کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہا

۱

فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہاگیا قاسم جسے سب نے سراہاکوئی دن شہ نے جوں توں کر نباہاعجائب سانحہ گذرا الٰہافآہا ثم آہا ثم آہا

۲

موئے یار و برادر اس کے پیارےسو ہوکر تشنہ لب دریا کنارےتماشائی تھے لوگ امت کے سارےکہیں سو کیا کہیں ہم غم کے مارےفآہا ثم آہا ثم آہا

۳

کہے وہ اے کماں داراں سواراںپیاسے مارے میرے دوستداراںجواب اس کا یہ تھا منصف ہو یاراںنہ دیجے پانی کریے تیرباراںفآہا ثم آہا ثم آہا

۴

عزیز ایسا کہ جو مہمان ہووےتصدق اس پہ کی گر جان ہووےنہ اس کے سر پہ یہ طوفان ہووےکہ قطرہ آب کو حیران ہووےفآہا ثم آہا ثم آہا

۵

نپٹ اوقات کے تیں تنگ آیابہت کچھ دل کا دل ہی میں سمایاسخن ہرگز زباں اوپر نہ لایاکہا سو یہ کہ کیا کہیے خدایافآہا ثم آہا ثم آہا

۶

بڑے بیٹے سے بیٹھا ہاتھ دھو کررہا چھوٹے کو چپکے چپکے رو کرلگی چھاتی میں غم کی زور ٹھوکرکہے کیا غیر ازیں دل تنگ ہو کرفآہا ثم آہا ثم آہا

۷

برابر خاک سے تاج شہی تھاجو کچھ ٹھانا تھا جی میں سو سہی تھاثبات پا وہیں سر میں وہی تھااگر لب پر کچھ آتا تھا یہی تھافآہا ثم آہا ثم آہا

۸

کس و کو یک طرف سب اس کے بیکساکیلا خود ہزاروں میں گیا پھنسرہا نومید ہو جب وہ خدارسکہ یعنی ہوچکے اپنے تو اب بسفآہا ثم آہا ثم آہا

۹

پھر اس کو پڑ گئی جی ہی کی آکرکسو جانب نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرکوئی ہوتا تو کچھ کہتا بلاکرسو نے خویش و پسر نے یار و یاورفآہا ثم آہا ثم آہا

۱۰

ستم کیسا اٹھایا گھر لٹایاسبھوں کی مرگ کے دیکھے قضایارہا کھویا گیا سا سر کٹایاکہے غم جس سے ٹک سو وہ نہ پایافآہا ثم آہا ثم آہا

۱۱

رضاے حق کا مرتے تک تھا جویالگی چپ ایسی تھا تصویر گویابھر آیا جی بہت لیکن نہ رویاغرض بے آبی نے سب گھر ڈبویافآہا ثم آہا ثم آہا

۱۲

نہ پوچھو جس دم اس کا خوں بہا تھاستم خنجر کا گردن نے سہا تھاطرف قبلے کے منھ کر جھک رہا تھاکہا سو یہ دم آخر کہا تھافآہا ثم آہا ثم آہا

۱۳

رہا عابد سو اس پر یہ مصیبتبدن میں زور تپ سے کچھ نہ طاقتنگہ میں ناامیدی تنگ حالتلبوں پر صدہزار افسوس و حسرتفآہا ثم آہا ثم آہا

۱۴

کہو کس کس کا اس کے نام لیجےموئے سب بھانجے بھائی بھتیجےرہا تھا یہ سو اس کو بندی کیجےبندھے وے ہاتھ جن پر بوسہ دیجےفآہا ثم آہا ثم آہا

۱۵

مہار اونٹوں کی اس کے ہاتھ میں تھیگلے میں طوق جس سے تھی غشی سیقدم رکھتا تو جاتا تھا چلا جیجگر اس کا ہی تھا چھاتی اسی کیفآہا ثم آہا ثم آہا

۱۶

اسیر و خستہ دل بے زور و زر تھاکٹا سر باپ کا پیش نظر تھانہ یاور تھا نہ داور تھا نہ گھر تھاقیامت تھی غضب تھا شور و شر تھافآہا ثم آہا ثم آہا

۱۷

کھنچا آیا پدرمردہ ستم کشضعیف و ناتواں صدگونہ غم کشیتیم و بیکس و حیراں الم کشیہی کہتا تھا ہوتا بھی جو دم کشفآہا ثم آہا ثم آہا

۱۸

ادھر کلثوم کا نالیدن زارادھر زینب کی غم سے چشم خونبارسکینہ باپ کو روتی تھی ہر بارکرے کیا لاعلاجی اور بیمارفآہا ثم آہا ثم آہا

۱۹

ہوا لاشے پہ شہ کے جو گذاراتن بے سر زمیں پر کر نظارہکرے کیا قافلہ ناچار ساراکہا سب نے نہان و آشکارافآہا ثم آہا ثم آہا

۲۰

نہ لکھ بس میرؔ بے طوری ایامسر اس صبح سعادت کا چلا شامگیا وہ جمع بھی ناچار ناکامنظر کر کہتے تھے سو بار ہر گامفآہا ثم آہا ثم آہا

۵۴۰ / ۵۸۲