کلامِ مومنردیف ے
وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے
وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھےخواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے
اس پری وش سے لگاتے ہیں مجھےلوگ دیوانہ بناتے ہیں مجھے
یا رب ان کا بھی جنازہ اٹھےیار اس کو سے اٹھاتے ہیں مجھے
ابروئے تیغ سے ایما ہے کہ آقتل کرنے کو بلاتے ہیں مجھے
بے وفائی کا عدو کی ہے گلہلطف میں بھی وہ ستاتے ہیں مجھے
حیرت حسن سے یہ شکل بنیکہ وہ آئینہ دکھاتے ہیں مجھے
پھونک دے آتش دل داغ مرےاس کی خو یاد دلاتے ہیں مجھے
گر کہے غمزہ کسے قتل کروںتو اشارت سے بتاتے ہیں مجھے
میں تو اس زلف کی بو پر غش ہوںچارہ گر مشک سونگھاتے ہیں مجھے
شعلہ رو کہتے ہیں اغیار کو وہاپنے نزدیک جلاتے ہیں مجھے
جاں گئی پر نہ گئی جورکشیبعد مردن بھی دباتے ہیں مجھے
وہ جو کہتے ہیں تجھے آگ لگےمژدۂ وصل سناتے ہیں مجھے
اب یہ صورت ہے کہ اے پردہ نشیںتجھ سے احباب چھپاتے ہیں مجھے
مومنؔ اور دیر خدا خیر کرےطور بے ڈھب نظر آتے ہیں مجھے
۴۶ / ۵۶