کلامِ مومنردیف ے
شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے
شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئےکھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے
پوچھا کسی پہ مرتے ہو اور دم نکل گیاہم جان سے عناں بہ عنان صدا گئے
پھیلی وہ بو جو ہم میں نہاں مثل غنچہ تھیجھونکے نسیم کے یہ نیا گل کھلا گئے
اے آب اشک آتش عنصر ہی دیکھناجی ہی گیا اگر نفس شعلہ زا گئے
مجلس میں اس نے پان دیا اپنے ہاتھ سےاغیار سبز بخت تھے ہم زہر کھا گئے
اٹھا نہ ضعف سے گل داغ جنوں کا بوجھقاروں کی طرح ہم بھی زمیں میں سما گئے
غیروں سے ہو وہ پردہ نشیں کیوں نہ بے حجابدم ہائے بے اثر مرے پردہ اٹھا گئے
تھی بد گمانی اب انہیں کیا عشق حور کیجو آ کے مرتے دم مجھے صورت دکھا گئے
تابندہ و جوان تو بخت رقیب تھےہم تیرہ روز کیوں غم ہجراں کو بھا گئے
بے زار زندگانی کا جینا محال تھاوہ بھی ہماری لاش کو ٹھوکر لگا گئے
واعظ کے ذکر مہر قیامت کو کیا کہوںعالم شب وصال کے آنکھوں میں چھا گئے
جس وقت اس دیار سے اغیار بوالہوسبد خوئیوں سے یار کے ہو کر خفا گئے
دنیا ہی سے گیا میں جونہی ناز سے کہااب بھی گمان بد نہ گئے تیرے یا گئے
اے مومنؔ آپ کب سے ہوئے بندۂ بتاںبارے ہمارے دین میں حضرت بھی آ گئے
۴۷ / ۵۶