کلامِ مومنردیف ت
سودا تھا بلائے جوش پر رات
۱
سودا تھا بلائے جوش پر راتبستر پر بچھائے نشتر رات
۲
بگڑے تھے یہاں وہ آن کر راتبے طور بنی تھی جان پر رات
۳
ہم تا سحر آپ میں نہیں تھےکیا جانے رہے وہ کس کے گھر رات
۴
افسانہ سمجھ کے سو گئے وہکام آئی فغان بے اثر رات
۵
آئینے میں ہو نہ موم جادوسوتے نہیں اب وہ تا سحر رات
۶
تارے آنکھیں جھپک رہے تھےتھا بام پہ کون جلوہ گر رات
۷
اندھیرا پڑا زمانے میں ہائےنے دن کو ہے مہر نے قمر رات
۸
اس لیل و نہار غم نے ماراہے روز سے سیاہ تر رات
۹
کیا پوچھو ہو منکر و نکیر آہبگڑے جو وہ طعن غیر پر رات
۱۰
یہ بات بڑھی کہ مر گئے ہمموت آئی تھی قصہ مختصر رات
۱۱
اس گھر میں ہے عیش خلد مومنؔکیا جانے کہاں ہے دن کدھر رات
۲۴ / ۵۶