کلامِ سوداردیف الف

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا

۱

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویالذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا

۲

تصویر مری تجھ بن مانیؔ نے جو کھینچی تھیانداز سمجھ اس کا بہزادؔ بہت رویا

۳

نالے نے ترے بلبل نم چشم نہ کی گل کیفریاد مری سن کر صیاد بہت رویا

۴

جوئیں پڑی بہتی ہیں جا دیکھ گلستاں میںتجھ قد سے خجل ہو کر شمشاد بہت رویا

۵

آئینہ جو پانی میں ہے غرق یہ باعث ہےتجھ سخت دلی آگے فولاد بہت رویا

۶

یاں تک مرے مشہد سے ہے تشنہ لبی پیدااس سمت جو ہو گزرا جلاد بہت رویا

۷

سوداؔ سے یہ میں پوچھا دل میں بھی کسی کو دوںوہ کر کے بیاں اپنی روداد بہت رویا

۳ / ۶۱