کلامِ مومنردیف ی
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
اگر غفلت سے باز آیا جفا کیتلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
مرے آغاز الفت میں ہم افسوساسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی
کبھی انصاف ہے دیکھا نہ دیدارقیامت اکثر اس کو میں رہا کی
فلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گرخبر لا دے کوئی تحت الثرا کی
شب وصل عدو کیا کیا جلا ہوںحقیقت کھل گئی روز جزا کی
چمن میں کوئی اس کو سے نہ آیاگئی برباد سب محنت صبا کی
کشاد دل پہ باندھی ہے کمر آجنہیں ہے خیریت بند قبا کی
کیا جب التفات اس نے ذرا ساپڑی ہم کو حصول مدعا کی
کہا ہے غیر نے تم سے مرا حالکہے دیتی ہے بیباکی ادا کی
تمہیں شور فغاں سے میرے کیا کامخبر لو اپنی چشم سرمہ سا کی
دیا علم و ہنر حسرت کشی کوفلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی
غم مقصد رسی تا نزع اور ہماب آئی موت بخت نارسا کی
مجھے اے دل تری جلدی نے مارانہیں تقصیر اس دیر آشنا کی
جفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھاکہ تو نے کس توقع پر وفا کی
کہا اس بت سے مرتا ہوں تو مومنؔکہا میں کیا کروں مرضی خدا کی
۴۳ / ۵۶