کلامِ مومنردیف الف

وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا

۱

وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہماراجو دوست ہمارا ہے سو دشمن ہے ہمارا

۲

یہ کاہ ربا سے بھی ہیں کم اے کشش دلمذکور کچھ ایسا پس چلمن ہے ہمارا

۳

افسوس موئے شمع شب وصل کی مانندجو قہقہہ شادی ہے سو شیون ہے ہمارا

۴

مہتاب کا کیا رنگ کیا دود فغاں نےاحوال شب تار سے روشن ہے ہمارا

۵

دیتا نہیں اس ضعف پہ بھی جوش جنوں چینہر ریگ رواں دشت میں توسن ہے ہمارا

۶

تفریح نہ کیونکر ہو ہوا آ نہیں سکتیگویا در و دیوار نشیمن ہے ہمارا

۷

گر پاس ہے لوگوں کا تو آ جا کہ قلق سےہے لاش کہیں اور کہیں مدفن ہے ہمارا

۸

جذب دل اسے کھینچ کے لائے تو کہاں لائےجو غیر کا گھر ہے وہی مسکن ہے ہمارا

۹

بت خانے سے کعبے کو چلے رشک کے مارےمومنؔ خضر راہ برہمن ہے ہمارا

۶ / ۵۶