کلامِ مومنردیف الف
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیامیں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
نہ شادی مرگ ہوں کیوں کر ہے مژدہ قتل دشمن کاکہ گھر میں سے لیے شمشیر وہ روتا نکل آیا
ستم اے گرمی ضبط فغان و آہ چھاتی پرکبھو بس پڑ گیا چھالا کبھو پھوڑا نکل آیا
کیا زنجیر مجھ کو چارہ گر نے کن دنوں میں جبعدو کی قید سے وہ شوخ بے پروا نکل آیا
نکل آیا اگر آنسو تو ظالم مت نکال آنکھیںسنا معذور ہے مضطر نکل آیا نکل آیا
ہمارے خوں بہا کا غیر سے دعویٰ ہے قاتل کویہ بعد انفصال اب اور ہی جھگڑا نکل آیا
ہوئی بلبل ثنا خوان دہان تنگ کس گل کیکہ فروردی میں غنچہ کا منہ اتنا سا نکل آیا
کوئی تیر اس کا دل میں رہ گیا تھا کیا کہ آنکھوں سےابھی رونے میں اک پیکان کا ٹکڑا نکل آیا
دم بسمل یہ کس کے خوف سے ہم پی گئے آنسوکہ ہر زخم بدن سے خون کا دریا نکل آیا
خدنگ یار کے ہم راہ نکلی جان سینے سےیہی ارمان اک مدت سے جی میں تھا نکل آیا
بہت نازاں ہے تو اے قیس پر وحشت دکھاؤں گاکتابوں میں کبھو قصہ جو مومنؔ کا نکل آیا
۲۱ / ۵۶