کلامِ مومنردیف الف

آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا

۱

آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیاآنسو چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیا

۲

پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیاجب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا

۳

کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کوواں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا

۴

کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوںغیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا

۵

اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھیکوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا

۶

جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگیآیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا

۷

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیلمیں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

۸

کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سےمجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا

۹

مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاکگل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا

۱۰

بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھےمومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا

۳ / ۵۶