کلامِ مومنردیف ب

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب

۱

تم بھی رہنے لگے خفا صاحبکہیں سایہ مرا پڑا صاحب

۲

ہے یہ بندہ ہی بے وفا صاحبغیر اور تم بھلے بھلا صاحب

۳

کیوں الجھتے ہو جنبش لب سےخیر ہے میں نے کیا کیا صاحب

۴

کیوں لگے دینے خط آزادیکچھ گنہ بھی غلام کا صاحب

۵

ہائے ری چھیڑ رات سن سن کےحال میرا کہا کہ کیا صاحب

۶

دم آخر بھی تم نہیں آتےبندگی اب کہ میں چلا صاحب

۷

ستم آزار ظلم و جور و جفاجو کیا سو بھلا کیا صاحب

۸

کس سے بگڑے تھے کس پہ غصہ تھارات تم کس پہ تھے خفا صاحب

۹

کس کو دیتے تھے گالیاں لاکھوںکس کا شب ذکر خیر تھا صاحب

۱۰

نام عشق بتاں نہ لو مومنؔکیجئے بس خدا خدا صاحب

۲۲ / ۵۶