کلامِ مومنردیف ڑ

مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ

۱

مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑدوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ

۲

عاشق تو جانتے ہیں وہ اے دل یہی سہیہر چند بے اثر ہے پر آہ و فغاں نہ چھوڑ

۳

اس طبع نازنیں کو کہاں تاب انفعالجاسوس میرے واسطے اے بد گماں نہ چھوڑ

۴

ناچار دیں گے اور کسی خوب رو کو دلاچھا تو اپنی خوئے بد اے بد زباں نہ چھوڑ

۵

زخمی کیا عدو کو تو مرنا محال ہےقربان جاؤں تیرے مجھے نیم جاں نہ چھوڑ

۶

کچھ کچھ درست ضد سے تری ہو چلے ہیں وہیک چند اور کج روی اے آسماں نہ چھوڑ

۷

جس کوچہ میں گزار صبا کا نہ ہو سکےاے عندلیب اس کے لیے گلستاں نہ چھوڑ

۸

گر پھر بھی اشک آئیں تو جانوں کہ عشق ہےحقہ کا منہ سے غیر کی جانب دھواں نہ چھوڑ

۹

ہوتا ہے اس جحیم میں حاصل وصال جورمومنؔ عجب بہشت ہے دیر مغاں نہ چھوڑ

۲۷ / ۵۶