کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

فلک قتل سبط پیمبر ہے کل

۱

فلک قتل سبط پیمبر ہے کلیہ ہنگامہ ہونا مقرر ہے کلسحر شام تیرہ سے بدتر ہے کلبلا کل مکل ہے کہ محشر ہے کل

۲

کہاں ہوگا افسر سر شہ کہاںیہ خیمہ کہاں اور خرگہ کہاںجو کچھ ہے حشم آج سو یہ کہاںنہ حاکم نہ یاور نہ داور ہے کل

۳

نہ ہوگا کوئی جو کرے داوریرہے گی وہ لاش اس زمیں پر پڑینگہبان ہوگا خداے قویمصیبت عجیب ایک اس پر ہے کل

۴

نہ ہوگا کوئی یار و انصار آہنہ خویش و برادر نہ رتبہ نہ جاہمرے گا بہت ہوکے بیکس وہ شاہنہ قاسم نہ اکبر نہ اصغر ہے کل

۵

جو بازو ہیں جاویں گے سب دے کے جاںنظر جس کے اوپر کرے سو کہاںستم ہوگا چاروں طرف سے عیاںنہ احمدؐ معاون نہ حیدر ہے کل

۶

نہ عباس ہوگا نہ ہوگا علمکہ ہاتھ اس کا بازو سے ہوگا قلمرہیں گے جو پیچھے کسان حرمسو ان کو نہ جاگہ نہ گھر در ہے کل

۷

سر شہ نہ ہوگا یہ اسرار ہےکسان حرم اور بازار ہےرہے گا جو سجاد بیمار ہےسو اس کو نہ دارو نہ بستر ہے کل

۸

معزز حرم کے رہیں گے جو لوگپریشاں پھریں گے گرفتار سوگاسیری و غارت سے چالوں کو روگنہ پردہ انھوں کو نہ چادر ہے کل

۹

جہاں جاے عبرت ہے کیا اعتبارہمیشہ نہیں ایک کا اختیارشکست شہ دیں سے ہے آشکارنہ وہ کوکبہ ہے نہ لشکر ہے کل

۱۰

دم آب ہووے گا نایاب وھاںنہ کنبہ قبیلہ نہ احباب وھاںنہ دولت سرا وہ نہ اسباب وھاںنہ ساماں نہ سر ہے نہ سرور ہے کل

۱۱

تن نازنیں ہوگا گھائل تمامبلا ہوگا اس ایک پر ازدحامجبیں سے بہے گا لہو لعل فامگلوے مبارک پہ خنجر ہے کل

۱۲

بچے گا جو بیٹا سو ہوگا اسیرعزیز حرم سب بحال تغیربکا کرتے ہیں ہوں گے صغیر و کبیرکہاں ایسی غارت سے وہ گھر ہے کل

۱۳

سکینہ کہے گی پدر کیا ہواکرے دل دہی جو گلے سے لگانہ کلثوم کے پاس ہوگی ردانہ زینب کے تارک پہ معجر ہے کل

۱۴

قیامت ہے اودھر کو ہوگا گذارجدھر اس طرح کا ہوا کارزارنظر آوے گی لاش شہ ایک بارنہ ہوگا وہ ساماں نہ وہ سر ہے کل

۱۵

فلک حال پر تیرے روتے ہیں آہکہاں ہوں گے یہ دیدۂ مہر و ماہجہاں ان کی آنکھوں میں ہوگا سیاہکرے سوجھتا تو تو بہتر ہے کل

۱۶

نہ ہووے گا سادات میں مرد ایکمگر عابدیں زار اور زرد ایکزمیں سے اٹھے گی سیہ گرد ایکسپہر بریں تک مکدر ہے کل

۱۷

سر شہ سناں پر رکھا جاوے گالٹا قافلہ بھی چلا جاوے گابس اب مت لکھے کیا لکھا جاوے گازمانہ ہی اے میرؔ دیگر ہے کل

۵۴۱ / ۵۸۲