کلامِ مومنردیف ی
نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگی
۱
نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگینہ ہائے ہائے میں تالو سے شب زبان لگی
۲
جلا جگر تپ غم سے پھڑکنے جان لگیالٰہی خیر کہ اب آگ پاس آن لگی
۳
گلی میں اس کی نہ پھر آتے ہم تو کیا کرتےطبیعت اپنی نہ جنت کے درمیان لگی
۴
جفائے غیر کا شکوہ تھا تیرا تھا کیا ذکرعبث یہ بات بری تجھ کو بد گمان لگی
۵
ہنسو نہ تم تو مرے حال پر میں ہوں وہ ذلیلکہ جس کی ذلت و خواری سے تم کو شان لگی
۶
کہاں وہ آہ و فغاں دم بھی لے نہیں سکتےہمیں یہ تیری دعائے بد آسمان لگی
۷
میں اور اس کو بلاؤں گا روز وصل میں لواجل بھی کرنے محبت کا امتحان لگی
۸
برنگ صورت بلبل نہیں نوا سنجییہ کیا ہوا کہ چپ اے گلستاں بیان لگی
۹
سدا تمہاری طرف جی لگا ہی رہتا ہےتمہارے واسطے ہے دل کو مہربان لگی
۱۰
وہ کینہ توز تھا مومنؔ تو دل لگایا کیوںکہو تو کیا تمہیں ایسی بھلی وہ آن لگی
۴۲ / ۵۶