کلامِ میررباعیات
نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکا
۱
نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکانمونہ ہے یہ آشوب و بلا کاکرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کونہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا
۴۲۲ / ۵۸۲
کلامِ میررباعیات
نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکانمونہ ہے یہ آشوب و بلا کاکرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کونہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا
۴۲۲ / ۵۸۲