کلامِ میررباعیات
کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری
۱
کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داریاٹھ جائیں گے یہ بیٹھے ہوئے یک باریکیا آنکھوں کو کھولا ہے تنک کانوں کو کھولافسانہ ہے پل مارتے مجلس ساری
۴۳۲ / ۵۸۲
کلامِ میررباعیات
کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داریاٹھ جائیں گے یہ بیٹھے ہوئے یک باریکیا آنکھوں کو کھولا ہے تنک کانوں کو کھولافسانہ ہے پل مارتے مجلس ساری
۴۳۲ / ۵۸۲