کلامِ سوداردیف الف

صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا

۱

صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیاتس پہ شکوہ نہ کبھی میری زباں پر آیا

۲

راست کیشوں کی تف آہ سے ڈر اے سرکشتیر پھرتا نہیں جس وقت نشاں پر آیا

۳

موسم شیب میں بے فائدہ ہے لعب شبابکب ثمر دیوے ہے جو نخل خزاں پر آیا

۴

دل پر خوں کو مرے غنچۂ تصویر کی طرحلب وا شد نہ کبھی راز نہاں پر آیا

۵

چشم انجم پہ نہیں ابر سے وہ روز سیاہجو مرے دیدۂ خوں ناب چکاں پر آیا

۶

رات کو دیکھ کے اے ماہ تجھے غیر کے ساتھطعنہ زن دل کا مرے گل کے کتاں پر آیا

۷

ہو کے استاد دبستان سخن میں سوداؔشعر کے قاعدہ دانان جہاں پر آیا

۴ / ۶۱