کلامِ مومنردیف ی
دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی
۱
دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کیہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی
۲
پردہ پوشی ضرور تھی اے چرخکیوں شب بوالہوس سیاہ نہ کی
۳
تشنہ لب ایسے ہم گرے مے پرکہ کبھی سیر عید گاہ نہ کی
۴
اس کو دشمن سے کیا بچئے وہ چرخجس نے تدبیر خسف ماہ نہ کی
۵
کون ایسا کہ اس سے پوچھے کیوںپرسش حال داد خواہ نہ کی
۶
تھا بہت شوق وصل تو نے توکمی اے حسن تابگاہ نہ کی
۷
عشق میں کام کچھ نہیں آتاگر نہ کی حرص و مال و جاہ نہ کی
۸
تاب کم ظرف کو کہاں تم نےدشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی
۹
میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کےتم نے اچھا کیا نباہ نہ کی
۱۰
محتسب یہ ستم غریبوں پرکبھی تنبیہ بادشاہ نہ کی
۱۱
گریہ و آہ بے اثر دونوںکس نے کشتی مری تباہ نہ کی
۱۲
تھا مقدر میں اس سے کم ملناکیوں ملاقات گاہ گاہ نہ کی
۱۳
دیکھ دشمن کو اٹھ گیا بے دیدمیرے احوال پر نگاہ نہ کی
۱۴
مومنؔ اس ذہن بے خطا پر حیففکر آمرزش گناہ نہ کی
۴۴ / ۵۶