نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا
عمر دراز جان کی اپنی ہوئی وبالاتنا نہ جیتے ہم تو نہ یہ کھینچتے ملالدیکھا علی کے بیٹے کو اس طرح پائمالجس کا نہ نام لیں وہ سنا بادشا ہوا
About this couplet
This is couplet 29 of 32 in “نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲۹ / ۳۲