کلامِ مومنردیف الف

وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا

۱

وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیاتم سے دشمن کی مبارک باد کیا

۲

کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جیآشیاں اپنا ہوا برباد کیا

۳

نالۂ پیہم سے یاں فرصت نہیںحضرت ناصح کریں ارشاد کیا

۴

ہیں اسیر اس کے جو ہے اپنا اسیرہم نہ سمجھے صید کیا صیاد کیا

۵

شوخ بازاری تھی شیریں بھی مگرورنہ فرق خسرو و فرہاد کیا

۶

نشۂ الفت سے بھولے یار کوسچ ہے ایسی بے خودی میں یاد کیا

۷

نالہ اک دم میں اڑا ڈالے دھوئیںچرخ کیا اور چرخ کی بنیاد کیا

۸

جب مجھے رنج دل آزاری نہ ہوبے وفا پھر حاصل بیداد کیا

۹

پانوں تک پہنچی وہ زلف خم بہ خمسرو کو اب باندھئے آزاد کیا

۱۰

کیا کروں اللہ سب ہیں بے اثرولولہ کیا نالہ کیا فریاد کیا

۱۱

ان نصیبوں پر کیا اختر شناسآسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا

۱۲

روز محشر کی توقع ہے عبثایسی باتوں سے ہو خاطر شاد کیا

۱۳

گر بہائے خون عاشق ہے وصالانتقام زحمت جلاد کیا

۱۴

بت کدہ جنت ہے چلیے بے ہراسلب پہ مومنؔ ہرچہ بادا باد کیا

۷ / ۵۶