کلامِ مومنردیف ی
ہوئی تاثیر آہ و زاری کی
۱
ہوئی تاثیر آہ و زاری کیرہ گئی بات بے قراری کی
۲
شکوۂ دشمنی کریں کس سےواں شکایت ہے دوست داری کی
۳
مبتلائے شب فراق ہوئےضد سے ہم تیرہ روزگاری کی
۴
یاد آئی جو گرمجوشیٔ یاردیدۂ تر نے شعلہ باری کی
۵
کیوں نہ ڈر جاؤں دیکھ کر وہ زلفہے شب ہجر کی سی تاریکی
۶
یاس دیکھو کہ غیر سے کہہ دیبات اپنی امیدواری کی
۷
بس کہ ہے یار کی کمر کا خیالشعر کی سوجھتی ہے باریکی
۸
کر دے روز جزا شب دیجورظلمت اپنی سیاہ کاری کی
۹
تیرے ابرو کی یاد میں ہم نےناخن غم سے دل فگاری کی
۱۰
قتل دشمن کا ہے ارادہ اسےیہ سزا اپنی جاں نثاری کی
۱۱
کیا مسلماں ہوئے کہ اے مومنؔحاصل اس بت سے شرمساری کی
۴۵ / ۵۶