نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا

بیگانگی نہ طبع میں تھی تیرے اس قدرسو بار تجھ سے ہوتے تھے آپس میں حرف سرکیا ہوگیا کہ تجھ کو ادھر اب نہیں نظریا وہ تپاک تھا کہ یہ ناآشنا ہوا

About this couplet

This is couplet 20 of 32 in “⁨نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۲۰ / ۳۲