کلامِ مومنردیف ج

ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج

۱

ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آجناز کرتی ہے بے قراری آج

۲

اڑ گیا خاک پر غبار اپناہو گئی خاک خاکساری آج

۳

نزع ہے اور روز وعدۂ وصلہے بہر طور دم شماری آج

۴

مانع قتل کیوں ہوا دشمنجان ہی جائے گی ہماری آج

۵

تیرے آتے ہی دم میں دم آیاہو گئی یاس امیدواری آج

۶

کوئی بھیجے ہے دل کو پہلو میںکس نے کی اس سے ہمکناری آج

۷

اس کے شکوہ سے ہے اثر ظاہرکچھ تو کہتی ہے آہ و زاری آج

۸

اک نئی آرزو کا خون ہواہم ہیں اور تازہ سوگواری آج

۹

چھٹ گئے مر کے نیش ہجراں سےکام آئے ہے زخم کاری آج

۱۰

بیکسی کیوں ہے نعش پر مجمعکیا ہوئی تو مری پیاری آج

۱۱

بھولے حضرت نصیحت اے ناصحہے کسی کی تو یادگاری آج

۱۲

مومنؔ اس بت کو دیکھ آہ بھریکیا ہوا لاف دیں داری آجی آج

۲۵ / ۵۶