کلامِ مومنردیف ق
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
۱
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق
۲
اثر غم ذرا بتا دیناوہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق
۳
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشیںکہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق
۴
بوالہوس اور لاف جانبازیکھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق
۵
وصل میں احتمال شادی مرگچارہ گر درد بے دوا ہے عشق
۶
سوجھے کیونکر فریب دل داریدشمن آشنا نما ہے عشق
۷
کس ملاحت سرشت کو چاہاتلخ کامی پہ بامزا ہے عشق
۸
ہم کو ترجیح تم پہ ہے یعنیدل ربا حسن و جاں ربا ہے عشق
۹
دیکھ حالت مری کہیں کافرنام دوزخ کا کیوں دھرا ہے عشق
۱۰
دیکھیے کس جگہ ڈبو دے گامیری کشتی کا ناخدا ہے عشق
۱۱
اب تو دل عشق کا مزا چکھاہم نہ کہتے تھے کیوں برا ہے عشق
۱۲
آپ مجھ سے نباہیں گے سچ ہےباوفا حسن و بے وفا ہے عشق
۱۳
میں وہ مجنون وحشت آرا ہوںنام سے میرے بھاگتا ہے عشق
۱۴
قیس و فرہاد و وامق و مومنؔمر گئے سب ہی کیا وبا ہے عشق
۲۸ / ۵۶