کلامِ مومنردیف الف
گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا
۱
گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتادم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا
۲
میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کےقاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا
۳
کرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تمکیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا
۴
جب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سےاپنی طرح اے گردش ایام نکلتا
۵
ہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نامتھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا
۶
کیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوںناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا
۷
تھی نوحہ زنی دل کی جنازے پہ ضروریشاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا
۸
کانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجریہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا
۹
حوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہویںبت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا
۲۰ / ۵۶