کلامِ مومنردیف ح
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
۱
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرحاٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح
۲
آتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میںبنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح
۳
تشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرےسب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح
۴
مر چک کہیں کہ تو غم ہجراں سے چھوٹ جائےکہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح
۵
نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میںکم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح
۶
لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلیقربان تیرے پھر مجھے کہہ لے اسی طرح
۷
پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سےآئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح
۸
نے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہےکیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح
۹
معشوق اور بھی ہیں بتا دے جہان میںکرتا ہے کون ظلم کسی پر تری طرح
۱۰
ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سےکیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح
۲۶ / ۵۶