نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا
خیمے جلے اسیر ہوئے دیر تک گھرےلوٹے گئے ردائیں گئیں مضطرب پھرےکیا کیا نہ پیش آیا ہمیں جاتے ہی ترےپوشیدہ کیا ہے یہ جو ستم برملا ہوا
About this couplet
This is couplet 26 of 32 in “نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲۶ / ۳۲