محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال
بہت چھاتی کوٹی تھی لے لے کے سنگلہو رو کے لائے تھے چہروں پہ رنگجو ویسا ہی اب کے بھی غم کا ہے ڈھنگتو ہو جائے گی زندگانی وبال
About this couplet
This is couplet 2 of 35 in “محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲ / ۳۵