کلامِ مومنردیف الف

اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا

۱

اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیاناصح تو میری جان نہ لے دل گیا گیا

۲

ضد سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیااے رشک میری جان گئی تیرا کیا گیا

۳

یہ ضعف ہے تو دم سے بھی کب تک چلا گیاخود رفتگی کے صدمے سے مجھ کو غش آ گیا

۴

کیا پوچھتا ہے تلخی الفت میں پند کوایسی تو لذتیں ہیں کہ تو جان کھا گیا

۵

کچھ آنکھ بند ہوتے ہی آنکھیں سی کھل گئیںجی اک بلائے جان تھا اچھا ہوا گیا

۶

آنکھیں جو ڈھونڈتی تھیں نگہ ہائے التفاتگم ہونا دل کا وہ مری نظروں سے پا گیا

۷

بوئے سمن سے شاد تھے اغیار بے تمیزاس گل کو اعتبار نسیم و صبا گیا

۸

آہ سحر ہماری فلک سے پھری نہ ہوکیسی ہوا چلی یہ کہ جی سنسنا گیا

۹

آتی نہیں بلائے شب غم نگاہ میںکس مہروش کا جلوہ نظر میں سما گیا

۱۰

اے جذب دل نہ تھم کہ نہ ٹھہرا وہ شعلہ روآیا تو گرم گرم ولیکن جلا گیا

۱۱

مجھ خانماں خراب کا لکھا کہ جان کروہ نامہ غیر کا مرے گھر میں گرا گیا

۱۲

مہندی ملے گا پانوں سے دشمن تو آن کرکیوں میرے تفتہ سینے کو ٹھوکر لگا گیا

۱۳

بوسہ صنم کی آنکھ کا لیتے ہی جان دیمومنؔ کو یاد کیا حجر الاسود آ گیا

۴ / ۵۶