کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسین

۱

سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسینرکھو ادھر کو بھی ٹک گوش از براے حسینجہاں سے واسطے امت کے جی سے جائے حسینہزار حیف کہ امت نہ ہو فداے حسین

۲

حسین آکے مدینے سے خانماں سے گیاحسین تشنہ گرسنہ ہو اس جہاں سے گیاحسین بیکس و بے یار اپنی جاں سے گیاجگر ہو سنگ کا سننے کو ماجراے حسین

۳

حسین بے دل و غمناک بے وطن بھی ہواحسین جی سے گیا ٹکڑے سب بدن بھی ہواحسین کو نہ ہوئی گور بے کفن بھی ہواحسین کو کوئی کیا کہہ کے روئے ہائے حسین

۴

حسین کا سا جگر کن نے یاں کیا ہے کہوکسو نے جی کے تئیں اس طرح دیا ہے کہوکوئی تو خون جگر جن نے یوں پیا ہے کہوحسین جانے ہے یا جانے ہے خداے حسین

۵

جبیں پہ زخم لگا چشمہ چشمہ خون بہاخیال آئے بہت جی میں لیک کچھ نہ کہاجھکا کے سر کے تئیں سجدے میں رہا سو رہاجفا کی تیغ تھی مرآت حق نماے حسین

۶

جو تعزیے کی ہو مجلس بکا کرو یاروغم حسین میں چپکے رہا کرو یاروبجاے چشم بھی اب گوش وا کرو یاروکہ سرگذشت کہے ہے سر جداے حسین

۷

حسین کشتہ ہوں تیرے ثبات پا کا ہائےحسین تو ہی تھا شائستہ اپنی جا کا ہائےترا ہی کام اٹھانا تھا اس بلا کا ہائےکیا ہے ایسا جگر کن نے تجھ سواے حسین

۸

کہیں عزا کہیں آنکھوں کو چشمہ ساں ہیں جوشتمام خلق میں انواع ہیں گے جوش و خروشجہان قدس کے باشندگاں ہیں نیلی پوشنہیں ہیں ہم ہی فقط کشتۂ وفاے حسین

۹

جراحتوں سے تھا یاقوت رنگ خوں جاریحسین ہائے تری اٹھ گئی سبھا ساریلڑی سی ٹوٹ گئی موتیوں کی یک باریملے ہیں خاک میں کیا لعل پارہ ہاے حسین

۱۰

کیا حسین کا برباد خانماں ساراپسر حسین کا کس ظلم سے جواں ماراحسین آپ مرا بیکسانہ بے چارہحسین رونے کی جاگہ ہے ہائے ہائے حسین

۱۱

حسین جان سے اپنی گیا نہ دم ماراہزار حیف کہ اس کو بصد ستم مارااسی کا دل تھا جو اس راہ میں قدم مارارضاے حق ہے جو کچھ تھی وہی رضاے حسین

۱۲

حسین دل زدہ نے صبر سا کیا ہے صبرہوا ہے تشنہ لبی سے قیامت اس پر جبرہزار حیف نہ صحرا سے اٹھ کے برسا ابردریغ پانی نہ دریا کنارے پائے حسین

۱۳

غضب ہوا ہے ان اسلامیان بے دیں سےحسین قتل ہوا سر جدا کیا کیں سےنکالے اس کے جنازے کو کون تزئیں سےہوا اسیر پسر جو رہا بجاے حسین

۱۴

مندیں حسین کی آنکھیں کہا بلا آئیتمام فوج مخالف کی اس طرح دھائیجفا رہے ہوئے لوگوں کو کیسی دکھلائیجلائے خیمے لٹائی حرم سراے حسین

۱۵

حرم کے لوگ معزز تھے موپریشاں سببرہنہ پا و سر اونٹوں پہ تھے نمایاں سببرشتہ سوختہ اس واقعے سے حیراں سبزباں پہ ہائے حسین اور لب پہ ہائے حسین

۱۶

کوئی تھی نوحے کی سرگرم غم کش و ناشادکسو کے دل سے نکلتی تھی خونچکاں فریادسکینہ روتی تھی ہر لحظہ باپ کو کر یادرہے نہ رکھے کسو کے مگر منائے حسین

۱۷

کوئی کہے تھی کہ اکبر کو مر نہ جانا تھانہ جنگ گاہ میں عباس کو بلانا تھاچچا کے ساتھ نہ قاسم کو آہ آنا تھاکوئی رہا نہ جسے ہم کو سونپ جائے حسین

۱۸

کوئی کہے تھی کہ ہے عابدیں بہت بیماربدن تو شدت تپ سے ہے اس کا زار و نزارکرے ہے اس پہ بھی دلجوئی ہووے ہے جو خوارولے سکینہ کی خاطر کہاں سے لائے حسین

۱۹

کوئی کہے تھی کہ اب اک یہی ہے نام خداسواے اس کے جو دیکھو تو کوئی بھی نہ رہازناں اسیر ہوئیں مرد ایک ایک مواکہاں حسین کے گذرے ہیں اقرباے حسین

۲۰

عزیز و خویش و پسر لگ گئے کنارے سبستم سے ظلم سے یعنی گئے ہیں مارے سبغریق خون کے دریا میں ہیں بچارے سبکوئی نگاہ نہ چڑھتا تھا آشناے حسین

۲۱

کوئی کہے تھی کہا ہوگا شہ نے کیا کہیےیہی ہے مصلحت اب تو کہ جور ہی سہیےگلے کو رکھ کے تہ تیغ چپکے مر رہیےنہ مقتضی ہوئی کہنے کی کچھ حیاے حسین

۲۲

کوئی کہے تھی کہ ایسا نہ ہوئے گا کوئیہر ایک بات میں تھی تابعوں سے خوش گوئیسلوک اس کے کریں یاد یا کہ دلجوئیکہیں تو کیا کہیں کس منھ سے ہو ثناے حسین

۲۳

سیاہ کاسہ فلک کو مگر تھا سودا کچھکہ ان نے ٹک نہ کی اس میہماں کی پروا کچھادھر کو موذی کریں زہرمار کیا کیا کچھسواے غصہ و غم اور کچھ نہ کھائے حسین

۲۴

کوئی کہے تھی کہ غارت ہوا ہمارا گھرملا ہے خاک میں شہ بازگوں ہوا افسرحرم کے لوگ جو ہیں سو اسیر و گرم سفررہے تو رووے کھڑی لے کوئی عزاے حسین

۲۵

بہن سے کہتی تھی رو رو کے زینب اے کلثومچلا تھا بھائی مدینے سے کیسے وقت شومشتابی راہ جو کرتا تھا قطع تھا معلومکہ سر کے مارے ہی جانا تھا مدعاے حسین

۲۶

کبھی کہے تھی زمانہ الٹ گیا اک بارنہ اس چمن میں رہے کچھ نہال نے تھے خارخزاں نے لوٹے ہیں کیا پات پات کر گلزارہوا اب اوروں کی ہے یاں کہ اب ہواے حسین

۲۷

کوئی کہے تھی کہ یہ بھی خدا کی باتیں ہیںکبھو کے دن بڑے ہیں یا کبھو کی راتیں ہیںنشان کھوئے وہی دشمنوں کی گھاتیں ہیںنگوں پڑا ہے سر خاک پر لواے حسین

۲۸

کوئی یہ کہتی تھی وہ وقت آگیا دیکھوامام وقت گلے کو کٹا گیا دیکھوجراحت ایسی سر اوپر اٹھا گیا دیکھوکہ سر رہا نہ جو سجدے کو پھر جھکائے حسین

۲۹

وہ ابتدا ہے محمدؐ گلے لگاتا تھاعلیؓ عزیز بہت رکھ کے سر چڑھاتا تھاسو کربلا میں سر اس کا سناں پہ جاتا تھادکھائی چرخ نے اس طور انتہاے حسین

۳۰

یہ کہہ کے شام کی جانب ہوئے اسیر رواںقلم کی میرؔ نے بے تاب ہوکے رکھ لی زباںکہ آگے خوب نہ تھا ایسے واقعے کا بیاںشفیع حشر میں بس ہے اسے ولاے حسین

۵۳۲ / ۵۸۲