کلامِ مومنردیف ے

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

۱

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائےپر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

۲

باندھو اب چارہ گرو چلے کہ وہ بھی شایدوصل دشمن کے لیے سوئے مزار آ جائے

۳

کر ذرا اور بھی اے جوش جنوں جنوں خوار و ذلیلمجھ سے ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آ جائے

۴

نام بدبختی عشاق خزاں ہے بلبلتو اگر نکلے چمن سے تو بہار آ جائے

۵

جیتے جی غیر کو ہو آتش دوزخ کا عذابگر مری نعش پہ وہ شعلہ عذار آ جائے

۶

کلفت ہجر کو کیا روؤں ترے سامنے میںدل جو خالی ہو تو آنکھوں میں غبار آ جائے

۷

محو دل دار ہوں کس طرح نہ ہوں دشمن جاںمجھ پہ جب ناصح بیدرد کو پیار آ جائے

۸

ٹھہر جا جوش تپش ہے تو تڑپنا لیکنچارہ سازوں میں ذرا دم دل زار آ جائے

۹

حسن انجام کا مومنؔ مرے بارے ہے خیالیعنی کہتا ہے وہ کافر کہ تو مارا جائے

۴۹ / ۵۶