کلامِ مومنردیف الف
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
۱
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا
۲
بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
۳
ذکر اغیار سے ہوا معلومحرف ناصح برا نہیں ہوتا
۴
کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیکجنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
۵
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
۶
اس نے کیا جانے کیا کیا لے کردل کسی کام کا نہیں ہوتا
۷
امتحاں کیجئے مرا جب تکشوق زور آزما نہیں ہوتا
۸
ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہےتجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا
۹
آہ طول امل ہے روز فزوںگرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
۱۰
تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
۱۱
حال دل یار کو لکھوں کیوں کرہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
۱۲
رحم بر خصم جان غیر نہ ہوسب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
۱۳
دامن اس کا جو ہے دراز تو ہودست عاشق رسا نہیں ہوتا
۱۴
چارۂ دل سوائے صبر نہیںسو تمہارے سوا نہیں ہوتا
۱۵
کیوں سنے عرض مضطر اے مومنؔصنم آخر خدا نہیں ہوتا
۵ / ۵۶