کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا

۱

نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوالاشہ ہے آفتاب میں اس کا پڑا ہواعابد اسیر ہو کے چلا ہے بندھا ہواناموس ساتھ قافلہ جیسے لٹا ہوا

۲

بیمار و زار پاؤں میں طاقت تنک نہیںمرگ پدر کے غم سے فراغت تنک نہیںپھر جور اہل شام سے فرصت تنک نہیںجاتا ہے جی قدم قدم اوپر چلا ہوا

۳

ناموس کو جو دیکھے ہے حال خراب سےآنکھیں نہیں کسو سے ملاتا حجاب سےجس وقت گر پڑے ہے کہیں اضطراب سےرہ جا ہے دیر دیر تلک پھر گرا ہوا

۴

جاتا ہے سوے شام دن اپنا سیاہ کرگرتا ہے گام گام پر اک دل سے آہ کرمانند آفتاب قیامت نگاہ کرسر کو پدر کے راہ میں نیزے چڑھا ہوا

۵

اس لشکر شکستہ و خستہ کا ایک بارمیداں میں کارزار کے ہوکر ہوا گذاردیکھا جو خاک و خوں میں کٹا سر وہ تاجدارکہنے لگا ہر ایک کہ اے شہ یہ کیا ہوا

۶

کل تک تو بزم ناز کا مسندنشیں تھا تواسلامیوں کی رونق ایمان و دیں تھا تومسجود خلق و قبلۂ اہل یقیں تھا توہنگامہ تیرے سر پہ یہ کیسا بپا ہوا

۷

امت نے کیوں نبیؐ کی کیا تجھ کو یوں ہلاکتھا کیا سبب کہ بستر راحت ہوئی ہے خاککچھ وجہ بھی کہ دھوپ میں جلتا ہے جسم پاکرویت علیؓ کی جاتی رہی کیا بلا ہوا

۸

اکبر جو تھا شبیہ محمدؐ سو ووں گیااصغر تڑپ کے تشنہ دہانی سے یوں گیاجانے کو اپنے آپ تو جانے ہے جوں گیاگھر کا ترے گئے پہ عجب ماجرا ہوا

۹

خیموں پہ تیرے دوڑ پڑے ناگہاں کئیاسباب میں ردا نہ ہمارے کنے رہیبے پردہ ہوکے ہم نے ہر اک کی جفا سہیعابد ضعیف در تئیں آیا کھنچا ہوا

۱۰

ارمان کیسے کیسے گئے ساتھ لے جواںہر لحظہ ایک ماتم تازہ رہا ہے یاںشادی اگر رچی تھی تو اس طرح اپنے ہاںقاسم شہید آن کے جوں کدخدا ہوا

۱۱

اعوان یوں تلف ہوئے کٹتی ہے جیسے گھاسانصار اس طرح کٹے وحشی ہوں جوں اداساسباب ظاہری نہ رہا کچھ کسو کے پاسوابستہ تھا جو کوئی ترا سو گدا ہوا

۱۲

کیوں غرق خون ہوکے ہمیں تو ڈبو گیاکیوں ہم سے بے علاقہ و فارغ سا ہوگیامیداں میں کارزار کے کیا آکے سوگیاآیا نہ پھر جو گھر کی طرف تو گیا ہوا

۱۳

آتے بھی ہیں جو اٹھتے ہیں اپنے مکان سےدل تنگ ہوکے جاتے بھی ہیں پر نہ جان سےتو اٹھ کے جو گیا سو گیا پھر جہان سےکیا جانے تو کہ گھر پہ ترے پیچھے کیا ہوا

۱۴

فرزند و زن اسیر ہوئے ٹک تو آنکھ کھولخیمے گرے پڑے ہیں کھڑے غول کے ہیں غولحیرت سے ہم تو چپ ہیں بھلا تو تنک تو بولاک شور ہے جو منھ مندے تو ہے پڑا ہوا

۱۵

غارت علی العموم تھی تھا حکم قتل عاممارے گئے چنانچہ ترے اقربا تمامواماندگاں چلے ہیں اسیرانہ سوے شامہے اک چراغ خانہ سو جاوے بجھا ہوا

۱۶

یعنی وہ سخت سست ہے بیمار عابدیںتس پر بندھا ہے جیسے گنہگار عابدیںناموس کو جو دیکھے ہے یوں خوار عابدیںگریاں برنگ ابر ہے آگے کھڑا ہوا

۱۷

روتی ہے جب سکینہ تو روتا ہے زار زارآخر کو گر پڑے ہے وہ بے تاب ڈاڑھ مارجاتی ہے چھوٹ ہاتھ سے اونٹوں کی گر مہارکیا کیا سنے ہے غیروں سے چھاتی جلا ہوا

۱۸

کیا کہیے تیرے غم سے جگر ہو گیا گدازتجھ پیشوا کی لاش کو ہے خاک و خوں سے سازکر ذبح تجھ کو دوڑے ہیں شامی پئے نمازخوب ان سے تیرا حق امامت ادا ہوا

۱۹

سینے تمام داغ ہیں دل میں ہیں آبلےہرگز نہ اس چمن میں گل آرزو کھلےجی چاہتا تھا مسند عزت تجھے ملےسو ہم نے تجھ کو خاک میں دیکھا ملا ہوا

۲۰

بیگانگی نہ طبع میں تھی تیرے اس قدرسو بار تجھ سے ہوتے تھے آپس میں حرف سرکیا ہوگیا کہ تجھ کو ادھر اب نہیں نظریا وہ تپاک تھا کہ یہ ناآشنا ہوا

۲۱

آزردہ ہم میں کس سے ہے تو کیا ملال ہےوہ کون تیرا باعث رنج و نکال ہےرنجش ہی کا دماغ میں اب تک خیال ہےجاتا ہے ہم سبھوں سے ترا سر جدا ہوا

۲۲

کچھ گرم رو نہیں ہے سناں پر ترا ہی سرہم پر بھی تیرے پیچھے ہے درپیش اک سفرکیا بے مروتی ہے بھلا منھ تو کر ادھریہ قافلہ بھی سر سے ہے تیرے لگا ہوا

۲۳

اس واقعے کے بعد بھی تھا دل میں یہ خیالماتم رکھیں گے دیر بہت کھینچیں گے ملالگاڑیں گے تیری لاش بصد عزت و جلالسو خاک میں بھی تجھ کو نہ دیکھا چھپا ہوا

۲۴

چاہا ترے محبوں کا ہرگز ہوا نہ آہبے آب یہ جہاز ہوا دشت میں تباہدریا بہے لہو کے جہاں تک گئی نگاہدشمن کے حسب خواہش دل مدعا ہوا

۲۵

کیا نقل کریے حالت دشوار بعد جنگدم بھی لیا گیا نہ ہوا کام ایسا تنگالقصہ زندگانی ہوئی ہم سبھوں کو ننگتو کوئی دم جو آگے گیا تھا بھلا ہوا

۲۶

خیمے جلے اسیر ہوئے دیر تک گھرےلوٹے گئے ردائیں گئیں مضطرب پھرےکیا کیا نہ پیش آیا ہمیں جاتے ہی ترےپوشیدہ کیا ہے یہ جو ستم برملا ہوا

۲۷

برباد اس طرح سے نہیں جاتے گھر کہیںملتے نہیں ہیں خاک میں یوں در تر کہیںچلتی نہیں ہے تیغ جفا اس قدر کہیںجو تن نظر پڑے ہے تو ہے سر کٹا ہوا

۲۸

کیا ظلم ہے کہ ابن علی تشنہ لب مرےاور اس کی لاش کو نہ کوئی قبر میں دھرےآب حیات پانی جنھوں کا بھرا کرےسو نام اس گروہ کا وارث موا ہوا

۲۹

عمر دراز جان کی اپنی ہوئی وبالاتنا نہ جیتے ہم تو نہ یہ کھینچتے ملالدیکھا علی کے بیٹے کو اس طرح پائمالجس کا نہ نام لیں وہ سنا بادشا ہوا

۳۰

کہتے تھے ہم حسین کو دیکھیں گے بادشاہگرد اس کی رہ کی جائے گی تا چرخ رو سیاہسو اس کو خاک و خون میں دیکھا طپیدہ آہتڑپے بہت ولے نہ ہمارا کہا ہوا

۳۱

تھے لاش سے یہ حرف جگرسوز درمیاںجو مانع درنگ ہوئے جورپیشگاںناچار واں سے گریہ کناں سب ہوئے رواںاس کارواں کا عابد نالاں درا ہوا

۳۲

ہرچند شاعری میں نہیں ہے تری نظیراس فن کے پہلوانوں نے مانا تجھی کو میرؔپر ان دنوں ہوا ہے بہت تو ضعیف و پیرکہنے لگا جو مرثیہ اکثر بجا ہوا

۵۵۳ / ۵۸۲