کلامِ مومنردیف الف

شوخ کہتا ہے بے حیا جانا

۱

شوخ کہتا ہے بے حیا جانادیکھو دشمن نے تم کو کیا جانا

۲

شعلۂ دل کو ناز تابش ہےاپنا جلوہ ذرا دکھا جانا

۳

شوق نے دورباش اعدا کواس کی محفل میں مرحبا جانا

۴

اس کے اٹھتے ہی ہم جہاں سے اٹھےکیا قیامت ہے دل کا آ جانا

۵

گھر میں خود رفتگی سے دھوم مچیکیونکے ہو اس تلک مرا جانا

۶

پوچھنا حال یار ہے منظورمیں نے ناصح کا مدعا جانا

۷

مے نہ اتری گلے سے جو اس بنمجھ کو یاروں نے پارسا جانا

۸

شکوہ کرتا ہے بے نیازی کاتو نے مومنؔ بتوں کو کیا جانا

۸ / ۵۶