کلامِ میررباعیات
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزری
۱
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزریپند گو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچزندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروںایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ
۳۵۷ / ۵۸۲
کلامِ میررباعیات
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزریپند گو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچزندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروںایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ
۳۵۷ / ۵۸۲