوک اس کی جنگل میں گھیرے ہے راہنہ شیر اس کی جانب کرے ہے نگاہ
بڑی دیر جنگل میں دوڑا پھرالیا زیر بندوق آخر گرا
لگی بہنے شمشیر جدول شعارلگے قیمہ کرنے جوانان کار
بہت ایسے مارے بہت کٹ گئےنظر کرکے ہیئت جگر پھٹ گئے
کسو بن میں رونق نہ پائی گئیپھر اس پر جو ایسی اوائی گئی
جگر واں کے شیروں کے پھٹ پھٹ گئےبیابان سے کرگدن ہٹ گئے
نہ فیلوں میں سدھ بدھ نہ شیروں میں زورنہ چیتوں کو جاگہ نہ گوروں کو گور
نہ بوٹی کو چھوڑا نہ باقی ہے جھاڑپہاڑوں کو راہوں سے ڈالا اکھاڑ
پرندہ جہاں پر نہ سکتا تھا مارہوا رہکلے توپ کا واں گذار
نکل شیر جنگل سے حیراں ہوئےاڑاہے جو تھے صاف میداں ہوئے
جہاں چلتے پھرتے نہ تھے مار و مورچلے پہروں واں تیر بندوق زور
شغال اور خرگوش و ہم روبہاںشکاری سگوں نے کیے نوش جاں
ہوا پر جو تھے مرغ پرواز میںگرے سینکڑوں ایک آواز میں
بہت جانور کھا گئے کر کبابہوئے آشیانے ہزاروں خراب
حواصل تھا کیا جو کہوں تھا کہیںکہ تعداد کشتوں کی پاتے نہیں
بہت مضطرب جھانگیوں میں پھرےسلامت نہ آخر گئے برسرے
انھوں ہی میں سیمرغ بھی تھا مگرکہ پر مارتا ہی نہیں کوہ پر
نہیں فیل مرغ اور شتر مرغ ابکہ بعضوں کے طعموں کے کام آئے سب
کسو بن میں تھے نیستاں اور کانسچلے راہ واں لے نہ سکتے تھے سانس
برس مینھ دو دن میں کھل بھی گیاولیکن ہے کہرا لطیفہ نیا
کہ اندھیر تھا جیسے ظاہر ہو دودہوئے ہونٹھ سردی سے سب کے کبود
بلا دھوم سے کوئی گھبرا پڑےجنھیں دیکھو وے کانپتے ہیں کھڑے
ہوا سرد ہوکر گئی جان ماراٹھایا بڑا لطف سیر و شکار
دل اس دود تیرہ سے گھبرا گیاکہیں آگ دیکھی تو جی آگیا
یہی چال تھی ایک دو چار کوسہوا ٹھنڈی ٹھنڈی پڑی ایسی اوس
کسو کوہ کے پاس نکلی جو راہگئی کوہ کی تیغ تک کم نگاہ
بلندی تھی اس کوہ کی تا فلکنگہ جاتے ہی جاتے جاتی تھی تھک
نہ اس رنگ سے صید ہوں گے کہیںہوئی خون کے رنگ رنگیں زمیں
جہاں دام اور دد کی تھی بود و باشلگے چوک لوگوں نے کی واں معاش
ہوا ایک جنگل میں آکر گذرکسو کو نہ تھی واں کسو کی خبر
تراکم قیامت تھا اشجار کاستم پھر ہواے ستمگار کا
کہ اس مرتبہ بارد و سرد تھیہوئے سن مگر برف پرورد تھی
کوئی خاربن حائل رہ ہواپھٹے پیرہن ہوش سب تہ ہوا
درختان بے برگ و بر بدنمانہ اک شاخ پر مرغ رنگیں نوا
بہت سر ملائے بہم تھے شجرولیکن نہ پایا کنھوں نے ثمر
نہ قمری ہوئی نالہ پرداز ٹکنہ بلبل کی واں آئی آواز ٹک
یہی کل مکل تھی یہی کشمکشپھرے مارتے سر کو دیوانہ وش
درختوں کے انبوہ سے رک گئےچلے اتنے جھک کے کہ ہم جھک گئے
اگر شاخ جاگہ سے اپنی ہلیتو کانٹے سی ہم رہرواں پر چلی
جو اس دشت میں تھا کوئی صید بھیسو آگے ہی وہ ہوگیا قید بھی
رہائی ہی مقصود تھی واں سے یارپڑی اپنی سب کو کہاں کا شکار
کہوں کیا کہ یکسر تھے اس میں قلمچلے روسیہ اور سو سو بہم
نہ چھوٹی تھی جاگہ قدم وار بھینہ اٹھتا تھا اک نالۂ زار بھی
کہ دل کو کسو کے لگے جوں خدنگہوئے ایسے سنسان جنگل میں تنگ
نکلنا ہوا کھینچ کر یہ عذابملا بیشتر ایک تہ دار آب
رواں تھا کسو کی طرف تند و تیزہوا اس کے چلنے کی تھی پیش خیز
حباب اس کا چشمک زناں موج پرکہ یوں گرم جاتے ہیں اہل نظر
طلبگار کرتے نہیں سادگینہ ہو جوں گہر ایسی استادگی
کنارے پہ اس کے اترنا ہوادوبالا ہوئی ٹھنڈ مرنا ہوا
نہ رکھتے تھے جوں رند مفلس لباسنہ ان سے ہوا اپنے جامے کا پاس
غزل کہنے کی یہ بھی جا خوب ہےجو اچھی ہو موزوں تو کیا خوب ہے
غزل
حیف اس شکارپیشہ کو ہم سے خبر نہیںہم ہیں شکار خستہ ہمارے جگر نہیں
ہم خاک منھ سے مل کے پھرے جیسے آرسیافسوس ہے کہ روے دل یار ادھر نہیں
آنکھیں نکال اس کے قدم کے تلے رکھیںتو بھی ہمارے حال پہ اس کو نظر نہیں
کیا کیجے جو نہ کیجیے انداز دام کاگلزار کے تو قابل پرواز پر نہیں
نکلی پڑے ہے میان سے کاہے کو ہر گھڑیلاگ اس کی تیغ تیز کو ہم سے اگر نہیں
سر رکھ کے اس کی تیغ تلے مرچکو شتابیاں پاؤں پیٹ پیٹ کے مرنا ہنر نہیں
آنکھیں ہیں اس کی راہ پہ جوں نقش پا ہزارپر میرؔ اس کو کچھ سر سیر و سفر نہیں
لیے کتنے روزوں میں نانک مٹےجواں اس سے آگے بھی جاکر ڈٹے
نہنگ اس طرف کے بحاروں کے سنپلنگ ان بنوں سے چلے سر کو دھن
غریب اشتلم جنگلوں میں رہانہ جھانکا ادھر کوہ سے اژدہا
گیا سینکڑوں کوس شور شکاررہے ٹھور حیوان یکجا ہزار
چلا باز چھاتی کو کھولے جہاںپرندہ رہا وہم کا بے گماں
زمیں گرد جرہ ہے کیا تیز بالرکھا جن نے اٹھتے ہی مرغ خیال
فلک سیر شاہیں کی پرواز دیکھلگے جوں نگہ جا کے انداز دیکھ
نہ جھاڑا گیا نسر طائر سے سرگھٹا کرگس چرخ چھوٹا نہ پر
رواں جس گھڑی ہوتی فوج گراںبہیروبنہ ہر طرف سے عیاں
زمیں پر قدم کوئی کیوں کر دھرےبیاباں فراخی سے تنگی کرے
کوئی شعبہ آیا اگر درمیاںہوا اور لشکر سے محشر عیاں
بلندی و پستی تھی اتنی کڈھبکہ گاہے زمیں گہ فلک پر تھے سب
کوئی نالا کھولا اگر آگیاتو اپنا کیا پھر کوئی پاگیا
گرے یاں رہے یاں یہی چال تھیجہاں در جہاں خلق پامال تھی
ہوا دن تو یوں کھینچتے رنج شامگئی رات چوروں کے ڈر میں تمام
کہے ہے کوئی کون آتا ہے یہپکارے کوئی کون جاتا ہے یہ
لگے آنکھ کپڑوں کے تیں زور ہوپھر آرام سے رات کو سو رہو
ہوا خیمہ گہ دامن کوہ سبرہا آکے نواب واں تین شب
قریب ایک مٹیاپہاڑی تھی واںلگا اس سے کم کم تھا آب رواں
پہاڑی کہ تودہ کہوں خاک کاکہ انبار تھا خار و خاشاک کا
محاذی تھا اس کوہ کے ایک دشتکہ دشوار تھا اس میں آدم کا گشت
ہوا بد بہت اور پانی لگےقدم راہ چلتے ہوئے ڈگمگے
چلے باؤ تو ایک موحش ہے شوررکھے پاؤں دامن کو کھینچے بہ زور
فقط خاربن کیا کپڑپھاڑ تھاکہ بوٹا بھی واں جھاڑجھنکاڑ تھا
چلو ہی چلو ہے یہ چلتے نہیںکہ اشجار آگے سے ٹلتے نہیں
نہ ٹوٹیں نہ سرکیں نہ کاٹے کٹیںمگر پچھلے پاؤں ہی رہ رہ ہٹیں
کہیں ہاتھی آیا ہے بھڑکا ہے اونٹکھڑے لوگ پیتے ہیں لوہو کے گھونٹ
کہیں ہیں گے انفار سرگرم جنگکرے ٹٹو پرتل کا عرصہ ہے تنگ
قیامت نمودار ہر ہر قدمچلے کوئی کیا رکھ کے سر بر قدم
کہیں بچ کے نکلے کہیں جھک چلےکہیں مضطرب تھے کہیں رک چلے
اسی طور منزل کو کر قطع راہپہنچتے رہے ہم بحال تباہ
شجر جمع تھے کچھ تہ کوہ بھیفرود آیا اس جا یہ انبوہ بھی
زمیں اونچی نیچی خشونت بہتاسی سے تھی واں کم سکونت بہت
ولیکن وہی خاک زشت و پلشتہوئی بود آدم سے رشک بہشت
ہوئی بیلچوں سے برابر زمیںچمن سے بھی شاداب وہ سرزمیں
وہ پانی جو چلتا نہ تھا ڈھنگ سےکہ تھا رہ گرا سرزناں سنگ سے
صفا اور خوبی میں کچھ بڑھ گیاکئی ہاتھ مقدار سے چڑھ گیا
غزل اس زمیں پر بھی کہنی ہے میرؔدل اپنا ہے لطف سخن کا اسیر
غزل
وہ کماں ابرو اگر در پے ہوا ہے میرؔ کےترکش ان پلکوں کا ہے بالاے ترکش تیر کے
یوں تو کہتا ہے گلے کا تو مرے تعویذ ہےپر نہیں آثار ظاہر یار کی تسخیر کے
میں بھی زنجیری رہا ہوں دیر گلشن کے قریبپہنچے ہوں گے دور تک نالے مری زنجیر کے
خون ہی دست حنائی سے کیا کرتے ہو تملو کبھو ٹک ہاتھ میں دل کو کسو دل گیر کے
بندہ و صاحب میں نسبت ہے ولے نازک بہتمعترف رہتے ہیں عاشق اپنی ہی تقصیر کے
اور بھی وہ رشک خور کچھ اب خنک ملنے لگامعتقد ہم کیا ہوں آہ صبح کی تاثیر کے
روے دلکش وہ خدا جانے کہ کس سے کھنچ گیامیرؔ ہم عاشق رہے ہیں ایسی ہی تصویر کے
پہاڑی سے لشکر چلا سوے کوہچلے بس تو کریے سیہ روے کوہ
پڑی وادی سوختہ بیچ میںکہیں آب میں تھے کہیں کیچ میں
نیستان سے ہے خرابہ کڈھنگپٹیلے سے عرصہ نہایت ہے تنگ
شجر جنگل ایسے تھے انبوہ سےکہ ان میں سے جانا ہو اندوہ سے
کہیں بید کے برگ خنجرگزارکہیں پا نہ رکھنے دیں سرتیز خار
تنک دو درختوں کے اودھر ہوئےنیستان پھرتے ہی پھرتے موئے
اگر بید آئے تو بن بیدبافنہ آئے نظر دور تک راہ صاف
اگر بانس تھے واں تو تھے دشت دشتکہ دشوار تھا دو قدم کا بھی گشت
ہمیں چار نالے اترنے پڑےکنارے پہ دو دو گھڑی تھے کھڑے
رہا ہر قدم گرنے ہی کا خطرچلے دو قدم راہ پائی اگر
بہت لوگ دشت قلم کو گئےبہت اسپ و اشتر عدم کو گئے
لگی ہاتھ فیلان دشتی کی راہولے ڈر نہ ہو فیل کوئی سیاہ
نہ ہاتھی ملا کوئی بارے نہ شیرہوئی خیر گو طے ہوئی راہ دیر
شجر سرکشیدہ بہت کیا کہوںجو دیکھوں تو پگڑی سنبھالے رہوں
چنار ان درختوں کے تھے پائمالسفیدار رکھتے تھے حکم نہال
اگر کوئی دریاچہ آتا ہے بیچتو لوگوں کے روندوں سے ہوتا ہے کیچ
تل کوہ رفعت نمودار ہوگیا آمد و شد میں ہموار ہو
کوئی گل زمیں ایسی آئی نظرکہ عالم نے اودھر لگائی نظر
کہیں سبزۂ تر سے جی جا لگےکہیں سرسوں پھولے دلوں کو ٹھگے
نہ تھا پر گل زرد دامان کوہیہی رنگ تھا تا گریبان کوہ
فضا دلکشا آب یکسر صفاشجر خوش نما نرم نرمک ہوا
چکارے بہت مارے کہسار میںدو رستہ بکا گوشت بازار میں
یہ انبوہ اشجار تا شش کروہپھر آگے بیاباں وہ ہے اور کوہ
کناروں میں اس کے کہیں کوئی کھیتوگرنہ یہی سنگ بے رتبہ ریت
نہ سبزہ کہیں تھا نہ آب رواںنہ دامن میں اس کے چکارا دواں
دکھائی نہ دیتا تھا خوش قد نہالسیاہی پکڑتے تھے چشم غزال
وہی جنگلہ دوطرف بدنمودمقام اس طرح کے بھی ہیں یادبود
نہ پھولی تھی سرسوں نہ کچھ تھی بہارنہ ظاہر میں اس کے کہیں لالہ زار
نہ چشمک زناں دور نزدیک پھولنہ نرمی سے آتی تھی باد قبول
چلے باد ایسے کہ جھکڑ رہےہوا اور پانی میں پھکڑ رہے
ادھر باد کا شور ادھر آب کاشب و روز مذکور کیا خواب کا
ادھر کے تئیں ایک تھا آبشاروہ البتہ شایان سیر و شکار
وہیں ایک دم تھا دلوں کا لگاؤاڑانے نہ دے جو حواسوں کو باؤ
سو اپنے تئیں تو نہ تھا کچھ دماغکہ حال اپنا جیسا تھا بجھتا چراغ
بہت شعبۂ کوہ مشہور تھازبانوں پہ لوگوں کے مذکور تھا
قدم رکھ جو نواب وھاں تک گیاسر اس شعبہ کا آسماں تک گیا
کڈھب وہ جگہ سیرگہ ہوگئیحضور اس کے فردوس تہ ہوگئی
ہوا خیمہ استادہ ایسی جگہکہ آنے لگی دیر واں سے نگہ
رواں دوطرف اس کے ایک آب کمکہ دل کا لیے جائے سب زنگ غم
جہاں تک نظر کیجے مدنظرہوا موج زن کوہ کے تا کمر
نظر والوں کے جی بھی ڈھلنے لگےگرفتہ دل اس جاے کھلنے لگے
وہ پانی چلا واں سے دریا ہوارواں گرم تر سوے صحرا ہوا
بہا دامن کوہ میں سنگ پرکیا سنگ ریزوں کو بھی رنگ پر
کہ لوگ ان کو ہاتھوں میں رکھنے لگےجواہر کے رنگوں پرکھنے لگے
کراڑوں کا کیا عظم کیجے بیاںبرابر کھڑے تھے دو کوہ گراں
انھیں میں سے تھی راہ اس آب کیوہیں بھیڑ رہتی تھی احباب کی
ہوئے دامن کوہ میں کچھ مقامسفر کی بھی مدت ہو شاید تمام
کوئی روز گھاٹی کی بھی سیر ہےسبھوں کی ہے معلوم پھر خیر ہے
جو اس میں کسو شیر کا دیں نشاںنظر آئے یا کوئی پیل دماں
تو اور ایک دو دن کی ہوتی ہے دیروہ ہاتھی بندھے کہیے گا یا وہ شیر
شکار ایسا دیکھا ہے اس بار کاکہ جھاڑا ہوا دشت و کہسار کا
کوئی دیکھے کب تک پہاڑ اور جھاڑٹلے چھاتی پر سے کہیں یہ پہاڑ
غرض ہے وزیر جہاں ارجمندرئیس کلاں کار عالم پسند
در اس کا ہے باب سجود سراںرہیں حکم کش اس کے زور آوراں
سدا وہ رہے یوں ہی دشمن شکارجہاں میں سخن ہے مرا یادگار
بہانے نہ کر میرؔ اب شاخ شاخغزل کہہ زمیں گوکہ ہے سنگلاخ
غزل
نہیں خوں بستگی سے چشم تر بندجراحت نے کیے ہیں چشم پر بند
گیا ہے وہ سو دل کھلتا نہیں ہےپڑا ہے ایک مدت سے یہ گھر بند
کریں ہیں شوق گل خوں دل میں ناچاراسیران شکستہ بال و پربند
گئے دن ٹکٹکی کے باندھنے کےاب آنکھیں رہتی ہیں دو دو پہر بند
بہت ہے یار کا کم بولنا بھینہیں چنداں ہم ان باتوں کے در بند
سبھوں سے آرسی کے مثل وا ہوکسو کے منھ پہ دروازہ نہ کر بند
ہمارے ہاتھ خنجر سے کرو قطعنہ کھلوایا کبھو اس کا کمربند
رکے ہے یار آنکھیں ہی دکھا کرہم اس کے ان دنوں میں ہیں نظربند
نہ خط آتا ہے اودھر سے نہ قاصدلکھوں کیا مدتوں سے ہے خبر بند
غزل کا قافیہ تغئیر کر میرؔہنر کچھ اس زمیں میں میرؔ کر بند
غزل
جگرخوں کن ہیں خوبان حنابنددل ان کے دست رنگیں کا ہے پابند
گرہ بند قبا میں دے ہمیں دیکھہوا کیا آہ باغ دلکشا بند
رکھ آہ سرد ہی سے گرم جوشیرکے ہے دل جو ہوتی ہے ہوا بند
ہمیں سے کیا وہ جادوگر نہ بولےکسو دشمن نے اس کا منھ کیا بند
نہیں تھمتا ہے اب پلکوں سے رونابہت خاشاک سے دریا رہا بند
ہمیں منظور ہر صورت میں ہے دیدکھلی ہو چشم جوں آئینہ یا بند
نہیں کام آتی اتنی تیزگامیسمند عمر ہوتا کاش جا بند
زبردستوں کی کشتی ہوگئی پاکنکالا عشق زورآور نے کیا بند
یہی انداز باندھے ہیں یہی نازقیامت میرؔ صاحب ہیں ادابند
۵۳۳ / ۵۸۲