کلامِ مومنردیف م

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

۱

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہمپر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

۲

ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی ہممنہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم

۳

ہم سے نہ بولو تم، اسے کیا کہتے ہیں بھلاانصاف کیجیے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم

۴

بیزار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتےشاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم

۵

اس کُو میں جا مریں گے مدد اے ہجومِ شوقآج اور زور کرتے ہیں بے طاقتی سے ہم

۶

صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیالو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم

۷

بے روئے مثلِ ابر نہ نکلا غبارِ دلکہتے تھے ان کو برقِ تبسم ہنسی سے ہم

۸

ان ناتوانیوں پہ بھی تھے خارِ راہِ غیرکیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم

۹

کیا گُل کھلے گا دیکھیے ہے فصلِ گُل تو دوراور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم

۱۰

منہ دیکھنے سے پہلے بھی کس دن وہ صاف تھےبے وجہ کیوں غبار رکھیں آرسی سے ہم

۱۱

ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنےہنسنے کے بدلے روئیں نہ کیوں گدگدی سے ہم

۱۲

وحشت ہے عشق پردہ نشیں میں دمِ بکامنہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشمِ پری سے ہم

۱۳

کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشناکیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم

۱۴

لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیںمومن نہ ہوں جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم

۳۰ / ۵۶