کلامِ مومنردیف ب
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
۱
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شبوہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
۲
واں طعنہ تیر یار یہاں شکوہ زخم ریزباہم تھی کس مزے کی لڑائی تمام شب
۳
رنگیں ہیں خون سر سے وہ ہاتھ آج کل رہےجس ہاتھ میں وہ دست حنائی تمام شب
۴
تالو سے یاں زبان سحر تک نہیں لگیتھا کس کو شغل نغمہ سرائی تمام شب
۵
یک بار دیکھتے ہی مجھے غش جو آ گیابھولے تھے وہ بھی ہوش ربائی تمام شب
۶
مر جاتے کیوں نہ صبح کے ہوتے ہی ہجر میںتکلیف کیسی کیسی اٹھائی تمام شب
۷
گرم جواب شکوۂ جور عدو رہااس شعلہ خو نے جان جلائی تمام شب
۸
کہتا ہے مہروش تمہیں کیوں غیر گر نہیںدن بھر ہمیشہ وصل جدائی تمام شب
۹
دھر پاؤں آستاں پہ کہ اس آرزو میں آہکی ہے کسی نے ناصیہ سائی تمام شب
۱۰
مومنؔ میں اپنے نالوں کے صدقے کہ کہتے ہیںان کو بھی آج نیند نہ آئی تمام شب
۲۳ / ۵۶