کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال
محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلالقیامت رہیں گے دلوں پر ملالکیا تھا جو ماتم بہت پر کے سالسو آئے نہیں اب تلک جی بحال
بہت چھاتی کوٹی تھی لے لے کے سنگلہو رو کے لائے تھے چہروں پہ رنگجو ویسا ہی اب کے بھی غم کا ہے ڈھنگتو ہو جائے گی زندگانی وبال
الف داغ کھینچے کہیں جائیں گےکہیں نعل سینوں پہ جڑوائیں گےبہت لوہو روتے ہوئے آئیں گےبہت سینہ کوبی سے ہوں گے نڈھال
نہوں سے بہت چہرے ہوں گے فگارپھریں گے بہت روتے نالاں و زاربہت اپنا شیون کریں گے شعاراٹھیں گے سروں پر بہت خاک ڈال
عزیزوں کے احوال ہوں گے بتربرہنہ سر آویں گے اکثر نظرسیہ ہوں گے ہر کو و برزن میں گھرپریشاں کریں گی زناں سر کے بال
جواں اپنے جامے کریں گے سیاہپھریں گے گریباں پھٹے دل تباہگذارے کی رستوں میں ہوگی نہ راہرکھیں گے جو روضے گھروں سے نکال
بجاویں گے جھانجھیں اڑاویں گے خاککریں گے بہت نالۂ دردناکلہو ہوں گے دل سب جگر ہوں گے چاکرہیں گے نہوں کے نچے چہرے لال
زناں موپریشاں دوانوں کے رنگلیے سینہ کوبی کو ہاتھوں میں سنگکشادہ رخ و زندگانی سے تنگعجب خستہ حالی عجائب مقال
زباں پر حسنؓ زیر لب واحسینؓکہے ایک یہ ہوگیا کیا حسینؓاٹھے گی کوئی کہہ کے جو یاحسینؓتو سامع سروں کے تئیں لیں گے ڈال
عجب حال ہوگا جو لڑکے تمامپکاریں گے ہے دوست ہے دوست شامکہے گا کوئی غم سے گر یا امامتو ہوگا بکا مسجدوں میں کمال
دہل کی صدا چکچکی کا وہ شورقیامت سی رکھیں گے ہر چار اورجواں چھاتیاں اپنی کوٹیں گے زورمنھ اپنے کو پیٹیں گے پیرانہ سال
بہم لے کے آئیں گے ماتم کے تیںسیہ خانہ کر دیں گے عالم کے تیںبیاں کرکے روئیں گے اس غم کے تیںجو دل کو کلیجے کو لے ہے نکال
کریں گے سیہ خانہ اہل عزابناویں گے شہروں میں دشت بلاجہاں ایک ہووے گا ماتم سراگریں گے جو آنسو تو خوں کی مثال
گہ ماتم آوے گی نعش اک بنیسو ہووے گی تیروں کے مارے چھنیلگے گی غضب ہونے سینہ زنیجیوں میں نہ مرنے کا ہوگا خیال
پڑھیں گے کوئی مرثیہ میرؔ کادلوں میں کرے کام جو تیر کاپھٹے گا جگر کودک و پیر کانپٹ خونچکاں ہوگی وہ قیل و قال
ستم شامیوں کے کریں گے بیاںکہ ان میں پھنسا تھا امام زماںہوا ہائے کیا ظلم اس پر عیاںگیا تشنہ لب جی سے وہ خوش خصال
جواں اک پسر اس کا مارا گیارفیقوں کا سب زور و یارا گیاکھپی جان گھربار سارا گیاسزا اس جفا کے محمدؐ کی آل
سیہ خاک سے آپ یکساں ہواپس از قتل گھر بار ویراں ہواوہ جمع معزز پریشاں ہوارہا عابدیں سو گرفتارحال
لگی آگ خیمے جلے سربسرہوئے لوگ ناموس کے دربدرنہ وارث نہ صاحب نہ جاگہ نہ گھرملا خاک میں جاہ و مال و منال
اسیر بلا مردمان حرمپدر مردہ سجاد ننگے قدمنہ پہنچی مرض میں دوا بھی بہمنہ اپنا کوئی جو کرے مشت مال
چلا تپ میں آیا کھنچا ناتواںہوا ساتھ اہل حرم کے رواںپھر اس پر تقید چلا چل دواںقدم گرچہ رکھتا تھا اپنا سنبھال
ولے ضعف سے تن سنبھلتا نہ تھاتمنا تھی پر جی نکلتا نہ تھاکھڑا کیونکے ہو بس تو چلتا نہ تھازمانے کی ٹیڑھی نہایت ہے چال
بندھے ہاتھ جن میں شتر کی زمامنظر سوے اہل حرم گام گامگرا ناتوانی سے جو وہ امامپریشاں ہوا اس جماعت کا حال
اٹھا بی بیوں میں سے یک بار شورکہ ٹک دیکھ عابد ہماری بھی اورنہ وارث ہے تجھ بن نہ کچھ ہم میں زورستم ہے قضا گر تجھے دیوے ٹال
ہوا کشتگاں پر جو ہو کر گذارقیامت ہوئی قیدیوں سے دوچارلگی کہنے ہر ایک رو رو کے زارکہ اے شہ ہوا کیا وہ جاہ و جلال
ترے ساتھ کل تک تو اسباب تھاترا در ادب کرنے کا باب تھانہ یہ خاک یوں بستر خواب تھانہ ہوتی تھی حرف و سخن کی مجال
سو ہنگامہ ہے تیرے پیکر پر آجبلا شور ہے کچھ کٹے سر پر آجقیامت ہوئی ہے ادھر گھر پر آجکھنچے آئے ہیں ہم کھلے سر کے بال
تری پاسبانی تھی فخرملکتو خورشید تھا تیری جا تھی فلکتو پہنچا ہے کیوں خاک تیرہ تلکترے سر پہ آیا ہے کیوں یہ زوال
عزیز آہ تیرے جو تھے کٹ گئےمچی غارت ایسی کہ ہم لٹ گئےردائیں گئیں رک گئے گھٹ گئےیہ اب حال ہے دیکھیں کیا ہو مآل
ترے باغ میں کیا خزاں آگئیجہاں تک تھی سرسبزی سو کھا گئیگل و برگ جنگل میں پھیلا گئیشجر کٹ گئے چھٹ گئے سب نہال
برادر پسر رنج سے لٹ گئےرفیق اور بازو ترے کٹ گئےجگر درد و غم کھینچتے پھٹ گئےبیاں کریے کس کس کا حسن و جمال
نظر کر ہمارے بھی آشفتہ موتنک دیکھ عابد کا طوق گلوکسے ایسے جینے کی تھی آرزوترے ہجر میں کاش ہوتے وصال
ہمیں شام کا اب سفر پیش ہےتری بیکسی سے جگر ریش ہےنہ بیٹا ہے بیٹھا نہ اب خویش ہےاٹھانا ترا خاک سے ہے محال
نہ احوال کا کوئی عالم ہے یاںنہ داور نہ یاور نہ حاکم ہے یاںنہ تو ہے نہ اکبر نہ قاسم ہے یاںکریں داد دل کا سو کس سے سوال
جگرچاک دل خستہ روتے اسیریہ کہہ کر گئے سب بہ حال فقیرنہ لکھ بیکسی ان کی اب آگے میرؔہنوز ان پہ روتے ہیں دشت و جبال
۵۴۲ / ۵۸۲