کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

شکار نامۂ اول

۱

چلا آصف الدولہ بہر شکارنہاد بیاباں سے اٹھا غبار

۲

روانہ ہوئی فوج دریا کے رنگلگا کانپنے ڈر سے شیر و پلنگ

۳

طیور آشیانوں سے جانے لگےوحوش اپنی جانیں چھپانے لگے

۴

سن آواز شیران نر ڈر گئےپلنگ و نمر خوف سے مر گئے

۵

جہاں ببر آیا نظر صید تھابیاباں اسی پہن سے قید تھا

۶

گئے مست ہاتھی مکانوں کو چھوڑدیے پنجۂ شیر نلیوں سے توڑ

۷

نہ دیکھا نہ ہم نے سنا یہ شکارکہ بکری سا ہاتھی کو لیتے ہیں مار

۸

پلنگان صحرا کے دل خوں کیےنہنگان دریا ہوئے مرجیے

۹

کہاں سہل مارے گئے نرہ شیرلگے بکریوں کو پکڑتے بھی دیر

۱۰

ہوئے لشکری جب کہ سرگرم گشتمقید ہوئے مست فیلان دشت

۱۱

گئے جانور دشت خالی رہےبیابان جھاڑے گئے توکہے

۱۲

عجب تر ہے یہ صید کرنے کا ڈھنگکہ چو رنگ ہاتھی ہوئے بے د رنگ

۱۳

نہ چیتل نہ پاڑھا نہ ارنا نہ شیرہوئے گولیاں کھا کے یک لخت ڈھیر

۱۴

درندوں کا پیدا نہ نام و نشاںنہ شیر ژیان و نہ پیل دماں

۱۵

کبھو فیل دشتی نہ جکڑے گئےنہ یوں بھیڑ بکری سے پکڑے گئے

۱۶

سنا جس طرف فیل دشتی کا میلرواں فوج ادھر کو ہوئی سیل سیل

۱۷

اگر ٹک بھی اٹکا تو مارا گیاپڑے سینکڑوں پھاند چارا گیا

۱۸

وگر سرکشی سے کی استادگیتو پیش آئی اک طرفہ افتادگی

۱۹

پہاڑ ایک ہاتھی مقابل ہوابزور آمد و شد کا حائل ہوا

۲۰

جٹے دونوں وے دیو میدان میںاٹھا شور محشر بیابان میں

۲۱

جہاں دونوں فیلوں کی تھی سرزنیشتر مرغ سے واں نہ ہو پر زنی

۲۲

جو اس مار کھانے پہ اکڑا رہاکئی روز رسوں سے جکڑا رہا

۲۳

رہے کس طرح پھٹ گیا تھا جگرموا دوپہر میں لہو موت کر

۲۴

مگر سرکشی سے نہ اپنی ہٹانہ میدان میں ٹک دبا ٹک گھٹا

۲۵

اشارہ ہوا اس کے چورنگ کاسبھوں کو ارادہ ہوا جنگ کا

۲۶

برسنے لگا مینھ تیروں کا زورہوا فیل باراں کا جنگل میں شور

۲۷

لگی پڑنے بجلی سی تیغ سپاہپریشان ہو جیسے ابر سیاہ

۲۸

نہایت وہ ہاتھی ہوا لخت لختگرا یوں کہ جیوں پارۂ کوہ سخت

۲۹

رکھا لاکے لشکر میں اثناے راہسر اس کا کٹا جیسے برج سیاہ

۳۰

رہے کہتے اس دن عجب سب ہے یہسر فیل ہے یا سر شب ہے یہ

۳۱

اگر دیو ہیں سرگرانی کے ساتھنہ اس تیرگی و کلانی کے ساتھ

۳۲

دماں خشم گیں جیسے آتش یہ تھامگر فیل سر دیو سرکش یہ تھا

۳۳

گوزن اور ہرنوں کی کیا دیجے شرحگئے شیر مارے سو کتوں کی طرح

۳۴

گیا دشت در دشت شور شکارہوئے گرگ آہو کے اوپر سوار

۳۵

ہرن جھانگیوں میں رہے گھومتےکھپے فیل بیلوں ہی میں جھومتے

۳۶

برابر رہے گور و شیر ژیاںبرابر تھا دونوں کو وسواس جاں

۳۷

گئے پیشتر چھوڑ نخچیرگہشغالوں کی روباہ بازی تھی یہ

۳۸

اس اوقات سے جوکہ بے ہوش تھےبہیروبنہ کے وے خرگوش تھے

۳۹

اگر ریچھ نکلا تو تھا سو بہ سوبہت مضطرب تھا وہ آشفتہ مو

۴۰

قلندر سپاہی پئے جاں ہوئےلیے اس کو سر در گریباں ہوئے

۴۱

علف آب گوں تیغ کا پھر ہواکہیں پاؤں اس کے کہیں سر ہوا

۴۲

موئے اس طرح حضرت بوحمیدکہ جوں ہوتے ہیں گے بڑے سے پلید

۴۳

گرے پشت سوے فلک خاک پراک انبوہ تھا جسم ناپاک پر

۴۴

گئے لادنے فیل پر لشکرییہی ذات تھی لائق برتری

۴۵

کروں صید ماہی کا کیا میں بیاںکہ فیلوں پہ تھے تودہ تودہ رواں

۴۶

پڑے سینکڑوں دام تالاب میںنہ چھوٹی تنک خاک اس آب میں

۴۷

نہ تیتر نہ طاؤس صحرا کے بیچنہ ماہی نہ مرغابی دریا کے بیچ

۴۸

رہے گوشت ہی پکتے ہر صبح و شامجواں کھاگئے مرغ و ماہی تمام

۴۹

ہوا حائل راہ بحر عمیقکہ ہو وہم ساحل پہ جس کے غریق

۵۰

قریب آکے اتری یہ خائف تھی فوجکہ بے ڈول اٹھتی تھی ہر ایک موج

۵۱

مہیب اور آلودۂ خاک و آببعینہ پھٹی آنکھ تھا ہر حباب

۵۲

غضب لجہ خیزی بلاجوش پرتلاطم قیامت لیے دوش پر

۵۳

چلے بس تو کچھ کوئی چارہ کرےمگر دیکھ ہی کر کنارہ کرے

۵۴

تردد میں ہر اک کہ ہوں کیونکے پارکنارے پہ سرگشتہ گرداب وار

۵۵

رواں آب ایسی روانی کے ساتھکہ جوں رفتگی ہو جوانی کے ساتھ

۵۶

لگے پاؤں چلنے جہاں شور تھاکہ کم آب میں بھی بڑا زور تھا

۵۷

تامل سے اقبال نواب دیکھتوقف کیا پہلے تو آب دیکھ

۵۸

پھر اس پار جاکر اشارہ کیاکہ لشکر نے ووہیں گزارہ کیا

۵۹

شباشب اترنے لگے لشکرینہ جوش آب کا وہ نہ ویسی تری

۶۰

وہ سوتا جگاتا تھا جس کا خطراٹھا شور سے فوج کے چونک کر

۶۱

نشہ اس کے سر سے اتر سا گیاچڑھائی سے لشکر کی ڈر سا گیا

۶۲

کچھ اک ناویں لے کچھ شجر کاٹ کرشتابی سے دریا کے تیں پاٹ کر

۶۳

اترنے لگا لشکر بیکراںکراں تا کراں تھی یہ محشر عیاں

۶۴

سلامت ہوا پار سب ازدحامرہے دنگ خضر علیہ السلام

۶۵

شکار اس کنارے بھی تھا بیشترہوئے صید یاں کے جگر ریش تر

۶۶

گئے ارنے مارے سو مانند فیلہوا خون جنگل میں ان کا سبیل

۶۷

رہے گور راتوں کے تیں جاگتےگئے ببر کوسوں تلک بھاگتے

۶۸

پکڑ لائے چیتے گوزن اور گورعصا سے چلے راہ یاں مار و مور

۶۹

بہت ہم نے دیکھے وزیر و شہاںشکار ایسے دستور سے تھا کہاں

۷۰

نمک خوار مجھ سے تو ہیں گے ہزارپہ میرا بھی ہونا ہے یھاں یادگار

۷۱

غرض میرؔ تا دور چرخ بلندرہے آصف الدولہ اقبال مند

۷۲

کرے اس کا اقبال ہر لحظہ کامشکار اس کے دشمن رہیں صبح و شام

۷۳

غزل میرؔ کوئی کہا چاہیےٹک اس بھی زمیں پر رہا چاہیے

غزل

۷۴

ہم وحشیوں پہ کچھ ہو کاہے کو یار ہے تواے ترک صیدپیشہ کس کا شکار ہے تو

۷۵

پہنچی قریب شاید نخچیرگاہ اس کیجوں صید خوں گرفتہ دل بے قرار ہے تو

۷۶

دل تجھ تلک رسائی مشکل ہے چشم تر سےعسرالعبور کیسے دریا کے پار ہے تو

۷۷

شہری ہیں اس کی آنکھیں کیا تجھ کو ان سے نسبتاے آہوے بیاباں اچھا گنوار ہے تو

۷۸

کیا صبح جلوہ گر ہو خوبی کے آگے تیریاے گل دم تبسم باغ و بہار ہے تو

۷۹

یھاں دو قدم بھی چلنا بن سر دیے نہ ہووےاے راہ عشق کتنی مشکل گذار ہے تو

۸۰

لیتا ہے تجھ سے عبرت جو کوئی دیکھتا ہےکیا میرؔ اس گلی میں بے اعتبار ہے تو

باز قدم رنجہ فرمودن آصف الدولہ بہادر روز دیگر براے شکار

۸۱

چلا پھر بھی نواب گردوں شکاراسد باؤ کے گھوڑے پر ہو سوار

۸۲

روانہ ہوئی فوج دریا مثالنہنگوں کی اب کھینچی جاوے گی کھال

۸۳

گیا شور تا آسمان بریںہوئی گرد افواج گردوں قریں

۸۴

زمیں ہوگئی جاے خوف و خطرفلک کو لگے دیکھنے شیرنر

۸۵

چڑھا بسکہ دریاے فوج گراںاتر ہاتھیوں کی گئیں مستیاں

۸۶

دبی چپ لگا چلنے بھیڑوں کی چالپریشاں ہے گرگ بغل زن کا حال

۸۷

پلنگوں نے کہسار سے راہ لینہنگوں نے دریا کی جا تھاہ لی

۸۸

بحیرے جو تھے دام سے چھا گئےکشف نیچے ڈھالوں کے گھبرا گئے

۸۹

درندے پرندے چرندے کھپےگزندوں کے منھ گرد نیچے ڈھپے

۹۰

تلف جانور ہیں جہاں کے تہاںگوزن اور گور اور آہو کہاں

۹۱

رہے گور یک شاخ و یک سو غزالتزلزل میں ہیں کیا شجر کیا نہال

۹۲

شغال اور روباہ و خرگوش سےنہیں بحث کچھ یہ ہیں بے ہوش سے

۹۳

کوئی شور سن سن کے گھبرائے ہےکوئی کان ڈالے چلا جائے ہے

۹۴

کوئی ڈھونڈتا ہے بیاباں میں جھاڑکوئی چاہے ہے پھاند جاؤں پہاڑ

۹۵

کہ شاید یہ اودھر نہ ہو کل مکلکوئی دن جیے اس بلا سے نکل

۹۶

پھرے مضطرب ہو کے شیر غریںکہ بیشوں میں تھی یا کماں یا کمیں

۹۷

نکلتا ہے کفتار پر بے حواسہزبر جگرخوار سب ہیں اداس

۹۸

کیا کام ڈرتے گئے پھٹ جگربن آئی ہی مر مر رہیں ہیں نمر

۹۹

اگر خرس تھا مفتر و بدمعاشلگا موش خانے کی کرنے تلاش

۱۰۰

وگر ببر ہے پیش و پس ہے نگاہنہیں سوجھتی بے حواسی سے راہ

۱۰۱

مبادا شکاری سگان رکابگریں آکے مجھ تک بھی پہنچیں شتاب

۱۰۲

ہوا آب زہرہ وہ شیری گئیجگر ڈر سے ہے خوں دلیری گئی

۱۰۳

ہوئی صیدبندی کی جنگل میں دھومگرے فیل جیسے گھٹا آوے جھوم

۱۰۴

بیاباں میں چھایا ہے کیا ابر مرگبرستی ہے گولی بسان تگرگ

۱۰۵

لڑائی نہیں ہوں جو مصروف جنگاڑیں رنجکیں اڑتے دشمن کے رنگ

۱۰۶

جو آتا ہے پلٹن کو کچھ ولولہچلے ہے کوئی توپ ہے زلزلہ

۱۰۷

اگر جاے تھی اس کی کوہ گراںگیا شیر پھنکے بھی جاگہ سے یھاں

۱۰۸

نہ دل مرد ہے ببر و گرم شتابدل شیر برفی بھی ڈر سے ہے آب

۱۰۹

نہ رنجک کے اڑنے کا اچھا ہے طورہوا آن ہی میں زمانہ کچھ اور

۱۱۰

ہوئی گرم آتش زنی سے ہوارکھا آب میں جا کے لگ لگ نے پا

۱۱۱

محیط آب گیروں کے تھے مردکارموئے مالک الحزن چندیں ہزار

۱۱۲

بہت دام پانی کی جانب جھکےکھڑے رہ گئے رود کیا کیا رکے

۱۱۳

ٹھٹک سونس گھڑیال رہ رہ گئےمگرمچھ نہ جانے کدھر بہہ گئے

۱۱۴

نہ قشقل نہ سلی نہ سرخاب ہےتمام ان کے لوہو سے سرخ آب ہے

۱۱۵

عجب روغن قاز ملتے تھے یارکہ قازوں کو لیتے ہوا میں سے مار

۱۱۶

منگاتے تھے بطخ کی چربی ظریفسو وہ چربی اب پھینک دیں ہیں حریف

۱۱۷

ہوئے کتنے اقسام ماہی شکارنہ آوے قسم کھائے بن اعتبار

۱۱۸

مگر مرگ ماہی تھی جالوں کے بیچکہ یوں مچھلیاں سب نکالیں الیچ

۱۱۹

نہ ارنب ہے جنگل میں نے سوسمارکوئی بدوی کیا کھاوے پروردگار

۱۲۰

کلنگوں کی الٹی گئی صف کی صفہوئے بیچ میں قرقرے بھی تلف

۱۲۱

نہ سبزے گئے سبزہ کھا کھا کے چیتبزے ویسے ہی آئے کھیتوں میں کھیت

۱۲۲

بٹیر اور تیتر کا ہے کیا شمارکہ باز آگئے جرے کرتے شکار

۱۲۳

ہوا زرد سبزک بہت دل میں ڈرنمدمو ہوا گرد سے شانہ سر

۱۲۴

خطرناک تھا دشت کیا کہیے موردبا یوں پھرے جیسے دبتا ہے چور

۱۲۵

نہ پاڑھا نہ نیلا نہ چیتل کوئیبنوں میں جو دوں تھی گئی جل کوی

۱۲۶

کوئی میرؔ صاحب غزل یاں کہوپر ایسی کہ ویسی کسی سے نہ ہو

غزل

۱۲۷

کیا کشت و خوں پہ ان دنوں میلان یار ہےہر جاے پوچھتا ہے کہ یاں کچھ شکار ہے

۱۲۸

جاتا ہے اس کشندے کی جانب چلا ہواصید ازل رسیدہ ہے دل بے قرار ہے

۱۲۹

آنکھیں جو میری باز ہیں جوں صید بسملیاس ترک صیدبند کا یہ انتظار ہے

۱۳۰

عزت جو اس گلی میں ہے اپنی نہ پوچھیےجب جایئے تو خشم ہے گالی ہے مار ہے

۱۳۱

جانیں چلی گئیں ہیں بہت قلب گاہ سےتو رہ کے جا کہ راہ ابھی پرغبار ہے

۱۳۲

ہے زلف و روے یار سے ہر لحظہ بحث یھاںیہ وجہ ہے کہ شعر مرا پیچدار ہے

۱۳۳

کم اختلاطی کا ہے گلہ یار سے عبثکس کشتۂ وفا سے بہت اس کو پیار ہے

۱۳۴

گل گل شگفتگی ہے ترے چہرے سے عیاںکچھ آج میری جان قیامت بہار ہے

۱۳۵

کیا میرؔ تم کو گریۂ شب سے ہے گفتگوطوفان میری پلکوں کا سردرکنار ہے

۱۳۶

نشیب و فراز بیاباں کو سنجو ذی ہوش ہیں وے تو ہوتے ہیں سن

۱۳۷

چڑھو آسماں پر جو آوے چڑھاؤپھر اترو تو تحت الثریٰ ہی کو جاؤ

۱۳۸

جو اس میں کہیں ہووے لغزش تو خیرکہ درپیش ہے اور عالم کی سیر

۱۳۹

زمیں ضیق ازبس ہوئی یک بہ یکنہ پھیلا سکا پاؤں گزپا تنک

۱۴۰

ملے پر سے پر تھے ہوا میں کلنگکہ چلنے لگے یاں سے تیر و تفنگ

۱۴۱

قیامت تھی آفت تھی ہر ایک چوٹلگے جس کے پھرتا وہیں لوٹ پوٹ

۱۴۲

ہوئے خون اس جمع کے بے درنگہوا کا ہوا اور اک دم میں رنگ

۱۴۳

نہ پر تھا نہ پرزا نہ بازو نہ پاکنھوں نے بھی پوچھا نہ یوں تھا یہ کیا

۱۴۴

نہ زردی کو دیکھا نہ پایا کبودنکالا ہے لوگوں نے پانی سے دود

۱۴۵

سپہ کی بلا ترک تازی رہینہ سارس کی وہ سرفرازی رہی

۱۴۶

کماں دار مردم سے چارہ گیاکسو کھیت پر مفت مارا گیا

۱۴۷

نہ جو فیل دشتی کی مستی گئیوہیں مٹ گیا اس کی ہستی گئی

۱۴۸

سنانوں کی نوکوں پہ پھر بٹ گیاوہ کوہ گراں سنگ سب پھٹ گیا

۱۴۹

بہت جانور چھوڑ آکھر گئےلگی دوں بہت جل گئے مر گئے

۱۵۰

اگر بن ہے گویا بنا ہے اسےکرے قصد واں کا تو کیوں کر گھسے

۱۵۱

مگر زور سے کچھ نکلتا ہے کامبہت رنج کھینچے سے چلتا ہے کام

۱۵۲

خریدار دستار سرخار بنزمیں پر رکھو پاؤں کانٹوں کو چن

۱۵۳

کئی گام یوں راہ چلنا پڑےپھر اس دامگہ سے نکلنا پڑے

۱۵۴

تو آگے بیابان پرخار ہےکہیں جھاڑ بوٹا کہیں غار ہے

۱۵۵

اگر اس میں پانی نظر پڑ گیاکنارے پہ اس کے یہ چڑھ کر گیا

۱۵۶

ہوا حال اپنا پریشاں بہتپھرے مضطرب اور حیراں بہت

۱۵۷

ترائی جو واں سے گذرنا ہواکہاروں کے سر چڑھ اترنا ہوا

۱۵۸

بیابان وحشت اثر پرخطریہی ڈر ہے ڈر کیا ادھر کیا ادھر

۱۵۹

جہاں تک نظر جائے سوکھی ہے کانساگر سبزہ بھی تھا تو تھوہڑ کا بانس

۱۶۰

کہیں دل رکے بند ہوجائے دملکھوں کیا نیستاں ہی تھے یک قلم

۱۶۱

چلے باؤ دن کو تو ہو سائیں سائیںپڑے رات تو پھر کرے بھائیں بھائیں

۱۶۲

نہ سبزہ نہ کھیتی نہ آب رواںکوئی شیر غراں کہ پیل دماں

۱۶۳

سو وہ شیر مارا گیا مثل سگوہ ہاتھی پکڑ لائے بے تاز و تگ

۱۶۴

کوئی دشت ایسا کہ تھا سبزہ زارہوا دلکش و جرگہ جرگہ شکار

۱۶۵

اگر آہوگیری کا ہوتا نہ عیبتو وہ ہم بھی رکھ لیتے بے شک و ریب

۱۶۶

مسطح زمیں میل در میل تھینہ دریاچہ تھا کوئی نے جھیل تھی

۱۶۷

اگر آگیا رودخانہ کہیںنہ دلخواہ تھا واں سے جانا کہیں

۱۶۸

بڑا لطف تھا سیر میں گشت میںنہ تھی دخت رز حیف اس دشت میں

۱۶۹

ہوا اک جبل سامنے سے سیاہاسی کی طرف کو پڑی سب کی راہ

۱۷۰

عجب لطف کا تھا وہ کوہ گراںکہ صد چشمہ کا اس میں پانی رواں

۱۷۱

شجر سبز و پتھر بہت صاف تھےسبھی جیسے الماس شفاف تھے

۱۷۲

ہوا ایک ابر اس جبل سے بلندہوا پر بچھے اس کے یزدی پرند

۱۷۳

پہر دن سے بارش لگی ہونے زوررہا ساری وہ رات طوفاں کا شور

۱۷۴

ہوئے خیمے پانی کے اوپر حبابسب اسباب لوگوں کا تھا زیر آب

۱۷۵

نہ پوچھ اور اسباب مردم کا حالنہ چادر رہی خشک نے کوئی پال

۱۷۶

قنات اور تنبو بسر سب گئےکھڑے تھے جو کندے اتر سب گئے

۱۷۷

بھرا پانی لشکر میں پھیلا ہوااگر فرش بستر تھا تھیلا ہوا

۱۷۸

ہوا سرد ازبس ہوئی ایک بارکلیجوں کے ہوتی تھی برچھی سی پار

۱۷۹

پھرے باد سے لوگ منھ ڈھانپتےجگر چھاتیوں میں رہے کانپتے

۱۸۰

رہا ایسی سردی میں کیدھر شکارہوئے لوگ خیموں کے اندر شکار

۱۸۱

بہت پیر جب جی کو تجنے لگےجوانوں کے بھی دانت بجنے لگے

۱۸۲

تہ میغ خورشید پنہاں ہوانہ دیکھا مگر روے جاناں ہوا

۱۸۳

بہت اسپ و اشتر موئے پاؤں پیٹنکالا انھیں خیمہ گہ سے گھسیٹ

۱۸۴

غزل میرؔ یاں کوئی موزوں کروتامل کرو دل جگر خوں کرو

غزل

۱۸۵

وہ دل شکار آن جو نکلا شکار کوانداز یک نگاہ سے مارا ہزار کو

۱۸۶

چلنا پڑے ہے رکھ کے قدم تیغ تیز پرکس ڈھب سے کاٹیں اس رہ مشکل گذار کو

۱۸۷

اڑنے لگے ہے باد میں تو جاں گزا ہے پھرخجلت ہی اس کی زلف سے ہے تیر مار کو

۱۸۸

سو بار منھ چڑھاتے ہو کچھ بولتے نہیںیہ بات کیا چڑھو ہو کہے اپنی بار کو

۱۸۹

آتا نہیں نظر کہ حصول امید ہوکیا تھام تھام رکھیے دل بے قرار کو

۱۹۰

جیتے رہے تو اس سے ہم آغوش ہوں گے ہملبریز گل سے دیکھیں گے جیب و کنار کو

۱۹۱

کیا سمجھے خوبی میری خراش جبیں کی تواس کام کو دکھا کسی استاد کار کو

۱۹۲

ایسے ستم کیے کہ گیا جی سے میں ندانٹک منصفی سے دیکھو پھر انصاف یار کو

۱۹۳

بولا کہ مجھ کو کرتی ہے بدنام گور میرؔہے خوب اگر مٹاوے کوئی اس مزار کو

۱۹۴

کسو بن میں ارنوں کا پاکر نشاںلگی جانے ہر صبح فوج گراں

۱۹۵

مقابل ہوا آکے جوں فیل مستاگر فیل تھا تو ہوا اس کا پست

۱۹۶

غضب ہے خدا کا کوئی اس کے چوٹاگر اسپ اشتر ہے تو لوٹ پوٹ

۱۹۷

نہ خوک اس کی جنگل میں گھیرے ہے راہنہ شیر اس کی جانب کرے ہے نگاہ

۱۹۸

بڑی دیر جنگل میں دوڑا پھرالیا زیر بندوق آخر گرا

۱۹۹

لگی بہنے شمشیر جدول شعارلگے قیمہ کرنے جوانان کار

۲۰۰

بہت ایسے مارے بہت کٹ گئےنظر کرکے ہیئت جگر پھٹ گئے

۲۰۱

کسو بن میں رونق نہ پائی گئیپھر اس پر جو ایسی اوائی گئی

۲۰۲

جگر واں کے شیروں کے پھٹ پھٹ گئےبیابان سے کرگدن ہٹ گئے

۲۰۳

نہ فیلوں میں سدھ بدھ نہ شیروں میں زورنہ چیتوں کو جاگہ نہ گوروں کو گور

۲۰۴

نہ بوٹی کو چھوڑا نہ باقی ہے جھاڑپہاڑوں کو راہوں سے ڈالا اکھاڑ

۲۰۵

پرندہ جہاں پر نہ سکتا تھا مارہوا رہکلے توپ کا واں گذار

۲۰۶

نکل شیر جنگل سے حیراں ہوئےاڑاہے جو تھے صاف میداں ہوئے

۲۰۷

جہاں چلتے پھرتے نہ تھے مار و مورچلے پہروں واں تیر بندوق زور

۲۰۸

شغال اور خرگوش و ہم روبہاںشکاری سگوں نے کیے نوش جاں

۲۰۹

ہوا پر جو تھے مرغ پرواز میںگرے سینکڑوں ایک آواز میں

۲۱۰

بہت جانور کھا گئے کر کبابہوئے آشیانے ہزاروں خراب

۲۱۱

حواصل تھا کیا جو کہوں تھا کہیںکہ تعداد کشتوں کی پاتے نہیں

۲۱۲

بہت مضطرب جھانگیوں میں پھرےسلامت نہ آخر گئے برسرے

۲۱۳

انھوں ہی میں سیمرغ بھی تھا مگرکہ پر مارتا ہی نہیں کوہ پر

۲۱۴

نہیں فیل مرغ اور شتر مرغ ابکہ بعضوں کے طعموں کے کام آئے سب

۲۱۵

کسو بن میں تھے نیستاں اور کانسچلے راہ واں لے نہ سکتے تھے سانس

۲۱۶

برس مینھ دو دن میں کھل بھی گیاولیکن ہے کہرا لطیفہ نیا

۲۱۷

کہ اندھیر تھا جیسے ظاہر ہو دودہوئے ہونٹھ سردی سے سب کے کبود

۲۱۸

بلا دھوم سے کوئی گھبرا پڑےجنھیں دیکھو وے کانپتے ہیں کھڑے

۲۱۹

ہوا سرد ہوکر گئی جان ماراٹھایا بڑا لطف سیر و شکار

۲۲۰

دل اس دود تیرہ سے گھبرا گیاکہیں آگ دیکھی تو جی آگیا

۲۲۱

یہی چال تھی ایک دو چار کوسہوا ٹھنڈی ٹھنڈی پڑی ایسی اوس

۲۲۲

کسو کوہ کے پاس نکلی جو راہگئی کوہ کی تیغ تک کم نگاہ

۲۲۳

بلندی تھی اس کوہ کی تا فلکنگہ جاتے ہی جاتے جاتی تھی تھک

۲۲۴

نہ اس رنگ سے صید ہوں گے کہیںہوئی خون کے رنگ رنگیں زمیں

۲۲۵

جہاں دام اور دد کی تھی بود و باشلگے چوک لوگوں نے کی واں معاش

۲۲۶

ہوا ایک جنگل میں آکر گذرکسو کو نہ تھی واں کسو کی خبر

۲۲۷

تراکم قیامت تھا اشجار کاستم پھر ہواے ستمگار کا

۲۲۸

کہ اس مرتبہ بارد و سرد تھیہوئے سن مگر برف پرورد تھی

۲۲۹

کوئی خاربن حائل رہ ہواپھٹے پیرہن ہوش سب تہ ہوا

۲۳۰

درختان بے برگ و بر بدنمانہ اک شاخ پر مرغ رنگیں نوا

۲۳۱

بہت سر ملائے بہم تھے شجرولیکن نہ پایا کنھوں نے ثمر

۲۳۲

نہ قمری ہوئی نالہ پرداز ٹکنہ بلبل کی واں آئی آواز ٹک

۲۳۳

یہی کل مکل تھی یہی کشمکشپھرے مارتے سر کو دیوانہ وش

۲۳۴

درختوں کے انبوہ سے رک گئےچلے اتنے جھک کے کہ ہم جھک گئے

۲۳۵

اگر شاخ جاگہ سے اپنی ہلیتو کانٹے سی ہم رہرواں پر چلی

۲۳۶

جو اس دشت میں تھا کوئی صید بھیسو آگے ہی وہ ہوگیا قید بھی

۲۳۷

رہائی ہی مقصود تھی واں سے یارپڑی اپنی سب کو کہاں کا شکار

۲۳۸

کہوں کیا کہ یکسر تھے اس میں قلمچلے روسیہ اور سو سو بہم

۲۳۹

نہ چھوٹی تھی جاگہ قدم وار بھینہ اٹھتا تھا اک نالۂ زار بھی

۲۴۰

کہ دل کو کسو کے لگے جوں خدنگہوئے ایسے سنسان جنگل میں تنگ

۲۴۱

نکلنا ہوا کھینچ کر یہ عذابملا بیشتر ایک تہ دار آب

۲۴۲

رواں تھا کسو کی طرف تند و تیزہوا اس کے چلنے کی تھی پیش خیز

۲۴۳

حباب اس کا چشمک زناں موج پرکہ یوں گرم جاتے ہیں اہل نظر

۲۴۴

طلبگار کرتے نہیں سادگینہ ہو جوں گہر ایسی استادگی

۲۴۵

کنارے پہ اس کے اترنا ہوادوبالا ہوئی ٹھنڈ مرنا ہوا

۲۴۶

نہ رکھتے تھے جوں رند مفلس لباسنہ ان سے ہوا اپنے جامے کا پاس

۲۴۷

غزل کہنے کی یہ بھی جا خوب ہےجو اچھی ہو موزوں تو کیا خوب ہے

غزل

۲۴۸

حیف اس شکارپیشہ کو ہم سے خبر نہیںہم ہیں شکار خستہ ہمارے جگر نہیں

۲۴۹

ہم خاک منھ سے مل کے پھرے جیسے آرسیافسوس ہے کہ روے دل یار ادھر نہیں

۲۵۰

آنکھیں نکال اس کے قدم کے تلے رکھیںتو بھی ہمارے حال پہ اس کو نظر نہیں

۲۵۱

کیا کیجے جو نہ کیجیے انداز دام کاگلزار کے تو قابل پرواز پر نہیں

۲۵۲

نکلی پڑے ہے میان سے کاہے کو ہر گھڑیلاگ اس کی تیغ تیز کو ہم سے اگر نہیں

۲۵۳

سر رکھ کے اس کی تیغ تلے مرچکو شتابیاں پاؤں پیٹ پیٹ کے مرنا ہنر نہیں

۲۵۴

آنکھیں ہیں اس کی راہ پہ جوں نقش پا ہزارپر میرؔ اس کو کچھ سر سیر و سفر نہیں

۲۵۵

لیے کتنے روزوں میں نانک مٹےجواں اس سے آگے بھی جاکر ڈٹے

۲۵۶

نہنگ اس طرف کے بحاروں کے سنپلنگ ان بنوں سے چلے سر کو دھن

۲۵۷

غریب اشتلم جنگلوں میں رہانہ جھانکا ادھر کوہ سے اژدہا

۲۵۸

گیا سینکڑوں کوس شور شکاررہے ٹھور حیوان یکجا ہزار

۲۵۹

چلا باز چھاتی کو کھولے جہاںپرندہ رہا وہم کا بے گماں

۲۶۰

زمیں گرد جرہ ہے کیا تیز بالرکھا جن نے اٹھتے ہی مرغ خیال

۲۶۱

فلک سیر شاہیں کی پرواز دیکھلگے جوں نگہ جا کے انداز دیکھ

۲۶۲

نہ جھاڑا گیا نسر طائر سے سرگھٹا کرگس چرخ چھوٹا نہ پر

۲۶۳

رواں جس گھڑی ہوتی فوج گراںبہیروبنہ ہر طرف سے عیاں

۲۶۴

زمیں پر قدم کوئی کیوں کر دھرےبیاباں فراخی سے تنگی کرے

۲۶۵

کوئی شعبہ آیا اگر درمیاںہوا اور لشکر سے محشر عیاں

۲۶۶

بلندی و پستی تھی اتنی کڈھبکہ گاہے زمیں گہ فلک پر تھے سب

۲۶۷

کوئی نالا کھولا اگر آگیاتو اپنا کیا پھر کوئی پاگیا

۲۶۸

گرے یاں رہے یاں یہی چال تھیجہاں در جہاں خلق پامال تھی

۲۶۹

ہوا دن تو یوں کھینچتے رنج شامگئی رات چوروں کے ڈر میں تمام

۲۷۰

کہے ہے کوئی کون آتا ہے یہپکارے کوئی کون جاتا ہے یہ

۲۷۱

لگے آنکھ کپڑوں کے تیں زور ہوپھر آرام سے رات کو سو رہو

۲۷۲

ہوا خیمہ گہ دامن کوہ سبرہا آکے نواب واں تین شب

۲۷۳

قریب ایک مٹیاپہاڑی تھی واںلگا اس سے کم کم تھا آب رواں

۲۷۴

پہاڑی کہ تودہ کہوں خاک کاکہ انبار تھا خار و خاشاک کا

۲۷۵

محاذی تھا اس کوہ کے ایک دشتکہ دشوار تھا اس میں آدم کا گشت

۲۷۶

ہوا بد بہت اور پانی لگےقدم راہ چلتے ہوئے ڈگمگے

۲۷۷

چلے باؤ تو ایک موحش ہے شوررکھے پاؤں دامن کو کھینچے بہ زور

۲۷۸

فقط خاربن کیا کپڑپھاڑ تھاکہ بوٹا بھی واں جھاڑجھنکاڑ تھا

۲۷۹

چلو ہی چلو ہے یہ چلتے نہیںکہ اشجار آگے سے ٹلتے نہیں

۲۸۰

نہ ٹوٹیں نہ سرکیں نہ کاٹے کٹیںمگر پچھلے پاؤں ہی رہ رہ ہٹیں

۲۸۱

کہیں ہاتھی آیا ہے بھڑکا ہے اونٹکھڑے لوگ پیتے ہیں لوہو کے گھونٹ

۲۸۲

کہیں ہیں گے انفار سرگرم جنگکرے ٹٹو پرتل کا عرصہ ہے تنگ

۲۸۳

قیامت نمودار ہر ہر قدمچلے کوئی کیا رکھ کے سر بر قدم

۲۸۴

کہیں بچ کے نکلے کہیں جھک چلےکہیں مضطرب تھے کہیں رک چلے

۲۸۵

اسی طور منزل کو کر قطع راہپہنچتے رہے ہم بحال تباہ

۲۸۶

شجر جمع تھے کچھ تہ کوہ بھیفرود آیا اس جا یہ انبوہ بھی

۲۸۷

زمیں اونچی نیچی خشونت بہتاسی سے تھی واں کم سکونت بہت

۲۸۸

ولیکن وہی خاک زشت و پلشتہوئی بود آدم سے رشک بہشت

۲۸۹

ہوئی بیلچوں سے برابر زمیںچمن سے بھی شاداب وہ سرزمیں

۲۹۰

وہ پانی جو چلتا نہ تھا ڈھنگ سےکہ تھا رہ گرا سرزناں سنگ سے

۲۹۱

صفا اور خوبی میں کچھ بڑھ گیاکئی ہاتھ مقدار سے چڑھ گیا

۲۹۲

غزل اس زمیں پر بھی کہنی ہے میرؔدل اپنا ہے لطف سخن کا اسیر

غزل

۲۹۳

وہ کماں ابرو اگر در پے ہوا ہے میرؔ کےترکش ان پلکوں کا ہے بالاے ترکش تیر کے

۲۹۴

یوں تو کہتا ہے گلے کا تو مرے تعویذ ہےپر نہیں آثار ظاہر یار کی تسخیر کے

۲۹۵

میں بھی زنجیری رہا ہوں دیر گلشن کے قریبپہنچے ہوں گے دور تک نالے مری زنجیر کے

۲۹۶

خون ہی دست حنائی سے کیا کرتے ہو تملو کبھو ٹک ہاتھ میں دل کو کسو دل گیر کے

۲۹۷

بندہ و صاحب میں نسبت ہے ولے نازک بہتمعترف رہتے ہیں عاشق اپنی ہی تقصیر کے

۲۹۸

اور بھی وہ رشک خور کچھ اب خنک ملنے لگامعتقد ہم کیا ہوں آہ صبح کی تاثیر کے

۲۹۹

روے دلکش وہ خدا جانے کہ کس سے کھنچ گیامیرؔ ہم عاشق رہے ہیں ایسی ہی تصویر کے

۳۰۰

پہاڑی سے لشکر چلا سوے کوہچلے بس تو کریے سیہ روے کوہ

۳۰۱

پڑی وادی سوختہ بیچ میںکہیں آب میں تھے کہیں کیچ میں

۳۰۲

نیستان سے ہے خرابہ کڈھنگپٹیلے سے عرصہ نہایت ہے تنگ

۳۰۳

شجر جنگل ایسے تھے انبوہ سےکہ ان میں سے جانا ہو اندوہ سے

۳۰۴

کہیں بید کے برگ خنجرگزارکہیں پا نہ رکھنے دیں سرتیز خار

۳۰۵

تنک دو درختوں کے اودھر ہوئےنیستان پھرتے ہی پھرتے موئے

۳۰۶

اگر بید آئے تو بن بیدبافنہ آئے نظر دور تک راہ صاف

۳۰۷

اگر بانس تھے واں تو تھے دشت دشتکہ دشوار تھا دو قدم کا بھی گشت

۳۰۸

ہمیں چار نالے اترنے پڑےکنارے پہ دو دو گھڑی تھے کھڑے

۳۰۹

رہا ہر قدم گرنے ہی کا خطرچلے دو قدم راہ پائی اگر

۳۱۰

بہت لوگ دشت قلم کو گئےبہت اسپ و اشتر عدم کو گئے

۳۱۱

لگی ہاتھ فیلان دشتی کی راہولے ڈر نہ ہو فیل کوئی سیاہ

۳۱۲

نہ ہاتھی ملا کوئی بارے نہ شیرہوئی خیر گو طے ہوئی راہ دیر

۳۱۳

شجر سرکشیدہ بہت کیا کہوںجو دیکھوں تو پگڑی سنبھالے رہوں

۳۱۴

چنار ان درختوں کے تھے پائمالسفیدار رکھتے تھے حکم نہال

۳۱۵

اگر کوئی دریاچہ آتا ہے بیچتو لوگوں کے روندوں سے ہوتا ہے کیچ

۳۱۶

تل کوہ رفعت نمودار ہوگیا آمد و شد میں ہموار ہو

۳۱۷

کوئی گل زمیں ایسی آئی نظرکہ عالم نے اودھر لگائی نظر

۳۱۸

کہیں سبزۂ تر سے جی جا لگےکہیں سرسوں پھولے دلوں کو ٹھگے

۳۱۹

نہ تھا پر گل زرد دامان کوہیہی رنگ تھا تا گریبان کوہ

۳۲۰

فضا دلکشا آب یکسر صفاشجر خوش نما نرم نرمک ہوا

۳۲۱

چکارے بہت مارے کہسار میںدو رستہ بکا گوشت بازار میں

۳۲۲

یہ انبوہ اشجار تا شش کروہپھر آگے بیاباں وہ ہے اور کوہ

۳۲۳

کناروں میں اس کے کہیں کوئی کھیتوگرنہ یہی سنگ بے رتبہ ریت

۳۲۴

نہ سبزہ کہیں تھا نہ آب رواںنہ دامن میں اس کے چکارا دواں

۳۲۵

دکھائی نہ دیتا تھا خوش قد نہالسیاہی پکڑتے تھے چشم غزال

۳۲۶

وہی جنگلہ دوطرف بدنمودمقام اس طرح کے بھی ہیں یادبود

۳۲۷

نہ پھولی تھی سرسوں نہ کچھ تھی بہارنہ ظاہر میں اس کے کہیں لالہ زار

۳۲۸

نہ چشمک زناں دور نزدیک پھولنہ نرمی سے آتی تھی باد قبول

۳۲۹

چلے باد ایسے کہ جھکڑ رہےہوا اور پانی میں پھکڑ رہے

۳۳۰

ادھر باد کا شور ادھر آب کاشب و روز مذکور کیا خواب کا

۳۳۱

ادھر کے تئیں ایک تھا آبشاروہ البتہ شایان سیر و شکار

۳۳۲

وہیں ایک دم تھا دلوں کا لگاؤاڑانے نہ دے جو حواسوں کو باؤ

۳۳۳

سو اپنے تئیں تو نہ تھا کچھ دماغکہ حال اپنا جیسا تھا بجھتا چراغ

۳۳۴

بہت شعبۂ کوہ مشہور تھازبانوں پہ لوگوں کے مذکور تھا

۳۳۵

قدم رکھ جو نواب وھاں تک گیاسر اس شعبہ کا آسماں تک گیا

۳۳۶

کڈھب وہ جگہ سیرگہ ہوگئیحضور اس کے فردوس تہ ہوگئی

۳۳۷

ہوا خیمہ استادہ ایسی جگہکہ آنے لگی دیر واں سے نگہ

۳۳۸

رواں دوطرف اس کے ایک آب کمکہ دل کا لیے جائے سب زنگ غم

۳۳۹

جہاں تک نظر کیجے مدنظرہوا موج زن کوہ کے تا کمر

۳۴۰

نظر والوں کے جی بھی ڈھلنے لگےگرفتہ دل اس جاے کھلنے لگے

۳۴۱

وہ پانی چلا واں سے دریا ہوارواں گرم تر سوے صحرا ہوا

۳۴۲

بہا دامن کوہ میں سنگ پرکیا سنگ ریزوں کو بھی رنگ پر

۳۴۳

کہ لوگ ان کو ہاتھوں میں رکھنے لگےجواہر کے رنگوں پرکھنے لگے

۳۴۴

کراڑوں کا کیا عظم کیجے بیاںبرابر کھڑے تھے دو کوہ گراں

۳۴۵

انھیں میں سے تھی راہ اس آب کیوہیں بھیڑ رہتی تھی احباب کی

۳۴۶

ہوئے دامن کوہ میں کچھ مقامسفر کی بھی مدت ہو شاید تمام

۳۴۷

کوئی روز گھاٹی کی بھی سیر ہےسبھوں کی ہے معلوم پھر خیر ہے

۳۴۸

جو اس میں کسو شیر کا دیں نشاںنظر آئے یا کوئی پیل دماں

۳۴۹

تو اور ایک دو دن کی ہوتی ہے دیروہ ہاتھی بندھے کہیے گا یا وہ شیر

۳۵۰

شکار ایسا دیکھا ہے اس بار کاکہ جھاڑا ہوا دشت و کہسار کا

۳۵۱

کوئی دیکھے کب تک پہاڑ اور جھاڑٹلے چھاتی پر سے کہیں یہ پہاڑ

۳۵۲

غرض ہے وزیر جہاں ارجمندرئیس کلاں کار عالم پسند

۳۵۳

در اس کا ہے باب سجود سراںرہیں حکم کش اس کے زور آوراں

۳۵۴

سدا وہ رہے یوں ہی دشمن شکارجہاں میں سخن ہے مرا یادگار

۳۵۵

بہانے نہ کر میرؔ اب شاخ شاخغزل کہہ زمیں گوکہ ہے سنگلاخ

غزل

۳۵۶

نہیں خوں بستگی سے چشم تر بندجراحت نے کیے ہیں چشم پر بند

۳۵۷

گیا ہے وہ سو دل کھلتا نہیں ہےپڑا ہے ایک مدت سے یہ گھر بند

۳۵۸

کریں ہیں شوق گل خوں دل میں ناچاراسیران شکستہ بال و پربند

۳۵۹

گئے دن ٹکٹکی کے باندھنے کےاب آنکھیں رہتی ہیں دو دو پہر بند

۳۶۰

بہت ہے یار کا کم بولنا بھینہیں چنداں ہم ان باتوں کے در بند

۳۶۱

سبھوں سے آرسی کے مثل وا ہوکسو کے منھ پہ دروازہ نہ کر بند

۳۶۲

ہمارے ہاتھ خنجر سے کرو قطعنہ کھلوایا کبھو اس کا کمربند

۳۶۳

رکے ہے یار آنکھیں ہی دکھا کرہم اس کے ان دنوں میں ہیں نظربند

۳۶۴

نہ خط آتا ہے اودھر سے نہ قاصدلکھوں کیا مدتوں سے ہے خبر بند

۳۶۵

غزل کا قافیہ تغئیر کر میرؔہنر کچھ اس زمیں میں میرؔ کر بند

غزل

۳۶۶

جگرخوں کن ہیں خوبان حنابنددل ان کے دست رنگیں کا ہے پابند

۳۶۷

گرہ بند قبا میں دے ہمیں دیکھہوا کیا آہ باغ دلکشا بند

۳۶۸

رکھ آہ سرد ہی سے گرم جوشیرکے ہے دل جو ہوتی ہے ہوا بند

۳۶۹

ہمیں سے کیا وہ جادوگر نہ بولےکسو دشمن نے اس کا منھ کیا بند

۳۷۰

نہیں تھمتا ہے اب پلکوں سے رونابہت خاشاک سے دریا رہا بند

۳۷۱

ہمیں منظور ہر صورت میں ہے دیدکھلی ہو چشم جوں آئینہ یا بند

۳۷۲

نہیں کام آتی اتنی تیزگامیسمند عمر ہوتا کاش جا بند

۳۷۳

زبردستوں کی کشتی ہوگئی پاکنکالا عشق زورآور نے کیا بند

۳۷۴

یہی انداز باندھے ہیں یہی نازقیامت میرؔ صاحب ہیں ادابند

۵۳۳ / ۵۸۲