محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال

ترے باغ میں کیا خزاں آگئیجہاں تک تھی سرسبزی سو کھا گئیگل و برگ جنگل میں پھیلا گئیشجر کٹ گئے چھٹ گئے سب نہال

About this couplet

This is couplet 30 of 35 in “⁨محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۳۰ / ۳۵