محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال

گہ ماتم آوے گی نعش اک بنیسو ہووے گی تیروں کے مارے چھنیلگے گی غضب ہونے سینہ زنیجیوں میں نہ مرنے کا ہوگا خیال

About this couplet

This is couplet 14 of 35 in “⁨محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۴ / ۳۵