کلامِ مومنردیف ے
صبر وحشت اثر نہ ہو جائے
۱
صبر وحشت اثر نہ ہو جائےکہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے
۲
رشک پیغام ہے عناں کش دلنامہ بر راہبر نہ ہو جائے
۳
دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہغش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے
۴
ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیںزندگی پردۂ در نہ ہو جائے
۵
کثرت سجدہ سے وہ نقش قدمکہیں پامال سر نہ ہو جائے
۶
میرے تغییر رنگ کو مت دیکھتجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے
۷
میرے آنسو نہ پونچھنا دیکھوکہیں دامان تر نہ ہو جائے
۸
بات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوںکہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے
۹
اے قیامت نہ آئیو جب تکوہ مری گور پر نہ ہو جائے
۱۰
مانع ظلم ہے تغافل یاربخت بد کو خبر نہ ہو جائے
۱۱
غیر سے بے حجاب ملتے ہوشب عاشق سحر نہ ہو جائے
۱۲
رشک دشمن کا فائدہ معلوممفت جی کا ضرر نہ ہو جائے
۱۳
اے دل آہستہ آہ تاب شکندیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے
۱۴
مومنؔ ایماں قبول دل سے مجھےوہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے
۴۸ / ۵۶