کلامِ مومنردیف ک
امتحاں کے لیے جفا کب تک
۱
امتحاں کے لیے جفا کب تکالتفات ستم نما کب تک
۲
غیر ہے بے وفا پہ تم تو کہوہے ارادہ نباہ کا کب تک
۳
جرم معلوم ہے زلیخا کاطعنۂ دست نارسا کب تک
۴
مجھ پہ عاشق نہیں ہے کچھ ظالمصبر آخر کرے وفا کب تک
۵
دیکھیے خاک میں ملاتی ہےنگہ چشم سرمہ سا کب تک
۶
کہیں آنکھیں دکھا چکو مجھ کوجانب غیر دیکھنا کب تک
۷
نہ ملائیں گے وہ نہ آئیں گےجوش لبیک و مرحبا کب تک
۸
ہوش میں آ تو مجھ میں جان نہیںغفلت جرأت آزما کب تک
۹
لے شب وصل غیر بھی کاٹیتو مجھے آزمائے گا کب تک
۱۰
تم کو خو ہو گئی برائی کیدرگزر کیجیئے بھلا کب تک
۱۱
مر چلے اب تو اس صنم سے ملیںمومنؔ اندیشۂ خدا کب تک
۲۹ / ۵۶